کتاب عرض ہے
ھو بہ ہو پروانہ رُدولوی
تبصرہ نگار : تحسین منور
  
  
16,JUNE, 2015, 5.30AM (مژگان نیوز نیٹ) در اصل شگفتگی کی تلاش میں آنے سے پہلے ہمیں انجم عثمانی کے کہیں کچھ کھو گیا ہے،کے بارے میں معلوم چلا تھا ۔ ہم نے پہلے انجم عثمانی صاحب کے افسانوی مجموعہ کہیں کچھ کھو گیاہے کو ہی آپ کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا تھا کہ اچانک یہ خبر عام ہوئی کہ وہ شگفتگی کی تلاش میں غالب اکیڈمی میں محفل سجانے والے ہیں۔ہم نے سوچا کہ ایک پنتھ دوکاج کرتے ہیں اور شگفتگی کی تلاش میں کے بہانے ہم بھی کھویا پایاکے اس سلسلے کا حصّہ بن جاتے ہیں۔انجم عثمانی صاحب کو ہم تب سے جانتے ہیں جب وہ ہمیں نہیں جانتے تھے۔ہم انھیں تب سے پہچانتے ہیں جب وہ ہمیں نہیں پہچانتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جا سکتاہے کہ انھوں نے سب سے زیادہ مدت تک اردو کی خدمت کی ہے۔ ان اردو والوں کی طرح نہیں جو اردو کی جب جب خدمت کا دَم بھرتے ہیں ہماری بے دَم دُم بھی دَم لگا نے کو تیار ہوجاتی ہے کہ ہم بھی ان کی طرح اردو کی خدمت کریں جس سے ہلدی لگے نہ پھٹکاری اور اپنا رنگ بھی چوکھا دھانی سا ہوجائے۔دہلی جیسے اردو والوں کے شہرمیں رہ کر ایک عدد آدھے گھنٹے کا اردو کا پروگرام بزم دوردرشن پر لگاتاربرس ہا برس تک کرنا نہایت دل گُردے اور کلیجی کا معاملہ سمجھئے ۔ یہ وہ دہلی ہے جہاں اکیلالال قلعہ کا مشاعرہ لگاتارتیس چالیس برس تک پڑھنے کی خواہش لئے کوئی شاعربڑے بڑے مسند نشینوں کو سلام بجانے پہنچ جاتا ہے۔ مشاعرے کے لئے اس شاعر کا نام ایسی جگہ سے آتا ہے کہ جہاں اگر پہنچ ہوتوقوم کے لئے ایسی پالیسی بنوالی جائیں جہاں مشاعروں کی زبان کی فکر ہی تمام ہوجائے۔ فیصلہ لینے والے انگشت بدنداں ہوکر نقش فریادی ہے کس کی’ شیخیء ‘تحریر کا پر جھوم کرماتم کرنے لگتے ہیں۔انجم عثمانی صاحب نے یہ جو دوردرشن میں اتنے برس گزار لئے ہیں اس کے لئے تو انھیں حکومت کی کسی ایسی کمیٹی کا حصّہ بنا دینا چاہئے جہاں ہر طرف سے شکایتوں کی سنگ باری ہوتی رہتی ہو۔کیا کیا نہ سہے ہم نے ستم آپ کی خاطر کی طرز پر انھوں نے جس طرح اردو کی بزم آرائی کی اس میں تو آدمی دیوانگی کی حد تک نالاں اور بد دل ہو سکتا ہے مگر وہ شگفتگی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔تو کیا یہ اسی شعر جیسا معاملہ ہے جس میں یا تو دیوانہ ہنستا ہے یا جسے توفیق اوپر والا دیتا ہے کیونکہ اس دنیا میں آکر مسکرانا تو مشکل ہی ہے رونا ضرور پڑتا ہے۔
