مشرف عالم ذوقی کا ناول ۔۔۔۔۔ ”پوکےمان کی دنیا“ ایک جائزہ۔۔۔۔۔ ایم مبین
یہ کہنا تو درست نہیں ہےکہ اردو زبان میں ناول نگاری کی روایت کمزور رہی ہی۔ لیکن اس بات سےبھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دیگر زبانوں میں جتنےناول لکھےگئےیا آج دیگر زبانوں میں جتنےناول لکھےجارہےہیں اس کی بہ نسبت اردو میں بہت کم ناول لکھےجارہےہیں۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہےکہ جس زبان نےاپنےقارئین کو داستانوں کا چٹکارا دیا— ناولوں کی لذت اس زبان کےقارئین کو راس نہیں آئی— اس بات کا اقرار تو ساری دنیا کی ترقی یافتہ زبانیں کرتی ہیں کہ اردو میں عالمی معیار کےناول موجود ہیں۔ لیکن آج ہمارےپاس عالمی معیار کےناول نگار موجود نہیں ہیں۔ یہ حیف کی بات ہی۔ در اصل اس کی وجہ اردو قارئین کی قوت خرید اور مزاج ہی۔ اردو میں کتابیں کم بکتی ہیں یا بکتی نہیں یہ رونا تو ایک عام مصنف سےلےکر بڑےچھوٹےپبلشر سب ہی روتےہیں۔ کشمیر سےکنیا کماری تک ہر علاقےمیں جس زبان کےقارئین موجود ہیں اس زبان کےمصنف اپنی کتابیں ٠٠٥ کی تعداد میں اپنےخرچ سےشائع کر کےمفت میں تقسیم کرتےہیں تو بھی ان کےپاس سینکڑوں کاپیاں برسوں تک پڑی رہتی ہیں۔ شعری مجموعہ کا اس سےبدترین حال ہےتو افسانوی مجموعہ بھی اس سےاچھوتےنہیں ہیں۔ جہاں تک ناولوں کا تعلق ہےناولوں کےسلسلےمیں منظر نامہ دھندلا ہی۔ جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہےاردو میں ناول بہت کم لکھےجارہےہیں اور جو لوگ اردو میں باقاعدگی سےناول لکھ رہےہیں۔ ان کی تعداد انگلیوں پر گننےلائق ہیں۔ ان انگلیوں پر گننےلائق لوگوں میں ایک نام ایسا ہےجس پر اردو ناول نگاری کی آس ٹکی ہوی ہی۔ وہ نام ہےمشرف عالم ذوقی— مشرف عالم ذوقی فطرتاً، افسانہ نگار ہی۔ لیکن انہوں نےکبھی ناول نگاری سےاجتناب نہیں کیا بلکہ ناول نگاری میں وہ افسانو ںکی طرح سرگرم رہی۔ان کےناول ’مسلمان‘ بیان‘ پوکےمان کی دنیا‘ پروفیسر ایس کی عجیب داستان وایا سونامی وغیرہ اس بات کےثبوت ہیں۔ اور ان کا حال میں آیا ناول ’پوکےمان کی دنیا‘ اس بات کی تصدیق کرتا ہےاور سند بھی دیتا ہی۔ ایک اچھا افسانہ نگار اچھا ناول نگار ہوتا ہےکیونکہ اسےایک چھوٹےسےافسانےمیں اپنی بات کہنےکا فن حاصل ہوتا ہی۔ لیکن جب اس کےسامنےایک بڑی سائز کا کینوس رکھ دیا جائےتو وہ چھوٹےسائز پر بنائی تصویر کی بہ نسبت اور بہتر رنگوں، زاویوں، مناظر سےمزید خوبصوت تصویر بنا کر اپنےخیالات کا اظہار کر سکتا ہی۔ مشرف عالم ذوقی پر بھی یہ بات صادق ہوتی ہےاظہار کےلیےانہوں نےافسانو ںکا سہارا لیا لیکن جہاں انہیں محسوس ہوا وہ اپنےخیالات کی ترسیل افسانےکےذریعےنہیں کر پائیں گی۔ انہوں نےبلا جھجھک ناول کےفارم کا استعمال کر کےاردو زبان کو بیان، مسلمان اور پوکےمان کی دنیا جیسےناول دیئی— کیونکہ افسانےاور ناول کا موازنہ کسی فوٹو کی ایک فریم اور فوٹو البم کی طور پر کیا جاسکتا ہی۔ جیسےکسی خوبصورت جزیرےکا تصور اسی جزیرےکی کسی فریم میں لگائی ایک تصویر سےلگایا جاسکتا ہےلیکن کسی فوٹو البم میں شامل اس جزیرےکی مختلف تصویریں، مختلف مقامات کی تصویریں، مختلف زاویوں سےکھینچی ہوئی تصویر اس جزیرےکا اور زیادہ واضح اور خوبصورت تصور پیش کرتی ہی۔ مشرف عالم ذوقی کا ناول ’ پوکےمان کی دنیا‘ در اصل ایک فوٹو البم ہی۔ اس فوٹو البم میں کئی کیا سینکڑوں تصویریں، مختلف کردار کی، مختلف واقعات کی، مختلف افکار کی.... اور اس البم کی تصویر گردانی ، البم کی خوبصورتی کو نہ صرف واضح کرتی ہےبلکہ ان تصویروں کا گرویدہ بھی بناتی ہی— ٦٣٣ صفحات پر محیط مشرف عالم ذوقی کےاس ناول کا مرکزی خیال معاصر زندگی کےنئےپہلو ہیں— تو اس زندگی، افکار کی عکاسی کرنےوالےاسی ناول میں کئی کردار، واقعات تصورات شامل ہیں۔ مشرف عالم ذوقی نےاس ناول میں ’پوکےمان‘ کےتصور کو متعارف کرایا ہی۔ کس طرح گلوبلائزیشن اور سائنسی نیشنلزم کی وجہ سےایک چھوٹےسےخطےکی چیزیں، خیالات، احساسات افکار ایک آندھی طوفان کی طرح ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لےلیتےہیں اور ساری دنیا کےلوگوں کےذہنوں میں رچ بس جاتےہیں۔ ایک جاپانی کمپنی کا بنایا ہوا بچوں کےلیےانیمیشن سیریل کس طرح گلوبلائزیشن اور ملٹی نیشنل کلچر کی بدولت ساری دنیا کےبچوں میں نہ صرف مقبول ہوجاتا ہےبلکہ اس سیریل کےکردار ’پوکےمان‘ بچوں کےلیےجنون بن جاتےہیں— اس انیمیشن سیریل بنانےوالی کمپنی بچوں کےذہنوں پر اپنےسیریل کےکرداروں کےذریعےقبضہ کر لینےکےبعد ان کرداروں کےکارڈ ، کھلونے، ٹیٹو، پوسٹر فروخت کر کےکروڑوں ڈالر کماتی ہےاور بچےجن کو خریدنےحاصل کرنےکےلیےجنون کی حدوں سےگذر جاتےہیں۔ آج بھی ان ’پوکےمانوں‘ کا جنوں ساری دنیا کےبچوں پر چھایا ہوا— مشرف عالم ذوقی کےاس ناول ’پوکےمان کی دنیا‘ کا ایک کردار ایک معصوم بچہ ہی۔ جسے’پوکےمان‘ جمع کرنےکا جنون ہےاس نےتمام پوکےمانوں کےکارڈ، پوسٹر ٹیٹو جمع کر رکھےہیں۔ اسےان پوکےمانوں کےبارےمیں اتنی معلومات ہےجتنی اپنی درسی کتابوں کی بھی نہیں ہی۔ وہ ان پوکےمانوں کےنام خصوصیات وغیرہ کےبارےمیں سب کچھ بتا سکتا ہی۔ اس معصوم بچےروی جس کی عمر مشکل سے٠١۔