حقیقی جذبات کا سچا عکاس:عزیزؔ بلگامی
آفاق عالم صدیقی،دربھنگہ، بہار،انڈیا
عزیزؔ بلگامی صاحب شاعروں کی اُس جماعت سے تعلّق رکھتے ہیں جس نے تمام تر آئیڈیولوجی کو رد کر کے تخلیقی امکانات کو اس کے بنیادی لوازمات کے زندہ استعاروں کے ساتھ روشن رکھنے کی کوشش کی ہے، جسے ہم آسانی کے لئے تخلیقیت خیزی کی فطرت اور بشریت کی ابدی سرشت سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ چونکہ اُن کا تعلّق ہمعصر تخلیقی عہد سے ہے اِس لئے اُن کے یہاں رجحانات کی مشروطیت اور آئیڈیولوجی کی گونج سے زیادہ ملّی دردمندی اور تہذیبی ہم آہنگی کا احساس پایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال اور عالمی سیاست کے اُفق پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوگا کہ آج امن و امان کے نام پر طاقت آزمائی کی ساری بساط امن، جمہوریت اور سیکولرزم کے بجائے معاشی تحفظات اور مذہبی تعصبات کی زمین پر بچھی ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے رد عمل کی ایسی فضا پیدا کر دی ہے کہ بہت سے سیکولر مزاج لوگ بھی ازسرِ نو ملّی احساسات و جذبات پر غور کرنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا بیشتر فنکار صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آیا کے مصداق اپنی تہذیبی تقدیس کی روایات کی طرف مراجعت کر چکا ہے اور جو چند لوگ بچ گئے ہیں وہ اپنے اور عالمی روابط کے رشتوں کو تشکیک بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اب جمہوریت اور سیکولرزم کا نعرہ اسے انقلاب آسا نہیں محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ اب جمہوریت اور سیکولرزم پر اس کا اعتقاد پہلے کی طرح مضبوط نہیں ہے: ؂
تختِ دلّی پر ستم رانوں کی یہ جلوہ گری
یاترا، سے بھی زیادہ پر فتن ثابت ہوئی
عزیز بلگامیؔ مذہبی تقدیسی جذبات کے حامل ایک ملت کیش شاعر ہیں۔ ان کے اندر ملّی غیرت و حمیت کا بھر پور جذبہ ہے۔ ان کے لئے ملّی سرمایہ ہی سامانِ جوش و خروش کا داعی ہے۔ وہ خوب جان چکے ہیں کہ یہی وہ سرچشمۂ ادراک ہے جس سے قلب و نظر کی سیرابی بہتر طور پر ہو سکتی ہے۔ وہ معاصر زندگی کے تناظر میں تمام تر نظریات و رجحانات اور آئیڈیولوجی کے شیش محل کو مسمار ہوتا دیکھ چکے ہیں۔ وہ خوب جان چکے ہیں کہ بالآخر ہر چیز اپنی اصل ہی کی طرف لوٹتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تخلیقی و فکری اور عملی ہر سطح پر اپنی اصل کی طرف مراجعت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ البتہ تخلیقیت خیزی کی موّاجی اور مراجعت کی یہ سع�ئ عمیق تفکر اور دور رس مثبت و مجتہد افکار سے ہم آہنگ ہو کر ارتفاعی آرٹ و فن کا ضامن کبھی کبھار ہی بن پایا ہے۔ البتہ لہجہ کی کاٹ آہنگ کا مٹھاس اور جذبات کی صداقت کا سوز ان کے کلام کو جاذبیت بخشنے میں پوری معاونت کرتا ہے۔ ان کے کلام کی سادگی پر کاری سے اس طرح مملو ہے کہ دل پر اثر کیے بنا نہیں رہتی ہے۔ چونکہ وہ ایک مصروف انسان ہیں اس لئے وہ کلام پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پاتے ہیں۔ اگر وہ اپنی شاعری کو حرزِ جان بنالیں تو آج بھی وہ اپنی تخلیقیت خیزی کا نیا استعارہ خلق کر سکتے ہیں۔ ایک فنکار کے اندر جو آگ ہونی چاہئے وہ ان میں آج بھی موجود ہے۔
