آتش رفتہ کا سُراغ(بٹلہ ہاؤس انکاؤٹر پر مبنی ناول)۔۔۔۔۔۔۔مشرف عالم ذوقی
  
AATISHE RAFTA KA SURAGH---MUKHTASAR BAAB..APKE MUTAALIYE KE LIYE by Zauqui Musharraf Alam
آتش رفتہ کا سُراغ(بٹلہ ہاؤس انکاؤٹر پر مبنی ناول)۔۔۔۔۔۔۔مشرف عالم ذوقی

نوٹ: یہ ناول بٹلہ ہاؤس انکاؤٹر پر مبنی ہے۔ بٹلہ ہائوس برسی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا ایک اہم باب قارئین کے لیے پیش خدمت ہے) مجھے ایک چھوٹی سی سرنگ سے گزار کر ایک بڑے ہال نما کمرے میں لے جایا گیا۔ اوراچانک میں ٹھہر گیا۔ کمرے سے بندے ماترم کے بول ابھررہے تھے۔ سنگھ کے مخصوص لباس میں 18 سے 20 لڑکے تھے جو قطار میں کھڑے سر میں بندے ماترم گارہے تھے۔ ان کی پشت کی دیوار سفید اورخالی تھی۔ جو لڑکے بندے ماترم گارہے تھے، وہ تربیت یافتہ لگ رہے تھے۔ اوران میں سب سے الگ وہ آدمی بھی تھا جس کا نام اجے سنگھ تھاپڑ تھا۔ایک بجلی چمکی اور مجھے حیران کرگئی—گیت ختم ہوچکا تھا۔ تھاپڑ میرے سامنے تھا۔ اس کی شکل بدلی ہوئی تھی۔ لباس بدلا ہوتھا۔ اس وقت وہ سفید کرتا پائجامہ میں تھا۔ سر پر سفید سی ٹوپی تھی، جیسی ٹوپیاں عام طور پر سنگھ کے لوگ پہنتے ہیں— مجھے دیکھ کر بھی اس کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ نہیں تھی۔’آئو میرے ساتھ۔‘اس کا لہجہ برف کی طرح سرد تھا— اب ہم اس کمرے میںتھے جو ایک طرح سے اس کی لیباریٹری تھی۔ کمرے میں ایک قطار سے چار کمپیوٹر تھے جن کو آپریٹ کرنے والے چار لڑکے تھے۔ کمرے میں خوشبودار اگربتی کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔ کچھ کتابچے اور پوسٹر تھے جو آسانی سے اپنی کہانی بیان کرگئے تھے کہ اس وقت میں کہاں ہوں… ایک معمولی سی میز اورکرسی تھی۔ سامنے والی کرسی پر تھاپڑ بیٹھ گیا۔ اور مجھے بیٹھنے کااشارہ کیا—
اس کی آنکھیں مجھے بغور دیکھ رہی تھیں…’شاید تمہارے لیے اب یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ میں کون ہوں؟‘’ہاں۔‘ میری آواز بھی سرد تھی۔’کچھ اشارے ان پوسٹرس اوران کتابچوں سے مل گئے ہوںگے۔ میں نمائش میں یقین نہیںرکھتا۔ اس لیے میرے آفس سنبھالنے کے بعد دیواروں سے ساری تصویریں اتارلی گئیں۔ کوئی ایسا پمفلٹ بھی مشکل سے ملے گا جس سے نشاندہی ہوسکے کہ ہم کیا کرنے جارہے ہیں—یہاں 30 بچے ہیں جو میری نگرانی میں کام کرتے ہیں—‘ اس نے ٹھنڈی سانس بھری— ’میں کالج کے دنوں سے ہی اس تحریک سے وابستہ تھا۔ مگر میری وابستگی کی شکل مختلف تھی۔ میں نے سنگھ کو جوائن کرنے کے بعد ہی اپنا فیصلہ سنادیا تھا— مجھے مسلمانوں کو سمجھنے دیجئے۔ اس میں زندگی بھی گزرسکتی ہے۔ لیکن مسلمانوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ اور مشکل یہ ہے کہ ابھی تک ہم بغیر مسلمانوں کو سمجھے اپنا کام کیے جارہے تھے… سنگھ کی طرف سے ہری جھنڈی ملتے ہی میں اپنے کام میں لگ گیا— اور یقینی طور پر سنگھ مسلسل میرے کاموں پر نظررکھ رہا تھا۔ پھر مجھے تم مل گئے… مجھے ایک مسلمان کو مکمل طور پر جاننے اور سمجھنے کے لیے ایک مسلمان گھر کی ضرورت تھی— اور تم میری یہ مشکل آسان کیے جارہے تھے…‘
تھاپڑ سنبھل سنبھل کے بول رہاتھا۔ میرے جسم میں جیسے برف جم چکی تھی۔ سرد برف… میں اس کی طرف دیکھ رہاتھا۔ تھاپڑ کی بے جان آنکھوں میں میرے لیے نہ کوئی جذبات تھے، نہ احساس بلکہ آنکھوں کی پتلیاں ساکت اور بے جان معلوم ہوئیں—
’میں اپنی کیفیت ،اپنے تجربے تحریری طور پر سنگھ کو دے رہا تھا۔ اور میرا مقصد واضح تھا۔ آپ ایک جنگ اس وقت تک نہیں لڑسکتے جب تک آپ ایک مسلمان فکر کو اندراندر تک سمجھ سکنے سے محروم رہتے ہیں— میں نے کہہ رکھاتھا، ہوسکتا ہے میری زندگی اس تجربے میںختم ہوجائے مگر میرے بعد یہ تحریریں سنگھ کے کام آئیں گی— کیونکہ آزادی کے بعد کے مسلمانوں کو سمجھنا آسان کام نہیں۔ یہ کئی حصوں میں بٹے ہوئے لوگ ہیں۔ ایک بڑی آبادی تعلیم سے بے بہرہ ہے— مڈل کلاس مذہب اورسیکولرزم کے درمیان پناہ تلاش کررہا ہے۔ اِلیٹ کلاس کے طبقے کی فکر الگ ہے۔ ایک نظام ایسا بھی ہے جہاں اسلام کی ترویج وارتقاء کے لیے باہر سے پٹروڈالر آرہے ہیں۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر نظر رکھتے تھے— ان باتوں سے زیادہ یہ سمجھنا کہ تم لوگ عام زندگی کیسے گزارتے ہو۔ تمہاری زمین کیا ہے؟ تمہاری زمین کے مسائل کیا ہیں؟ تم کن سطحوں پر سوچتے اور جھکتے ہو۔ تمہیں کیسے کمزور کیا جاسکتا ہے۔ ہاں۔ تمہیں کیسے داس بنایاجاسکتا ہے— اور میں کہہ سکتا ہوں، یقینی طور پر اس تجربے میں تم میرا پورا ساتھ دے رہے تھے—
تھاپڑ ایک لمحے کو ٹھہرا—اب وہ بغور میری طرف دیکھ رہاتھا، جیسے اس وقت کے میرے جذبات یااحساس کو سمجھنا چاہتا ہو— میری مٹھیاں بار بار بند اور کھل رہی تھیں۔ آنکھوں میں اندھیرا اتر آیا تھا—
