میراجی:احسان ملک

میراجی کااصل نام ثناءاللہ ڈار ثانی تھا مگر میرا سین نامی ایک بنگالن لڑکی سے عشق کی وجہ سے انہوںنے اپنا نام میرا جی رکھ لیا تھا۔ وہ ۵۲ مئی ۲۱۹۱ءکو لاہور میں پیداہوئے اور ۳ نومبر۹۴۹۱ءکو ۷۳ برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کے والد کا نام منشی شہاب الدین تھا جو ریلوے میںانجینئر تھے والدہ کا نام زینب بیگم عرف سردار بیگم تھا۔
میرا جی اپنے فن اور شخصیت دونوں اعتبار سے شعرو ادب میں ایک منفرد شناخت رکھتے تھے۔ وہ اپنا حلیہ عجیب و غریب بنائے رکھتے تھے۔ بڑے بڑے بال رکھنا تو خیر فن کاروں کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ان کی شخصیت کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ گرمیوں کے دنوں میں گرم کوٹ پہنتے تھے ، نہاتے بہت کم تھے اور ہاتھ میں لوہے کے تین گولے لئے پھرتے تھے۔ اپنے ان آہنی گولوں پر وہ سگریٹ کی چمکیلی پنی کا ورق بھی چڑھائے ہوتے تھے۔ سعادت حسن منٹونے ان کے اوپر تین گولے کے عنوان سے خاکہ لکھا ہے۔ اس خاکہ سے میراجی کی شخصیت کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
فن کار کی شخصیت اس کے فن کااٹوٹ حصہ ہوا کرتی ہے۔ کسی شاعر کے کلام کی تشریح و تعبیر میںہم اس کی زندگی اور زندگی کے متعلقات کو یکسر نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں،میراجی کی شخصیت میں پر اسراریت بہت زیادہ تھی۔ ان کی زندگی میں ان کے ذریعہ کئے گئے حرکات و عمل سے متعلق طرح طرح کے افسانے آج مضامین میں قلم بند ہیں۔ لیکن میرا جی کی شخصیت میں جتنی دلچسپی لی گئی ہے اتنا ان کے فن اور کلام پر توجہ نہیں دی گئی۔ میرا جی کے افعال پر اگر ہم سرسری نظر ڈالتے ہیں تو اس میں پڑھنے والے کےلئے دلچسپی کے سامان نظر آتے ہیں لیکن جب ہم میرا جی کی شخصیت سے کما حقہ واقفیت حاصل کر لیتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ پر ایک افسردگی اور مایوسی سی چھاجاتی ہے۔
میرا جی کی شخصیت ہی کی طرح ان کی نظمیں بھی ہیں یعنی وہ ایسی نہیں ہیں کہ ایک بات پڑھ کر آسانی سے سمجھی جا سکیں۔ میرا جی کی نظمیں فنی نقش و نگار سے مربوط ہیں۔ وہ اپنی بات کونظم میں سیدھے طور پر کہنے کے قائل نہیں ہیں۔
میرا جی نے اپنی شاعری کے ذریعہ اردومیں آزاد نظم کو پروان چڑھایا انہوں نے ردیف ،قافیوں، اور بحر و وزن میں کہی گئی نظموں کی جگہ آہنگ پر مبنی آزاد نظموں کا انتخاب کیا۔
میرا جی شروع ہی سے آزاد طبیعت کے مالک تھے۔ انہیں مطالعے کا بہت شوق تھا مگر رسمی تعلیم سے انہیں کوئی لگاﺅ نہ تھا۔ وہ میٹرک بھی پاس نہ کر سکے تھے لیکن شاہد احمد دہلوی نے ان پراپنے مضمون میں لکھا ہے کہ لاہور کی دیال سنگھ لائبریری وہ بالکل چاٹ چکے تھے۔ یہ ان کے ابتدائی دور کی بات ہے۔ میرا جی میٹرک نہ پاس کر سکے تو کیا انہوں نے مشرق و مغرب کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر جو مضامین لکھے ہیں وہ آج بھی ہماری یونیورسٹیوں کے ڈی لٹ اور پی ایچ ڈی اساتذہ کو عبرت حاصل کرنے کے لئے کافی ہیں۔ میرا جی نے ایڈ گرایلن پو، بودلیر، جانسن ،چنڈی داس ، امارو، دامودر گپت، ودیا پتی، انگلینڈ کی دو شاعر بہنوں ایملی اور جرمنی کے یہودی شاعر ہانئے وغیرہ پر مضامین لکھے ہیں اور منظوم ترجمے پیش کئے ہیں۔