عزیز بلگامیؔ کوجہاں جدید تر روشن خیالی کے نام پر پھیلائی جانے والی آوردشدہ آئیڈیولوجی سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے وہیں انہیں فکری اور جذباتی سطح پر ملّی احساسات و لوازمات کا بھر پور شعور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام کا بیشتر حصہّ حمد و نعت سے عبارت ہے۔ حالانکہ انہوں نے نظمیں بھی لکھی ہیں۔ مگر ان کی نظموں پر بھی اسلامی معاشرے اور عقائد کا عکس واضح ہے۔ میں یہاں پر ان کی حمد یہ اور نعتیہ شاعری کے بجائے غزلیہ شاعری پر ہی چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ ان کی غزلیہ شاعری پر بات شروع کرنے سے پہلے ان کی حمدیہ شاعری کے ایک آدھ نمونے پیش کردوں۔ تاکہ شاعرِ موصوف کے جذبات کا احترام قائم رہے۔ کیونکہ وہ خود کہتے ہیں کہ ؂
تخلیق کاریاں مری ہر دم تھیں باوضو
جس شاعر کی تخلیق کاریاں ہر دم باوضو رہتی ہوں اس کی کائناتِ شعری میں بغیرحمدِربِ کائنات کے داخل ہونا کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے۔ دیکھیے کہ عزیزؔ بلگامی صاحب کس طرح حمد باری تعالےٰ کا چراغ نور ایمان سے روشن کرتے ہیں: ؂
میں دیکھتا ہوں تو آنکھوں کا کچھ کا کمال نہیں
ترا ہی نور بصارت میں جلوہ فرما ہے
ترے وجود کی آہٹ کی معترف ہے خرد
ترے حضور سماعت بھی محوِ سجدہ ہے
مطیع ہیں ترے بندے نظامِ باطل کے
یہ کیسا وقت غلاموں پر تیرے آیا ہے
کائنات کے ذرہ ذرہ میں اسی کی تجلیات کا ظہور ہے، عزیزؔ بلگامی نے بڑی ندرت سے آنکھوں کی بینائی کو جلوۂ یکتائی محبوب کی شکل میں ڈھال دیا ہے۔ ندرتِ کلام کی یہ خوبی چراغوں میں لہو جلائے بغیر نہیں پیدا ہوتی ہے۔ دوسرے شعر میں اس بات کو خوبی اور ندرت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ بڑے بڑے سائنٹسٹ بھی اپنے محیرالعقول تجربات کے درمیان خدا کے وجود کے قائل ہوئے ہیں۔ تیسرا شعر صورت حالات کے تناظر میں انسان کی کج فطری کا عکاس بن گیا ہے۔ یعنی انسان کی بینائی۔ اس کی دانائی اور اس کی سماعت سب کچھ خدا کے وجود کی قائل ہے اس کے باجود ساری دنیا پر باطل کی حکمرانی ہے۔ انسانوں کی حالت صُمّ’‘ بُکْم’‘ عُمْی’‘ فَہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ جیسی ہے۔جب سبوں کو قادرِ مطلق کے حق ہونے کا احساس ہے تو پھر لوگ نظامِ الٰہی یا حکومتِ الٰہی کے قیام کی طرف کیوں پیش قدمی نہیں کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ دولت و طاقت کے زعم میں وہ خود فرعون و شداد کی طرح خدا بننا چاہتے ہیں۔ عزیزؔ بلگامی کا ملّی شعور جتنا پختہ ہے انسانی اور شاعرانہ شعور بھی اتنا ہی بالیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ملّت کوش شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ انا کوش شاعر بھی ہیں۔لیکن اس عہد میں انا کو محفوظ رکھنا ناممکن سا ہوگیا ہے کہ آج دنیا مٹھی بھر رئیسوں، سرمایہ داروں اور سودخوروں کی گرفت میں آچکی ہے۔ آج ہر طرف انہیں لوگوں کی حکمرانی ہے۔ جو لوگ ان کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے ہیں وہ حسین ابنِ علیؓ کے ساتھیوں کی طرح پیاس سے جاں بلب ہوکر مرتے ہیں ؂