وہ خود ایک’ شگفتہ ‘میں کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ہمیں خوامخواہ میں صاحبِ اسلوب مزاح نگار بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔اس مضمون کا عنوان ہے ’’ مزاح نگار؟ توبہ‘‘ ۔اس لئے ہم ان تمام تخلیقات کو مضمون ہی کہہ رہے ہیں تاکہ تخلیق کار کی فکر کے ہم پلّہ نظر آئیں۔انجم عثمانی اس کتاب کے آغاز میں ہی پیش لفظ کی جگہ ’’پس و پیش لفظ‘‘ لکھ کر معاملہ صاف کر دیتے ہیں کہ اس کتاب میں’میں ہی میں ہوں دوسرا کوئی نہیں ‘۔ یہ یقیناً اپنے آپ میں الگ ہی معاملہ ہوگا کہ جہاں انھوں نے اپنے بارے میں کسی سے آسمان کی بلندی پر ہونے کے بارے میں تحریرنہیں کروایا ہے۔ وہ اس میں لکھتے بھی ہیں۔’’ بعض مجموعے تو تصنیف ہی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ ان پر مقدمہ یا پیش لفظ لکھا جا سکے۔‘‘ وہ کسی اور کو یہ عزت افزائی کا موقع نہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ بھلا ہم سے زیادہ ہمیں اور ہماری تصنیف کو کوئی کیا جانے گا۔چنانچہ پس وپیش کے بعد ہم نے طے کیا کہ جب کتاب خود لکھی ہے تو ابتدائیہ بھی خود ہی لکھیں گے۔‘‘آگے کہتے ہیں کہ ’’ میں ان مضامین کو’’ تفنن طبع‘‘ سے زیادہ نہیں سمجھتا،پھربھی اگر کسی کی ’’طبع‘‘ پر ’’تفنن‘‘سے زیادہ اثر ہو تو وسیع القلبی کا ثبوت دیتے ہوئے مصنف کو معذور سمجھیں۔‘‘انجم عثمانی صاحب کے چوتھی دنیا میں ایک مدت تک شائع ہونے والے سو مضامین میں سے منتخب بیس مضامین اس شگفتگی کی تلاش میں ہیں۔
یہ پس وپیش لفظ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ان کے مضامین کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ اردو والوں کی نس نس سے واقف ہیں۔بھلا دائی سے بھی کوئی پیٹ چھپاتا ہے والی بات کہی جا سکتی ہے۔ یہ تو ان کی شرافت ہے کہ وہ شرافت کے ساتھ ہی ان کی صرف وہ باتیں سامنے لا رہے ہیں جن کو صرف وہ ہی سمجھ سکیں جن کے بارے میں کہی گئی ہیں اور باقی قاری شگفتگی سے دل بہلاتے رہیں۔ اس سلسلے میں کئی مضامین کو سامنے رکھا جاسکتا ہے۔ جس میں ان کا سب سے اہم اور نمایاں مضمون خود ’’ شگفتگی کی تلاش میں ‘‘ ہی ہے۔ اس میں وہ جس انداز سے شگفتگی کو یہاں وہاں اور ان لوگوں کے پاس تلاش کرتے ہیں جو خودکو شگفتہ مزاج نہ سہی شگفتہ ’’لکھاڑ‘‘ تو مانتے ہی رہے ہیں،اس سے ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب ہمارے پاس مزاح نگار نہیں ہیں۔شگفتگی کی تلاش میں اپنے آپ میں ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے درمیان سے شگفتگی اٹھ گئی ہے اور اس طرح اٹھی ہے کہ جیسے کبھی رہی نہ ہو۔اس ایک مضمون پر ہم دو تین گھنٹے بول سکتے ہیں کیونکہ یہ مضمون تہہ در تہہ اتنے کرب و احساس سے ہوکر گزرتا ہے کہ اتنا ہنسو کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑیں والی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ اس مضمون کا پہلا پیرا گراف ہی اس بات کا اعلان کردیتا ہے کہ ہم ایک ایسے مصنف کی تخلیق سے دوچار ہیں جو نہ صرف لفظوں کی کہکشاں آباد کرنا جانتا ہے بلکہ اس کی پکڑ زمانے کی نبض پر بھی ہے۔