میرا جی جس عہد سے تعلق رکھتے ہیں وہ اردو شعر و ادب میں ترقی پسند تحریک کا دور تھا،اس تحریک نے ہماری زبان و ادب کو جو فیض پہونچائے ہیں اس سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن میرا جی کی ذہانت نے اس وقتی پروپیگنڈے کاذرا بھی اثر قبول نہیں کیا (یہ الگ بات ہے کہ میرا جی کی اسی ذہانت نے اس دور کی بین الاقوامی کشمکش سماجی ،سیاسی اوراقتصادی کو جدید نفسیات میں ڈبو کر جنسی رنگ دے دیا)ترقی پسند تحریک سے متعلق کچھ شاعروں نے اپنے کلام میں خارجیت پر بہت زیادہ زور دیا۔ شعوری طورپر اور دیئے گئے موضوعات پر نظمیں کہی جانے لگیں ۔شعر و ادب کو براہ راست سماج کی خدمت انجام دینے کا وسیلہ بنانے کی کوشش کی جانے لگی۔ یہاں تک کہ ادب کو صحافت کے درپہ لا کھڑا کیا گیا۔ میرا جی نے ”حلقہ ارباب ذوق“ کے ذریعہ ادب اور صحافت میں تمیز پیداکی۔ دونوں کے مابین حد فاصل کھینچا۔ میرا جی نے شاعری کے لئے داخلیت پر زور دیا۔ انہوں نے نظم کی فارم میںجو تجربے کئے وہ تو ظاہر سی بات ہے ان کا شعوری عمل تھا۔ لیکن ان کی نظموں کے مواد موضوعات ان کی اپنی ذات سے وابستہ تھے۔ یہ ان کے اتھاہ لا شعور کی لہریں تھیں جوساحل پر آکر نظمیں بن جاتی تھیں۔ میرا جی کی نظموں میں جنسی موضوعات بہت نمایاں ہیں۔ ”لب جو پیارے“ اور دکھ دل کا دارو“ ان کی کافی متنازعہ فیہہ نظمیں ہیں۔ لیکن میرا جی کا وصف یہی ہے کہ انہوں نے ان موضوعات کو بھی کس کمال ہنر مندی کے ساتھ نظم کیا ہے۔ ان کی ایک نظم دھوبی کاگھاٹ ملاحظہ ہو :
جس شخص کے ملبوس کی قسمت میں لکھی ہے
کرنوں کی تمازت
رشک آتا ہے مجھ کو اس پر
کیوں صرف اچھوتا،
انجان، انوکھا
اک خواب ہے خلوت؟
کیوں صرف تصور
بہلاتا ہے مجھ کو؟
کیوں صبح شب عیش کا جھونکا بن کر
رخسار کی بے نام اذیت
سہلاتا ہے مجھ کو
کیوں خواب فسوں گر کی قبا چاک نہیں ہے؟
کیوں گیسوئے پیچیدہ و رقصاں
نمناک نہیں ہے
اشک دل خوں سے؟
کیوں لمس کی حسرت کے جنوں سے
ملتی نہیں مجھ کو
بے قید رہائی؟
میرا جی کے مذکورہ بالا مصرعے ایک انسان کی جنسی نا آسودگیوں کے ترجمان ہیں لیکن یہاں جو خاص بات ہے وہ یہ کہ میرا جی نے کس فنکارانہ انداز میں اس اچھوتے خیال کو نظم کیا ہے۔ میرا جی وقتی طور پر کسی نا پختہ تحریک اوراس کے افکار کی رو میں بہہ جانے والے انسان نہیں تھے لیکن میرا جی اس سماج ہی کا ایک حصہ تھے۔ غالب کا کیا شعر ہے کہ
ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال
ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
چنانچہ ان کی اس نظم کے یہ آخری مصرع دیکھئے
پھیلے ہوئے، ملبوس پہ کرنوں کی تمازت
ہے زیست کے گیسو کی حرارت
اس شخص کو پیراہن آلودہ کو کے دھونے ہی سے روزی ملتی ہے جہاں میں
تو اس پر نظر کر
میرا جی تو اپنا کام پورے حسن سلیقگی سے کر گئے عین ممکن ہے کوئی شاعر پیراہن آلودہ کے دھونے سے دھوبی کو ملنے والی روزی ہی کو اپنا ٹیپ کامصرع بناکر پوری نظم کہہ ڈالتا
میرا جی کی ہر نظم اتنی آسان فہم نہیں ہے جتنی کی اوپر بیان کی گئی ہے۔ ان کی ایک نظم ہے ”سہارہ“ جس کا تجزیہ انہوں نے خود کیا تھا۔ نظم کے ابتدائی پانچ مصرع یہ ہیں کہ
اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں
پھول گر چاہے کہ اپنی رات کے انجام کو
ایک ہی لمحے میں یکسر جان لے
اس کو لازم ہے ہوا کے سرد جھونکے سے کہے
جاﺅ اس کے آنسووں کو چوم لو!