’ایک بڑی جنگ— ایک عقیدے کو باریکی سے سمجھنے کے لیے ایک زندگی بھی کم ہوتی ہے— میں تمہاری مضبوطی اور تمہاری کمزور یوں کو سمجھنا چاہتاتھا۔ اور میں بہت حد تک سمجھ بھی گیا تھا۔ میرے لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو جاننا ضروری تھا۔ تمہارا بادشاہ بابر جب پہلی بار ہندوستان آیا تھا تو جانتے ہو اس نے اپنے فوجیوں سے کیا کہاتھا— یہ ہندوئوں کا ملک ہے۔ ہندو سیدھے اور شریف ہوتے ہیں۔ انہیں سمجھنا ہے تو قوت بازو سے نہیں، ان سے گھل مل کر انہیںسمجھنا شروع کرو— ہم تمہیں یعنی ایک عام مسلمان کو اتنا ہی جانتے تھے، جتنا باہر کی دنیا میں دیکھتے تھے، پھر تمہاری کمزوریوں سے ،تمہاری عام روٹین سے واقف کیسے ہوتے۔ اوران کے بغیر تم پر حکومت کیسے کرتے۔‘
تھاپڑ کی آواز سرد تھی۔’ ہم شانتی سے رہنے والے لوگ تھے۔ یہ ہماری زمین تھی— آریہ ورت۔ اور یہاں تم نے اپنے ناپاک پائوں پھیلادیے ۔ 700 برسوں کی غلامی ہمارے نام لکھ دی۔ ہم سب کچھ برداشت کرتے رہے۔ یہ سوچ کر، کہ ایک دن… ایک دن ہم تمہارے وجود سے اس زمین کو پاک کردیںگے۔ سمجھ رہے ہو نا تم… اس کام میں وقت لگے گا۔ لیکن… یہ کریںگے ہم۔ ہم بھارت کو ایک جمہوری مملکت کے بجائے ایک ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں۔ ایک ایسی ہندو مملکت جہاں صرف ہماری حکومت ہو۔ اوراس لیے آزادی ملنے کے بعد سے ہی ہم نے سابق فوجی افسروں کو ملانا شروع کیا۔ چھوٹی موٹی کامیابیوں سے ہمارے حوصلے بلند ہوئے۔ ناکامیوں سے ہم گھبراتے نہیں— کیوں کہ ہر ناکامی آگے آنے والی کامیابی کی دلیل ہوتی ہے— لیکن…‘تھاپڑ کے چہرے کا رنگ بدلاتھا— تمہارے بیٹے نے سب گڑ بڑ کردیا۔ وہ اسی راستے پرچلا، جس راستہ پر ہم چلے تھے۔ ہم اسے مار سکتے تھے۔ لیکن ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ اس نے وہ کیا، جو سوسال میں ہم نہیں کرپائے۔ اس نے ہندو تیرتھ استھانوں کو چنا— مندروں اورآشرم کوچنا— اوراپنی شناخت کے ساتھ ہمارے دھرم گروئوں کا دل جیتتا چلا گیا— سنگھ میں گھبراہٹ تھی۔ لوگ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کون ہے اورکیا کرنا چاہتا ہے۔‘تھاپڑ ایک لمحے کو ٹھہرا۔ وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ پشت پر ہاتھ باندھے وہ ٹہلنے لگا— مجھے ساری زمین گھومتی ہوئی محسوس ہورہی تھی— ذہن ودماغ پر مسلسل دھماکے ہورہے تھے۔ میں کچھ بھی نہیںدیکھ رہا تھا۔ آنکھوں کے آگے گہرے سناٹے کا جال بن دیاگیاتھا—
تھاپڑ کرسی پرآکر بیٹھ گیا ۔اس نے میری طرف دیکھا ۔
’اسامہ ہم سے دور دو قدم آگے تھا۔ جانے انجانے وہ اپنی قوم کے لیے ہمارے مشن جیسا کام کررہاتھا۔ وہ بھی ہم سے دوقدم آگے بڑھ کر۔ ہرجگہ اپنی پہچان کو محفوظ رکھتے ہوئے— تم سمجھ رہے ہونا، اورہم… اب تک ناکامیاب اس لیے رہے کہ ہم مہرے تو چلتے رہے لیکن اپنی پہچان چھپا کر…‘ میرے اندر خوف کی بارش ہورہی تھی۔’تم لوگ اسے مارتو نہیں ڈالو گے۔‘ ’بالکل بھی نہیں۔‘