اس کا تجربہ بے حد ہے اور احساس کی میناروں پر رہتے ہوئے زندگیوں کی تڑپ کا اندازہ کرتا ہے۔ ’’سروں کے اس جنگل اور صارفیت کے اس سمندر میں ہم جیسے بے بضاعتوں کے لیے کچھ پناہ گاہیں،کچھ جزیرے مہیّا فرمادیے گئے ہیں اور ہم اپنی تمام تر مولویت کے باوصف ان پناہ گاہوں کے زمہ داروں اور ان جزیروں کے حکمرانوں سے ایسے تعلقات استوار کئے ہوئے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ادبی زندگی کا سامان بقدرِ زندگی ہی سہی ہو ہی جاتا ہے۔‘‘یہاں ذکر غالب اکیڈمی کا ہے اور غالبؔ کے حوالے سے نہیں بلکہ اس کے سیکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد کی وجہ سے ہے ’’ جو ادب کے ڈاکٹر ہونے کے باوجودبالکل ڈاکٹر نہیں لگتے ‘‘ کیونکہ ’’ وہ نہ تو ادبی مریض پیدا کرتے ہیں،نہ تنقید کی نقلی گولیاں بانٹتے ہیں‘‘۔انجم عثمانی کہتے ہیں ’’ ہم ان کے باقاعدہ مرید ہیں اور یہ ہمارے ادبی پیر ہیں‘‘۔ یہ جملہ انجم عثمانی جیسی شخصیت کا ہے جو کہ ادبی بدعتوں کو بھی اس کتاب میں اپنے نشانے پر لے آئے ہیں۔یہ جملہ بستی حضرت نظام الدین اولیا ؒ میں موجود غالب اکیڈمی کے سیکریٹری کو لے کر ان کے خلوص کو ظاہر کرتا ہے۔یہی نہیں یہ پورا مضمون مجتبیٰ حسین سے لے کر اس وقت تک کے دلّی کے نامی زندہ مزاح نگاروں کا تذکرہ لئے ہوئے ہے۔مجتبیٰ صاحب سے یہ جملہ ادا کروانا کہ جتنی شگفتگی شمال سے لایا تھا کم پڑجاتی ہے اور بار بار دلّی جانا پڑتا ہے ،بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔ معین اعجاز صاحب کے ذکر سے وہ دنیا کی جس بے ثباتی کا نقشہ کھینچتے ہیں وہ آنکھوں کو بھگو سا دیتا ہے۔’’ کون ہے کون گیا‘‘ والی بات یقینی طور پر دل کو تڑپا جاتی ہے۔ یہ ایک طرح سے خاکے ہیں ان لوگوں کے جن کا ذکر اس مضمون میں آتا ہے۔ان کے اس مضمون میں کرداراور حالات سب چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔کیونکہ وہ خود رواں دواں ہیں پیہم زندگی کی طرح۔اس لحاظ سے یہ مضمون کتاب کا بہترین مضمون بن جاتا ہے جس میں ہماری طنز و مزاح کی تاریخ بھی شگفتگی کی تلاش میں نکلتی ہے اور آخر میں یہی پتہ چلتا ہے کہ انجم عثمانی اپنی تلاش میں کامیاب رہے ہیں۔
اس میں ایک اور مضمون جو موبائل مشاعروں کا ایک نیا خیال لے کر آتا ہے جس میں مشاعرہ گاڑی میں شاعروں کو بیٹھا کر سامعین تک پہنچانے کا معاملہ ہے۔اس کو اگر سوچ ہی لیا جائے تو بے ساختہ ہنسی آتی ہے۔’’ صاحب خیر حضرات مختلف سائز کی ایسی گاڑیاں بنوائیں اور جاری کریں جن میں مختلف سائز اور تعدادکے شاعروں کو بٹھاکر محلّہ در محلّہ بھیجا جا سکے۔‘‘اس مضمون میں پارکوں میں صبح ورزش کرنے والوں کے بیچ ،راستوں میں، ٹریفک میں ،بازاروں میں یہاں تک کہ ’’ کچھ باصلاحیت شاعروں کو کنڈیکٹری کی تربیت دی جائے‘‘ جیسا خیال پیش کیا گیا ہے تاکہ سامعین تک پہنچا جاسکے کیوں کہ سامعین تو آ نہیں رہے ہیں۔اس کے علاوہ ’’شاعرات کو ایر ہوسٹس کی تربیت دی جائے‘‘ کیونکہ شاعرات ’’تعلقاتِ عامّہ ‘‘ کی اہمیت کو سمجھتی ہیں،جیسا خیال لب پر ہنسی لے آتا ہے۔