میرا جی نے ان پانچ مصرعوں کاتجزیہ یوں کیا ہے کہ
”ایک سے پانچ تک رات کا تعلق عشرت سے ہے۔ اوس کا تعلق رات سے ہے اوس رات کے اختتام پر پھول، پتیوں اور گھاس وغیرہ پر نمودار ہوتی ہے۔ گویا اوس کی نمود عشرت کی تکمیل کی شاہد ہے۔ پھول شاعر ہے۔
(۴)اگر وہ اپنی عشرت کی رات کے متعلق ہربات جاننا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ اپنی آہوں کو جو ہواکے سرد جھونکے کی طرح ہیں اس کے آنسووں تک پہونچادے۔ ان سے ہم آہنگ کردے۔ کیوں کہ اس کے آنسو اپنی ملاحت سے اس ذائقے کااحساس دلائیں گے جو اوس میں مفقود ہے۔ گویا اے پھول یعنی شاعر! اگر تو اپنی شب عشرت کی تکمیل چاہتاہے تو اس کے لئے تجھے دور سے آہیں بھرنا کافی نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ دور کی آہیں تو ہوا کے سرد جھونکوں کی طرح ہیں۔ جو پھول کی اوس کی بوندیں ہی گرا سکتے ہیں جن سے ذائقے کی حس تسکین نہیں پاسکتی۔ عشرت کے مزے کو پوری طرح سے حاصل کرنے کے لئے تجھے اپنی مرکز نظر کے آسوو¿ں سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ گویا اس کاغم بٹانا پڑے گا۔
غرض کہ میرا جی کے کلام کو پڑھنا اور سمجھنا واقعی جمیل جالبی کے الفاظ میں ایک صبرآزما کام ہے۔ ہم میرا جی کو اس وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک ان کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں۔ میرا جی نے خود بھی کہا ہے کہ کوشش ہی سے اس کا م کوآسان کیاجاسکتا ہے۔ اردو کے عام قارئین اور ناقدین نے اپنی سہل پسندی کی وجہ سے میرا جی کے کلام سے ہمیشہ اجتناب برتا ہے جس کا احساس میرا جی کو بھی بغیر کسی افسوس کے ساتھ تھا۔ ان کی ”ایک نظم “ اس سلسلے میں قابل ذکر ہے۔
اے پیارے لوگو!
تم دور کیوں ہو؟
کچھ پاس آﺅ،
آﺅ کہ پل میں
یہ سب ستارے
تاریکیوں کے
اس پار ہوں گے
اے پیارے لوگو!
میں تم سے مل کر
بہتر بنوں گا،
ایسے اکیلے
یوں روتے روتے
آنسو بہیں گے
اور کچھ نہ ہوگا
تم پاس آﺅ
پھر دیکھ لیں گے
دنیا ہے کیا کچھ
اور دین کیا ہے،
پھر جان لیں گے
ہر سانس کیسے
آنکھیں جھپکتے
ان مٹ بنا تھا
لیکن محبت
یہ کہہ رہی ہے
ہم دور ہی دور
اور دور ہی دور
چلتے رہیں گے
میرا جی نے نظموں کے علاوہ غزلیں اور گیت بھی کہے ہیں۔ دوسری زبانوں میں کی گئی شاعری کے منظوم ترجمے بھی کئے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے فکر وفن کے ذریعہ سے اردو شاعری کادھارا موڑ دیا اور آنے والے شاعروں کو نئی نئی راہوں سے متعارف کرایا ۔ میرا جی نے آزاد نظم کو اردو شاعری میں جس طرح درجہ کمال تک پہونچایا ہے وہ ان کی اردو ادب کے تئیں بیش بہا خدمت ہے۔
٭٭٭
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.