تھاپڑ کا لہجہ سرد تھا—’ انسان کو مارا جاسکتا ہے—و چاردھاراکو نہیں۔ وہ ایک وچار دھارا ہے کہ ہوا کارخ یوں بھی بدلا جاسکتا ہے— ہمارے لیے وہ جب تک زندہ ہے۔ ایک ادھین کیندر ہے۔ سمجھ رہے ہو نا— سیکھنے کی جگہ ہے وہ —اسے ماردیںگے تو بہت کچھ سمجھنے سے ونچت رہ جائیں گے۔ اسے سمجھنا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ چھپ کر اس کی کارروائیوں کودیکھنا ہے۔ اورمورکھ، تم سمجھ رہے تھے کہ میں تمہاری مدد کررہا ہوں— جبکہ میں اپنے سوا رتھ میں اسے تلاش کررہاتھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ نہیں ملے گا—‘
تھاپڑ مسکرایا۔’ آئو تمہیں اپنے مشن کے کچھ ساتھیوں سے ملوائوں…‘
میں اٹھ کھڑا ہوا۔ اس وقت میری موجودگی کسی روبوٹ یا غلام جیسی تھی جسے اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کرنی تھی۔ ایک چھوٹے سے ہال میں لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر اسکرین پر کام کرتے ہوئے آپریٹر ہمارے قدموں کی آہٹ کے باوجود اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ اسکرین پر عربی الفاظ جگمگارہے تھے… میںحیرت سے لیپ ٹاپ اورکمپیوٹر اسکرین کودیکھ رہا تھا…’یہ سب۔‘ ’تمہاری تحریکیں ڈیزائن کی جارہی ہیں۔ اسلامی ویب سائٹس تیار کیے جارہے ہیں۔‘ ……………’مطلب؟‘’ایک بڑی جنگ کے لیے تمہارا Shadow بننے کی تیاری—‘ ان لوگوں سے ملو۔ یہ رابن ہے۔ یہ اروند پارلیکر، یہ ارجن رام دیو… یہ گنیش شریواستو… یہ سارے لوگ عربی جانتے ہیں۔ یہ سب اپنے اپنے کام میں ماہر ہیں— دراصل تم سے ملنے کے بعد…‘تھاپڑمجھے لے کر ایک دوسرے کمرے میں آیا… اوراچانک میرے جسم میں میزائلیں چھوٹنے لگیں۔ میں ہکابکا ساوہ منظر دیکھ رہا تھا۔ سامنے کمرے میں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا۔ اس کے پیچھے جماعت کھڑی تھی۔ میں نے گھڑی دیکھی۔ ساڑھے تین بجے تھے۔ یہ کوئی نماز کاوقت نہیں تھا۔ امامت کرنے والے شخص کی قرأت میری روح کومعطر کررہی تھی۔ ایسی شاندار قرأت میں نے کیوٹی وی اور پیس ٹی وی پر توسنی تھی مگر یہاں، اس ماحول میں اس تعلق سے سوچنا میرے لیے کسی خواب کی مانند تھا…میں حیران نظروں سے تھاپڑ کو دیکھ رہاتھا…’ یہ … یہ لوگ…‘ ’آئو۔ میرے ساتھ۔ نماز پڑھنے کے بعد یہ لوگ سیدھے میرے کمرے میں آئیںگے۔ تمہیں یاد ہے۔ میں نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔ یعنی تم سے ملنے کے بعد…‘ تھاپڑ مجھے لے کر دوبارہ اپنے کمرے میں لوٹ آیا تھا— ہم آمنے سامنے کی کرسیوں پربیٹھ گئے تھے—’تم سے ملنے کے بعد سنگھ کو میرا یہی مشورہ تھا۔ کیا جانتے ہیں آپ مسلمانوں کو—پہلے انہیں جانیے—ان میں گھلیے ملیے۔ ان کا بن جائیے۔ اردو سیکھیے۔عربی سیکھیے ۔تلفظ اورقرآن شریف کو سمجھنا سیکھیے۔ مجھے ایک ایسی فوج چاہیے جو اردو جانتی ہو۔ عربی جانتی ہو۔ صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن شریف پڑھ سکتی ہو۔ ان کے معنی سمجھتی ہو— ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت کم تھی جو ہندی یا سنسکرت جانتے ہیں۔ کیونکہ وہ لوگ تو ہمارے ہیں ہی۔ جادو تواصل میں تم لوگوں پر کرنا ہے۔ اورتم پرحکومت کرنے کے لیے سب سے پہلے تمہیں قریب سے سمجھنا ہے—‘
دروازے پرآہٹ ہوئی تھی۔ میں نے نگاہیں اٹھائیں تو اٹھارہ سے بیس لوگ تھے ، جو کمرے میںداخل ہورہے تھے۔ ان کے سرپر ٹوپیاں تھیں۔ پیشانی پرسیاہ نشان تھا، جس کے بارے میں عام روایت ہے کہ قیامت کے روز یہاں سے نور پھوٹے گا—ان میں کچھ کے چہرے پر داڑھیاں بھی تھیں۔ یہ ایک قطار سے کمرے میں آکر کھڑے ہوگئے۔ ‘
’گھبرائو مت۔ آئو۔ ان میں سے کچھ کا تعارف کرائوں۔‘
’ یہ ورون ہے۔ ورون امامت کررہاتھا۔‘
’السلام علیکم‘
ورون نے وہیں کھڑے کھڑے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا—’یہ باگیشور۔ یہ گھنشیام… یہ سمت… یہ اروند…‘ میں پاگلوں کی طرح ان لوگوں کو دیکھ رہاہوں… پیشانی کے سیاہ نشان کو… ان کے چہروں کو… دنیا گھوم رہی تھی…مجھے چکر آرہے تھے۔
’جائو تم لوگ۔‘تھاپڑ نے اشارہ کیا۔ میرے ہاتھوں کو تھاما۔ مجھے لے کر کرسی پر بیٹھایا—
’ڈرو مت۔ نماز صرف تم ہی نہیںپڑھتے۔ انہیں باضابطہ صحیح نماز پڑھنے کی ٹریننگ دی گئی ہے۔ اوران کی…پیشانیوں پر جوسیاہ داغ ہے وہ بھی نقلی نہیں۔ یہاں کچھ بھی نقلی نہیں ہے دوست۔ ہم انہیں اوریجنل اسامہ… یعنی مسلمان بن کر تمہارے درمیان اتار رہے ہیں۔‘کمرے میں سناٹا پھیل گیا ہے۔ جیسے ہزاروں کی تعداد میں سانپ مجھے ڈس رہے ہوں… میں بے جان آواز میں پوچھتا ہوں…’اجے سنگھ تھاپڑ۔ لیکن تم یہ سب کیوں کررہے ہو…؟‘دوخوفناک آنکھیں نفرت سے میری طرف دیکھ رہی ہیں—’تو سنو ارشد پاشا— اس کا جواب بھی سن لو— ہم تم میںگھل مل رہے ہیں… جیسے دودھ میں پانی گھل مل جاتا ہے— کیا دودھ میں پانی دیکھ سکتے ہو تم…؟ ہم تم میں ایسے ہی گھل مل جائیں گے کہ تم اپنوں کی شناخت بھی نہ کرسکو۔ ہر جگہ ہر موڑ پر— ہم تمہارا سایہ بن کر ساتھ ساتھ چلیںگے— تم ہمیں پہچان بھی نہیں سکو گے اور ہم تمہارا آسانی سے شکار کرسکیں گے…‘ g
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.