ایک انجانے خوف کی ریہرسل۔۔افسانے۔۔۔مشرف عالم ذوقی
  
حالانکہ اس پورے سلسلۂ واقعہ کو جسے آپ ابھی اس کہانی کے ذریعے جاننے کی کوشش کریں گے کسی نا قابل یقین یا ڈرامائی صورتحال سے جوڑ کر دیکھنا مناسب نہیں ہے، لیکن شاید کچھ سچ بڑے عجیب اور چونکانے والے ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں، زندگی میں آپ کو کسی ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے یا نہیں، جب زبان گنگ ہو جاتی ہے اور مکالموں کی جگہ صرف گہری خاموشی، دستک یا آہٹیں رہ جاتی ہیں۔ جو اچانک ہی سناٹے میں آپ کو چھو کر کہتی ہیں … ’کوئی ہے — ‘ بس ایسے ہی ایک نادر یا کمیاب لمحہ اچانک اس کہانی کا جنم ہو گیا۔ ۔ ماحول خاموش اور بے جان تھا۔ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے خاموش اور بے جان ماحول میں آپ دشینت کی طرح پتھر اچھال کر کوئی ہلچل یا کسی جرأت کی امید نہیں کر سکتے۔ اس وقت سب کچھ توقع کے مطابق تھا۔ یعنی جیسا شانتنو نے سوچا تھا۔ چمکتے لیکن ٹھنڈے اداس سورج کے ساتھ کا ایک دن — موسم خزاں کی ایک بوجھل صبح اور گارڈن میں لگے ’سنے ‘، گل بہری اور ’ٹیلی‘ کے بے رس پھولوں کی قطار‘ جسے کچھ دن پہلے ہی وہ اپنے ’ایلیسیشئن فری‘ پبلشر سے لے کر آیا تھا۔ اس میں کہیں کوئی چونکنے جیسی یاقابل اعتراض بات نہیں ہے۔ برنارڈ شاہ کی طرح اگر آپ مرد کے وقار اور ’’سپرمین‘‘ ہونے کی خواہش کو دلائل سے بیان کرتے رہے ہوں تو ممکن ہے اس ’’ایلیسیشئن فری‘‘ کی تمثیل سے آپ کو انسان ہونے کے عظیم خطاب کے ساتھ تھوڑی سی چوٹ پہنچے۔ اس لیے تھوڑی سی معافی کے ساتھ، کہ شانتنو کے لیے وہ فرنگی پبلشر اس سے زیادہ داد پانے کا مستحق نہیں تھا۔ ’’ہوس ہے دوراہے پر‘‘ کی غیر متوقع کامیابی کے بعد شانتنو کے پاس آئے اسی فرنگی پبلشر نے کچھ اداسی، کچھ گہری تکلیف سے گذرتے ہوئے کہا تھا — ’معاف کیجیے گا، آپ سے ملاقات کے لیے ایک بے افسوسناک دن کا شگون نکلوانا پڑا‘ ’بے حد افسوسناک دن‘ … ؟ ’آج میں نے اپنا پرانا وفادار ایلیسیشئن بیچ دیا، مگر نقصان میں نہیں رہا شانتنو — ‘ کتابوں کی سیل کی طرح اس کی تھرکتی انگلیوں پر ایلیسیشئن ڈاگ کا پورا حساب موجود تھا — اس کا ایک الگ کمرہ — کمرہ میں اس کی سجاوٹ میں اتنے روپے لگے۔ کھانے میں اتنے۔ اس میں وفاداری اور پیار کی کہیں کوئی تفصیل نہیں تھی۔ اس طرح قاعدہ سے دیکھیں تو فرنگی پبلشر (جو تھا تو ہندوستانی، مگر انگریزی کتابوں کا پبلشر ہونے اور اس کے رہن سہن کا خیال کرتے ہوئے شانتنو کو یہی نام مناسب لگا) کے لیے ایلیسیشئن کو بیچنا کہیں سے بھی گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔ اور اسی کے مطابق کولکتہ میں رہنے والی مارگریٹ ایلیاکو اس کی شائع شدہ تمام کتابوں میں یہ ڈاگ اتنا پیارا لگا کہ وہ اسے ہر قیمت پر خریدنے کے لیے تیار ہو گئی۔ اس طرح ایک فیصد جذبات اور ننانوے فیصد خالص تجارتی سطح پر ایلیسیشئن کا سودا ہوا — اور مس مارگریٹ اپنے تھل تھل سینے سے ایلیسیشئن کو چپکائے کچھ دیر تک اس سے اپنا پن کا احساس کرتی رہی، پھر اسے لے کر سیدھے فلائٹ سے فرّ … ہو گئی — مہا شویتا کے دیس یا ’نذرل‘ کے گاؤں — تو قصۂ کوتاہ، ذکر آیا تھا، ’سنے ‘ گل بہری اور ٹیلی کے بے رس پھولوں کا — تو یہ وہی ایلیسیشئن فری پبلشر تھا جو اس کے لیے خاص طور پر لایا تھا اور بدلے میں شانتنو نے اس سے جو چند سوالات کئے، وہ کچھ اس طرح ہیں۔ --- یہ پھول کہاں ہوتے ہیں ؟ اٹلی میں ‘ --- کیا اٹلی کی عورتوں کو بھی یہ پھول پسند ہیں ؟ --- انتہائی ذمے داری کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہیں — کیوں کہ سوائے خوبصورت ہونے کے، ان میں کوئی مہک نہیں ہے۔ --- کیا اس سے یہ مطلب لیا جائے کہ عام طور پر خوبصورت عورتوں میں چمک یا مہک کی کمی ہوتی ہے ؟
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.