بے غیرتی کا پینا بھی، پینا ہے کیا عزیزؔ
تشنہ لبی ہی اچھی ہے ساغر کی بھیک سے
چونکہ عزیزؔ بلگامی بھی سائنس کے طالب علم بھی رہ چکے ہیں اور بینک کی ملازمت کا تجربہ بھی حاصل کر چکے ہیں اس لیے وہ دنیا اور دنیاوی کثافتوں کو دوسرے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب سے دیکھ چکے ہیں۔ ان کی فکر و نظر میں بڑی وسعت ہے ان کے یہاں مہملیت کے ساتھ ساتھ معقولیت بھی پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری گوناگوں خوبیوں کی حامل ہے۔ وہ زندگی کے منظر نامے پر کسی مخصوص زاویہ سے نظرنہیں ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری یک رخے پن کا شکار نہیں ہوتی ہے۔ ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا پورا سرمایۂ کلام اچھی شاعری کے مقام کو نہیں پہونچا ہے۔ ان کے کلام میں پائے جانے والے رطب و یابس سے صرفِ نظر کرکے اچھے اشعار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ وہ ندرتِ خیال کے بڑے کامیاب شاعر ہیں۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی شاعر کا کلام تمام تر خامیوں یا افکار کی سطحیت سے پاک نہیں ہوتا ہے۔ عزیزؔ بلگامی کے چھوٹے سے مجموؤہ کلام میں ایسے اشعار کی کوئی کمی نہیں جو قارئین کا دامنِ دل تھام لیتے ہیں اور اپنے افکار کی ندرت سے چونکا دیتے ہیں۔ ان کے سوچنے سمجھنے کا انداز بڑا دلچسپ اور خوشگوار ہے۔ وہ اپنے مشاہدات و تجربات کو اس خوبی سے شعری تجسیم میں حل کرتے ہیں کہ بعض دفعہ تو قاری کی طبیعت پھڑک اُٹھتی ہے اور بے ساختہ داد دینے کو دل چاہنے لگتا ہے ؂
مقتول قتل ہوکے سخاوت ہی کر گیا
قاتل کو سرفراز کیا سر کی بھیک سے
اگر آپ چاہیں تو اس شعر کو اور اس کے اوپر والے شعر کو کربلا کے تناظر میں پڑھ کر کربلا کے پورے منظر نامہ سے حظ اٹھا سکتے ہیں۔ اور اگر آپ ان دونوں اشعار کو آج کی زندگی پر منطبق کرکے پڑھیں تب بھی شادکامی محسوس کریں گے کہ آج کی زندگی بھی اپنی صورتحال میں کربلا سے مختلف نہیں ہے۔ انسانی نفسیات کے تناظر میں عزیزؔ بلگامی کایہ شعر ؂
آپ ازراہ کرم ایک گالی دیجیے آپ کی ہر خیرخواہی دل شکن ثابت ہوئی بہت ہی بامعنیٰ ہو گیا ہے۔ یہ شعر بیک وقت ظاہری اخلاق و محبت کی فریب کاری کی بخیہ گری کرتا ہے تو انسانی نفسیات کے تناظر میں خیرخواہوں کو سخت آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ گالی وہی آدمی کسی بھی آدمی کو دے سکتا ہے جو آدمی کسی کے بارے میں شدت سے سوچتا ہو۔ جو لوگ صرف زبانی جمع خرچ کرتے ہیں وہ کسی
کو گالی بھی نہیں دے سکتے۔میرا اپنا ماننا ہے کہ آدمی جس کو گالی نہیں دے سکتا اس سے محبت بھی نہیں کر سکتا۔اس طرح یہ شعر انسانی نفسیات کی غواصی کا حامل بن جاتاہے۔
آج سائنس تکنولوجی نے اتنی ترقی کی ہے کہ اس کی عظمت کے آگے تمام عقیدے چھوٹے لگنے لگے ہیں۔ اب انسان زمین کے بجائے چاند پر بسنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ سائنسی تناظر میں عزیزؔ بلگامی کا یہ شعر بھی ندرت خیال کا حامل بن گیا ہے۔ شعر ملاحظہ فرمائیں۔ ؂