اس کے بعد کا مضمون ایوارڈ اور ادب کے بازار کو لے کر ہے۔’’فرمائیے آج کل کیا مصروفیت ہے۔فرمایہ ایوارڈ کا کام ہے۔‘‘ ادب میں داخل ہوگئے ایسے لوگوں کی کھنچائی کرتا ہے جو ادب کے نام پر تجارت کر رہے ہیں۔ ’’اس کے مشاعرے کے کام میں ہزاروں ادبی مزدور جڑے ہوئے ہیں جس سے ان کی روزی روٹی چل رہی ہے۔‘‘یہ ایک صاحب کے پورے خاندان کا شجرہ ہے جو ادب کی تجارت میں خود تو ہیں ہی ان کی اولاد بھی اس کا حصّہ ہیں۔’’ ایک کا استقبالیوں ،اعزازیوں اور جشن وغیرہ کا کافی بڑا کام ہے۔‘‘اسی مضمون میں یہ پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ’’ایوارڈ یافتہ مزید ایوارڈ یافتہ ہوتے جارہے ہیں‘‘۔ مشاعروں اور سیمیناروں پر ایک اور مضمون میں کہتے ہیں۔’’۳۱؍مارچ آتے آتے بالکل وہی منظر ہوتا ہے جیسا رمضان شریف میں سرکاری اور سیاسی افطار پارٹیوں کا ہوتا ہے۔‘‘ان سیمیناروں میں ’’ نقلی سامعین بھی بظاہر اصلی سامعین کی طرح ہی ہوتے ہیں۔‘‘اور ’’موضوع کوئی بھی ہوصدارتی تقریر کی طرح مقالہ ایک ہی کافی ہے۔‘‘
غرض یہ کہ پوری کتاب اپنے آپ میں ایک ایسا دستاویز ہے جو ادب میں بے ادب کو سامنے لاتا ہے۔اگر آپ ادبی کی تاریکیوں کو شگفتگی کے ساتھ چھونا چاہیں تو شگفتگی کی تلاش میں نکل سکتے ہیں۔کتاب کا سرورق شاندار ہے اور مختلف رنگوں کے گلاب سے پیپر بیک ایڈیشن کو بھی لاجواب اور شگفتہ احساس سے بھر دیتا ہے۔ کتاب کی قیمت دو سو روپئے تحریر ہے۔ملنے کے پتے میں غالب اکیڈمی اور فیصل انٹرنیشنل دیوبند اور دریا گنج،نئی دہلی کا پتہ تحریر ہے۔انتساب سیفی سرونجی ،اقبال مسعود،اسد رضا،وسیم راشدکے نام ہے اور دعا اپنی پیاری پوتی حبا کے لئے ہے۔ دعا بہت پیاری ہے ۔یہ ہر اردو والے کو اپنے بعد کی نسلوں کے لئے کرنی چاہئے۔’’ خدا کرے کہ وہ میری کتاب خود پڑھنے لائق ہو سکے۔آمین۔‘‘یادیں کے عنوان سے اپنے دوست مرحوم فاروق شیخ اور مرحوم نسیم انصاری ،بھوپال کو یاد کیا گیا گیا ہے۔پشت پر دیگر تصانیف کی فہرست کے ساتھ اپنی تصویر چپکائی ہے جو کچھ اور بہتر ہو سکتی تھی۔کتاب کے چند مضامین عنوان کی وجہ سے خود کو دہراتے ہوئے سے لگتے ہیں لیکن اندر پڑھنے پر ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ یہاں ہم چند جملے ذیل میں رقم کر رہے ہیں جو ہم نے کتاب سے نکالے ہیں تاکہ آپ کو بخوبی اندازہ ہوسکے کہ کتاب میں کیا کچھ موجود ہے۔
*کہاں ہم پیدائشی افسردگی کے مارے کہاں شگفتگی۔۔!