٢١ سال ہوگی کےہاتھوں اپنی ایک ہم جماعت لڑکی جس کی عمر بھی تقریباً اتنی ہی ہوگی کا ’بلاتکار‘ ہوجاتا ہی— اس لڑکی کا تعلق دلت سماج سےہی— دلت سماج سےتعلق رکھنےوالا اسی لڑکی کا باپ اس واقعہ سےسیاسی فائدہ اٹھانا چاہتا ہےاور وہ اس واقعہ کو دلتوں کےذریعی’ سورنوں‘ کا استحصال کا سیاسی نعرہ بنا کر ایک سیاسی جنگ چھیڑ دیتا ہی۔ ایک فرض شناس جج سنیل کمار رائےجس کی عدالت میں یہ مقدمہ لایا جاتا ہی— اس کو اس کیس کا فیصلہ کرنا ہی۔ اس پر اس کیس کےلیےبہت دباو ¿ ہی۔ اس کےفیصلےمیں ذرا بھی لغزش نہ صرف اس کی زندگی بدل سکتی ہےبلکہ ایک طوفان اٹھا سکتی ہی— اس کےفیصلےپر ایک معصوم لڑکےروی کنچن کی زندگی کا دار و مدار ہی— پوکےمانوں سےکھیلنےولا، ان کےبارےمیں ہر طرح کی معلومات رکھنےوالا، انہیں جنون کی حد تک چاہنےوالا، انہیں پاگل پن کی حد تک جمع کرنےولا ایک ٠١۔٢١ سال کا معصوم سا لڑکا روی کنچن کیا کسی ٩۔٠١ سال لڑکی کا ’ریپ‘ کرسکتا ہی؟ کیا سچ مچ وہ ’ریپ‘ ہوا ہوگا؟ اسےایسا کرنےسےریپ کی لذت ملی ہوگی۔ ایسےسینکڑوں سوالات سنیل کمار کو رات دن کچوکےلیتےرہتےہیں— دوسری طرف سیاسی لیڈران اس معاملےکی آگ سےاپنی روٹیاں سینکنےکےلیےتیار ہیں— وہ اس معاملی، اس معاملےکےفیصلےکا زیادہ سےزیادہ سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتےہیں۔ بھلےہی اس ناول کی مرکزی کہانی اس واقعہ کےگرد گھومتی ہےلیکن اس ناول میں سینکڑوں ایسےواقعات ہےجو قارئین کو نہ صرف جھنجھوڑتےہیں بلکہ انہیں بہت کچھ سوچنےکےلیےمجبور کر دیتےہیں— کئی ایسےکردار ہیں— ان کرداروں کےطور طریقےہیں جو آج کی سوسائٹی کےاگر عادات و اطوار ہیں تو اس سوسائٹی سےکٹےلوگوں کےلیےوہ اطوار گھن سےہیں۔ یہ ذوقی کےنسل کےلوگوں کا درد ہی— ان خیالات اور افکار کا اظہار مشرف عالم ذوقی کی نسل کےلوگ ہی کرسکتےہیں— جبکہ نئی نسل کےلیےان افکار احساسات کی کوئی اہمیت نہیں ہےان کی نظر میں یہ خیالات احساسات افکار دقیانوسیت ہی— پورےناول میں یہ ٹکراو ¿ جگہ جگہ نظر آتا ہی— اس ٹکراو ¿ میں ہر بار لاکھ ذوقی کےنسل کےلوگوں کےاحساسات ، افکار خیالات حاوی ہوتےہیں۔ لیکن جیت نئی نسل کی ہی ہوتی ہیں۔ ذوقی کی نسل کےلوگوں کو اس نئی نسل کےسامنےسرینڈر کرنا ہی پڑتا ہی— سرینڈر کرنےکےبعد وہ اپنےآپ کو کچھ ایسی بےبسی کی حالت میں محسوس کرتےہیں کہ نہ تو اپنی شکست کا ماتم کرپاتےہیں نہ اپنےحاوی ہونےکا جشن منا پاتےہیں— پورےناولوں میں مصنف کےقلم سےنکلا ایک لاوہ ہےجو ان انفکار کو لیکر جگہ جگہ پھٹتا ہےاور کئی کئی صفحات تک پھیلتا جاتا ہی— مشرف عالم ذوقی کی سلیس زبان اور اسلوب ہےجو قارئین کو باندھےرکھتی ہےاور وہ پورا ناول ختم کر کےہی چین لیتا ہی— بہت کم ناولوں میں اتنی کشش ہوتی ہیں جو آخری صفحہ تک قارئین کو باندھےرہی— پوری ناول میں ذوقی نےاپنی بات کےاظہار کےلیےلمبےلمبےپیراگراف کا سہارا نہیں لیا۔ بلکہ چھوٹےچھوٹےجملوں کےسہاری، ان جملوں کی سحر کاری کےذریعےاپنی بات کہی ہےاور قارئین کےذہن پر ان جملوں کےذریعےایسا اثر اور تاثر چھوڑا ہےکہ ناول ختم کرنےکےبعد بھی قارئین کےذہن میں وہ جملےگھومتےرہتےہیں.... ’کون سا سچ؟ ورلڈ ٹریڈ ٹاور سےافغانستان اور عراق تک— دنیا کی سب سےاونچی عمارت کو ایک ہوائی جہاز اپنےطاقتور بم سےمسمار کرتا ہوا گذر جاتا ہےیہ بھی فنٹاسٹی ہی.... ایک حیرت انگریز فنٹاسٹی.... ایک آدمی امریکہ میں بیٹھا رموٹ کنٹرول سےتم پر حکومت کرتا ہی۔ یہ ہےفنٹاسی تمہارےاسپائیڈر ، مانچو، فینٹم سےزیادہ طاقتور.... تم لوگ ہیری پوٹر کےدور میں جی رہےہو۔ اور بقول تمہارےتمہارا سو پر کمپیوٹر کرائم کرتا ہی— یہ ہےفنتاسی تمہارےعہد کی— تمہارےخوابوں کی فنٹاسی۔ تیر بھالوں کی جگہ لڑائیوں اور جنگ کےانداز بدل گئےہیں۔ کوئی ایک بھیانک ایٹم بم.... ہیروشیما اور ناگاساکی بھی اس فنتاسی کا حصہ تھےاور اس کےبعد؟ اس فنٹاسی نےاپنی ترقی کی منزلوں کو بھیانک سےبھیانک ہتھیار کو بھی.... ایک معمولی سا کھلونا بنا دیا ہی۔ یہ ہےفنٹاسی.... تمہارےہیروز کھوٹتےہیں۔ رامائین، مہابھات، مہابلی ہنومان کی کہانیوں میں تمہارےدلچسپی اس لیےختم ہوگئی ہےکہ اس سےبڑی فنتاسی تمہارےدرمیان آگئی ہی.... ذوقی کو اپنی قدیم روایتوں سےپیار ہی۔ ان کی پاسداری نہ صرف اسےایک ذہنی سکون دیتی ہےبلکہ اسی میں اس کو اپنی ’مکتی‘ محسوس ہوتی ہی— ذوقی کی نسل کےلاکھوں کروڑوں انسان اس روایت کےپاسدار امین ہیں۔ لیکن گلوبلائزیشن کا عفریت ان روایتوں کو بےرحمی سےنگل رہا ہےانہیں فنا کر رہا ہےاور ذوقی کی نسل بےبسی سےخاموشی سےاس منظر کو دیکھ رہی ہی۔ وہ احتجاج کرنا چاہتی ہےلیکن احتجاج نہیں کرپا رہی ہی۔ کیونکہ ان کی جنگ ایک سسٹم سےہی۔ نظام جو کسی شہر، ریاست یا ملک تک محدود نہیں جو ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہی— اور اتنےبڑےپیمانےپر جنگ لڑنا ذوقی کی نسل کےبس کی بات نہیں ہی— لیکن پھر بھی انہوں نےہمت نہیں ہاری ہی۔ وہ ان کےبرےاثرات کےخلاف آواز اٹھا رہےہیں اپنےقلم کےذریعی۔ وہ اپنےقلم سےاس نظام کےخلاف گالیاں نہیں اگل رہےہیں بلکہ اس کلچر اور اس کلچر میں رنگےانسانوں کی قلمی تصویریں پیش کر رہےہیں— جج سنیل کمار کی بیٹی ، بیٹےاور دیگر چند کردار جو ذوقی نےاسی ناول میں پیش کیےہیں اس کلچر کا ایک حصہ ہی۔ اسی کلچر میں رنگی، بسےڈھلےہیں۔ ذوقی نےبڑی مہارت سےان کرداروں کی زندگی کا نہ صرف اسکیچ پیش کیا ہےبلکہ ان کےاحساسات، ان کےافکار، خیالات کو بھی پیش کیا ہی۔ ان کی زندہ جاوید تصویریں قارئین کےسامنےپیش کردی ہیں۔ اور ایک سوال کھڑا کردیا ہی۔ ”ہم اس نسل کی پرورش کر رہےہیں— اس نسل کا انجام بھلےہی کچھ بھی ہو— لیکن ہم کو اپنی روایتوں کو یہاں دفن کر کےاسی نسل کےدرمیان جینا ہی۔ اگر ہم دل میں جینےکی تمنا رکھتےہیں۔ اس نسل کےرنگ میں رنگےلیڈر جےچنگی جیسےلیڈران ہیں جن کےلیےاپنا مفاد ہی سب کچھ ہیں جس مفاد کےلیےوہ اپنی بیٹی کو سر عام ذلیل کرنےمیں بھی فخر محسوس کرتےہیں— ’پوکےمان ‘ سےکھیلنےوالےبچےروی کنچن کےہاتھوں جو گناہ سرزد ہوتا ہےیا ہوتا بھی ہےیا نہیں لیکن جس کےلیےاتنا پاکھنڈ پھیلایا جاتا ہےاس کیس کا فیصلہ جج سنیل کمار کو کرنا ہےپوری سچائی اور ایمانداری سی— ناول کا سب سےخوبصورت باب جج سنیل کمار کےفیصلےکےصفحات ہیں ان صفحات میں ذوقی نےاپنی ساری تخلیقی صلاحیتوں کو بروئےکار لاکر ایسےخیالات پیش کیےہیں جو قارئین کو نہ صرف گم سم کر دیتےہیں بلکہ بہت کچھ سوچنےکےلیےمجبور کردیتےہیں۔ خاص طور پر فیصلےکی یہ چند سطور— ’روی کنچن بےقصور ہےاور اس پورےمعاملےکا اس سےکوئی سروکار نہیں ہی۔ ایک چھوٹےسےپوکےمان کی غلطی کو نظر انداز کرنےمیں ہی ہم سب کی بھلائی ہی— لیکن اس کےباوجود کوئی نہ کوئی مجرم ضرور ہی۔ اور جو مجرم ہےاسےسخت سےسخت سزا تو ملنی ہی چاہئےاس لیی— میں پورےہوش و حواس میں یہ فیصلہ سناتا ہوں کہ تعزیرات ہند دفعہ 302کےتحت میں اس نئی ٹیکنالوجی، ملٹی نیشنل کمپنیز، کنزیمو کلچر، کنزیومر ورلڈ، گلوبلائزیشن کو سزائےموت کا حکم دیتا ہوں— ہینگ ٹل ڈیتھ۔ موضوعاتی اعتبار سےمشرف عالم ذوقی کا ناول ’پوکےمان کی دنیا‘ اردو میں ہی نہیں میں سمجھتا ہوں ہندوستانی زبانوں کا واحد ناول ہےجس میں اس موضوع کا احاطہ کیا گیا ہےجو ہمارےسماج کا ناسور بن گیا ہےاور دھیرےدھیرےاس سماج کی اقدار کو ختم کر رہا ہی۔ اس ناسور کےخلاف ذوقی کی لڑائی اکیلےذوقی کی لڑائی نہیں ہے۔ اس ناول کو پڑھنےکےبعد حساس دل قارئین اس جنگ کی اہمیت کو سمجھ کر ذوقی کےساتھ اس جنگ میں شامل ہوجائیں گی۔ ذوقی سےاس جنگ کو جاری رکھنےکی استدعا کرتا ہوں میں ان سےمستقبل میں ایسی موضوعات پر کچھ اور تخلیقات کی امید رکھتا ہوں— ایم۔ مبین ٣٠٣۔ کلاسک پلازا، تین بتی بھیونڈی، ضلع تھانی، مہاراشٹر
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.