آسماں کی قدر کرتے ہیں زمیں والے بہت
چاند پر لیکن زمیں اپنی گگن ثابت ہوئی

جب انسان چاند پر آباد ہوجائیں گے تو شاید ان کے لیے ہماری یہی آلودہ زمین آسمان کی طرح اہم ہوجائیگی ۔دنیا میں جتنے بھی انقلابات رونما ہوتے ہیں وہ کج کلاہانِ فکر و نظر اور غیرت و حمیت کے خوگر انسانوں کی برکت سے ہی رونما ہوتے ہیں یہ لوگ اپنے علم اور اپنے افکار و اجتہاد کی پیاس بیچ دیں اور عیش و عشرت میں پڑ جائیں تو یقین جانیے کہ دنیا چند ہی برسوں میں بوڑھی ہوکر فنا ہو جائے۔
آج دنیا میں جو لوگ بھی حق کے طرف دار ہیں ان کی زندگی جہنم زار ہے۔ لیکن جو لوگ حق کے بیوپاری ہیں ان کے پاس عیش و آرام کا ہر سامان یعنی موٹر بنگلہ اور گاڑی ہے ؂
نہیں یہ غم کہ تم نے بیچ ڈالے ساغر و مینا
مگر یہ کیا کہ تم رندوں نے اپنی تشنگی بیچی
عزیزؔ بلگامی کے کلام میں بعض ایسے اشعار بھی مل جاتے ہیں جو معاصر زندگی پر طنز کا نشتر بن کر دل میں اتر جاتے ہیں۔ ان کا ایک چھوٹا سا شعر ملاحظہ فرمائیے جس کو طنز کی کاٹ نے یاد گار شعر بنا دیا ہے۔ ؂
ہوں بر سرِ حق میں بھی یقیں ہوگیا مجھکو
تاحدِ نظر سلسلۂ دارو رسن ہے
عزیزؔ بلگامی جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں بینک کی ملازمت کے دوران سرمایہ داری اور سرمایہ کاری کے تمام رموز کو خوب قریب سے دیکھ چکے ہیں۔اس لیے وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ آج کے اس پیرا بینکنگ نظام میں کوئی کس طرح سرمایہ دار بنتا ہے۔ ہوس کے مارے دولت کے اندھے پجاری بھکاریوں کے کاسہ تک کو کس طرح غصب کر لیتے ہیں یہ ساری باتیں عزیزؔ بلگامی صاحب خوب سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے اور صورتحال پر ان کے طنز کو داد دیجیے ؂
کیا شکایت مقدمہ کیسا
جان ہی جائے واردات گئی

ہے بھلی اُن کی سخاوت سے فقیری میری
اُن کی جھولی سے بر آمد ہوا کاسہ میرا
چونکہ عزیزؔ بلگامی کولوگوں نے ایک خاص طرح کا شاعر سمجھ لیا ہے اس لئے لوگ ان کی نعتوں اور حمدوں ہی پر زیادہ توجہ کرتے ہیں اگر وہی لوگ ان کی غزلیہ شاعری پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کی غزلوں میں ندرتِ فن کے بڑے امکانات پائے جاتے ہیں۔ خود شاعر موصوف بھی دلجمعی سے غزلیہ شاعری پر توجہ کریں تو وہ یقیناًاپنا مقام بنا سکتے ہیں۔ نعتیہ اور حمدیہ شاعری میں جدت پیدا کرنا بڑے بڑے فنکاروں کے بس میں بھی مشکل سے آتا ہے کہ اس کے اظہار کا دائرہ ہر طرف سے با ادب ، با ملاحظہ کے شور سے گونجتا رہتا ہے ۔ نعت اور حمد میں نیا ، انوکھا اور البیلہ شعر نکالنا جوئے شیر لانے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ بہر حال عزیزؔ بلگامی کی شاعری کے اس جائزے سے اتنی بات تو واضح ہو ہی جاتی ہے کہ وہ ایک ندرت پسند فن کار ہیں۔ اگر یہ ندرت پسندی ان کے کلام کی نمائندگی کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ یقیناًایک نادرہ کار فنکار بن کر اپنی پہچان کو مستحکم بنا لیں گے۔
Urdu Lecturer, Zubaida Degree College, Shikaripur, Dist: Shimoga Karnataka INDIA Mobile:0091 9945 46 2187 Afaq Alam Siddiqui
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.