*یہ آپ کی قوت برداشت پر منحصر ہے کہ آپ کس حد تک پتھری کو پتھر میں تبدیل ہونے سے روک پاتے ہیں۔
*اب تو اس کے نیچے سے اتنا پانی بہہ چکا ہے کہ ہم خود مجسم عرق انفعال بنتے جا رہے ہیں۔
*مجتبیٰ حسین صاحب سے ہمارے تعلقات آثارِ قدیمہ کی حد تک پرانے ہوچکے ہیں۔
*این سی ای آر ٹی کی اردو کتابوں کے مخدوش املا میں جتنی خدمات ان کی ہیں اس میں حتی المقدور ہمارا بھی حصّہ ہے۔
*بنیاد شفقت،خلوص ،محبت اور بے غرضی کی اینٹوں سے بنی ہے جن اینٹوں کا اب بھٹہ ہی ٹھنڈا ہو چکا ہے۔
*سقوطِ دربار کے برسوں بعد بھی سقوطِ دربارداری بہر حال باقی ہے۔
*کبھی کبھی غلطی سے بھی صحیح کام ہوجاتا ہے۔
*نیکی کرکے کنویں میں ڈال دیتے ہیں بلکہ کبھی کبھی دوسروں کی نیکیاں بھی کنویں میں ڈال آتے ہیں۔
*بہت جسیم و ضخیم ادیبوں میں گھرے رہنے کے باوجود ہم جیسے نحیف ادیبوں کو عزیز بھی رکھتے ہیں۔
*شگفتگی سے زیادہ کرختگی کام کرتی ہے۔
*یہاں تو کوئی کسی کو دھوکے کے علاوہ کچھ بھی دینے کو تیار نہیں۔
*شگفتگی اور افسردگی ایک سکے کے دو رُخ ہیں۔
*ایک سہ ماہی جریدہ نکالتے تھے جو اکثر سالانہ نکلتا تھا۔
*سنتے ہوئے نہ سننے کی یہ مشق بہت ریاضت کے بعد حاصل ہوئی ہے۔
*ہمیں تو پس مرگ والا ایوارڈ بہت اچھا لگتا ہے ۔اس میں کم سے کم انعام یافتہ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔
*اگر سیمیناری مقالوں میں بھی ترنم اور تحت کی بدعت شروع ہوگئی تو۔۔؟
*ہم سے تو مشاعرے تک میں بغیر ترنم اوربغیر میک اپ کی غزل برداشت نہیں ہوتی۔
*سیاسی جلسے اور مشاعرے میں فرق ہی کیا رہ گیا ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ سیاسی جلسے میں کبھی کبھی کوئی شعراچھا بھی سننے کو مل جاتا ہے۔
*ادب کی کساد بازاری میں سالہا سال سے یہ عالم ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون قرض لے رہا ہے کون قرض چکا رہا ہے۔
*قوال نما شعرا عوامی مشاعروں میں قوالی پسند سامعین کے طفیل چاندی کوٹ رہے ہیں۔
*پہلے ترنم کا جنم ہوااور تحت کی بدعت بہت بعد کی پیداوار ہے۔
*رات کے بعد یہ میدان اس طرح خالی ملے گا جس طرح مابعد جدید نقاد کی نیت سے خلوص۔
*کھنڈر کتنا بھی کھنڈر کیوں نہ ہو ،ہوتا تو عمارت کا ہی ہے۔
*اردو کے سیمیناروں میں بانٹے جانے والے بیگ سب سے زیادہ ان کے پاس ہیں اس لئے انھیں اردو کا دانشور نمبر ون سمجھنا چاہئے۔ شگفتگی کی تلاش میں انجم عثمانی صاحب جس انداز سے اپنی حسِ مزاح کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ وہ اتنے برس کی دباؤ والی سرکاری نوکری میں اسی شگفتگی کے سہارے شاد و آباد رہے ہوں گے اور ان کے آس پاس کے لوگ بھی اپنا دورانِ خون اسی سے سدھارتے رہے ہوں گے۔انھیں شگفتگی کی یہ راہ پکڑ کے بیٹھ جانا چاہئے کہ ان کا یہ رنگ ان کے مزاج کا حصّہ ہے ۔اس لئے انھوں نے یہ کتاب لکھی نہیں کہی ہے ۔یہی ان کی شگفتگی کی کامیابی کی دلیل بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( 16,JUNE, 2015, 5.30AM مژگان نیوز نیٹ)
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.