مرحوم محفوظ الرحمن کی یاد میں
انتقال کے ایک برس مکمل ہونے پر خراج عقیدت
سہیل انجم
  
’’تحفظات ذہنی کے تیرہ وتار اندھیروں میں سچائی کے چمکتے دمکتے موتی تلاش کرنے والے حوصلہ مند لوگوں کو اکثر وبیشتر اغیار سے کہیں زیادہ اپنوں کے سنگ ملامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بنی بنائی لیک سے ہٹ کر چلنے، بنے بنائے پیمانوں سے الگ ہٹ کر نئے پیمانے تراشنے یا تلاش کرنے کی سزا انہیں بیشتر حالات میں ان کے پاؤں کے نیچے کی سخت زمین کھینچ کر دی جاتی ہے۔ انھیں بے دست وپا بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تاکہ انہیں دیکھ کر دوسرے عبرت حاصل کریں۔ لیکن سچائی ہے کہ اپنے آپ کو منوا کر ہی رہتی ہے۔ کل بھی یہی ہوتا رہا ہے، آج بھی یہی ہو رہا ہے اور کل بھی یہی کچھ ہوگا۔ نہ سچ کو پابند زنجیر کیا جا سکے گا اور نہ سچائی کی راہ میں کوئی ایسی دیوار کھڑی کی جا سکے گی جو قابل عبور نہ ہو‘‘۔
یہ اقتباس عہد ساز صحافی مرحوم محفوظ الرحمن صاحب کے ایک مضمون سے لیا گیا ہے جو انھوں نے بی جے پی کے سینئر لیڈر جسونت سنگھ کی متنازعہ اور ہنگامہ خیز تصنیف ’’جناح، ہندوستان اورتقسیم آزادی‘‘ کے بارے میں لکھا تھا۔ یہ اقتباس اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مرحوم محفوظ الرحمن سچ کے دلدادہ اور قدر دان اور جھوٹ، مکر وفریب اور بد دیانتی کے سخت خلاف تھے۔ وہ ایک سچے اور کھرے صحافی تھے اور اپنے ساتھیوں اور خورد سال صحافیوں کو بھی اسی کی تعلیم دیتے تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ سب سے بڑا جہاد سلطان جائر کے سامنے کلمہ حق ادا کرنا ہے۔ وہ خود یہ جہاد زندگی بھر لڑتے رہے اور دوسرے صحافیوں سے بھی اسی کی توقع رکھتے تھے۔
جناب محفوظ الرحمن صاحب ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے مسلمانوں کی حالت زار پر دل گرفتہ رہتے تھے لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلمان او ران کے بزعم خود قائدین اس حالت کے ذمہ دار ہیں۔ اگر مسلم قائدین اپنی سوچ اور اپنے اعمال میں مثبت اور تعمیری تبدیلی لے آئیں تو نہ صرف ہندوستان کے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے حالات بدل جائیں گے۔ وہ اس ناگفتہ بہہ صورت حال کے لیے انہی نام نہاد مسلم قائدین کو مورد الزام ٹھہراتے تھے جو اقتدار کے ایوانوں کے حاشیہ بردار ہیں اور جو اقتدار کی پالکی کے کہار ہیں۔ وہ اس بات پر ہمیشہ زور دیتے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو اقتدار کی پالکی کے کہار بننے کی بجائے خود اس پالکی پر سوار ہوکر ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن انہیں اس بات کا بھی گلہ تھا کہ مسلمانوں کی قیادت کے دعوے دار اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ چند سکو ں کی چمک اور ان کی جھنکار سے مرعوب ہو جاتے ہیں اور پھر ذاتی مفادات کی قربان گاہ پر ملی مفادات کو بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔
انہو ں نے اپنے ایک مضمون میں جس کا عنوان تھا ’’یہ رونا دھونا یہ سینہ کوبی کب تک‘‘ میں لکھا ہے ’’مسلمانوں کو شکایت ہے کہ ان کی بے وقعتی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ان کی یہ شکایت بڑی حد تک درست ہے۔ مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ ایوان اقتدار کے گلیاروں میں ان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ قانون ساز اداروں میں، سرکاری وغیر سرکاری ملازمتوں اور کاروبار میں انہیں وہ حصہ نہیں مل پایا ہے جو از روئے انصاف انہیں ملنا چاہئے تھا۔ ان کی اس شکایت کو کسی زاویے سے بے وزن نہیں کہا جا سکتا۔ مسلمانو ں کو یہ شکایت ہے کہ ان کے دکھو ں کے مداوا اور ان کے مصائب کے ازالے کے وعدے تو انتہائی فراخ دلی کے ساتھ کیے جاتے ہیں، خاص کر انتخابات کے دنوں میں، لیکن عمل کا خانہ اکثر خالی رہتا ہے۔ وعدوں کی کشت زار بے حسی کی گرم ہواؤں سے جھلس جاتی ہے، امیدو ں کی نرم رَو آبجو وعدہ فراموشی اور بے ضمیری کے ریگ زاروں میں سر پٹک پٹک کر دم توڑ دیتی ہے ۔۔۔لیکن مسلمانوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ان کے مسائل ومصائب کا حل خود ان کے سوا کوئی اور تلاش نہیں کر سکتا۔ زندگی کی رزم گاہ میں جو لوگ بیساکھیوں کے سہارے داخل ہوتے ہیں اور دوسروں کی انگلی پکڑ کر چلتے رہنے کو ہی سیاسی تدبر کی معراج قرار دیتے ہیں وہ کبھی بھی کامیابی وکامرانی کی منزل سے ہم آغوش نہیں ہو سکتے۔ بیشتر حالات میں گریہ وزاری اور سینہ کوبی ہی ان کا مقدر بن جاتی ہے‘‘۔
محفوظ الرحمن صاحب مسلمانوں کی اس روش کے سخت مخالف تھے اور اپنی تحریروں سے ان میں تحریک پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ وہ مسلمانوں کو ذلت آمیز زندگی جینے کی بجائے عزت سے مر جانے کی وکالت کرتے تھے کیونکہ وہ اس راز سے واقف تھے کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ وہ خود زندگی بھر اسی اصول پر کاربند رہے اور انھوں نے اپنی عزت و خود داری کو کبھی کسی امیر وکبیر اور دولت مند شخص کے آگے گروی نہیں رکھا ۔ یہ بات بارہا کہی جا چکی ہے اور اسے دوہرانے سے کوئی فائدہ نہیں کہ وہ انھوں نے اپنے قلم کا کبھی بھی سودا نہیں کیا اور پرورش لوح وقلم کو ہی ہمیشہ ترجیح دی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ بھی مادی آسائشوں کی نعمتوں او ران کی چمک دمک سے اپنی زندگی کے شب وروز کو روشن اور تابناک بنا لیتے۔
جناب محفوظ الرحمن صاحب میں جو صحافتی خوبیاں تھیں وہ بہت کم لوگوں میں ملتی ہیں اور آج کے مادہ پرست دور میں تو ویسے صحافی خال خال ہی ہیں۔انتہائی خوددار اور غیرت مند، قلم کی آبرو کے ایسے محافظ کہ خود پر آنچ آجائے مگر قلم کی حرمت پر حرف نہ آنے پائے۔جس بات کو سچ سمجھتے تھے اسے ڈنکے کی چوٹ پر لکھتے تھے۔ خواہ کوئی ناراض ہو یا خوش ہو۔اور جس بات کو غلط سمجھتے تھے اسے قطعاًتسلیم نہیں کرتے تھے اور اسے لکھنے کے لئے کسی کے دباؤ میں نہیں آتے تھے۔ اسی لئے ان کے مخالفین بھی ان کے نظریات سے اتفاق نہ رکھنے کے باوجود ان کا احترام کرتے تھے اور ان کے خلاف ایک لفظ بھی زبان سے ادا کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔ جس کے اندر خودداری ہوتی ہے عام طور پر وہ قناعت پسند بھی ہوتا ہے اور یہ خوبی ان میں بھی تھی۔ ان کے اندر قلندرانہ اوصاف بھی تھے۔اسی لئے پچاس سال سے زائدکا صحافتی تجربہ رکھنے کے باوجود وہ انعام واکرام اور اعزاز و ایوارڈ کی حصولیابی کی کوششوں سے کوسوں دورتھے۔ان کے سامنے بالشتیے صحافیوں نے کہاں سے کہاں تک کی چھلانگ لگا لی لیکن وہ مادی اعتبار سے وہیں کے وہیں رہے ،البتہ ان کا انسانی اور صحافتی قد بلند سے بلندتر ہوتا گیا اور وہ صحافت کے قطب مینار میں تبدیل ہو گئے۔
محفوظ الرحمن صاحب کی علمیت ،ان کی صحافیانہ صلاحیت اور ان کی قابلیت ہی کی یہ دلیل ہے کہ بے شمارطالبان علم کسی اہم موضوع پر کچھ لکھنے سے قبل ان سے ضرور مشورہ کرتے تھے۔ہندی یا انگریزی کے صحافیوں کو مسلم معاملات پر کوئی اسٹوری کرنی ہو تو وہ انہی کے آستانے پر حاضری دیتے تھے اور ان کے چند جملے ایکسکلیوسیو اسٹوری کی بنیاد بن جایا کرتے تھے۔وہ خود بھی انوسٹی گیٹیو اسٹوری کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے تھے اور اپنی صحافتی زندگی میں انھوں نے اس کی بے شمار مثالیں پیش کی تھیں۔وہ صحافت کے اعلی اصولوں کی پاسداری کے ساتھ ساتھ زبان وبیان کے معیار کو بھی ذہن میں رکھتے تھے اور ایسی شستہ زبان لکھتے تھے کہ پڑھنے والے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔وہ اکثر بات چیت کے دوران آج کے اخباروں میں زبان کے گرتے معیار پر اظہار افسوس کرتے تھے اور کہتے تھے کہ موجودہ صحافیوں کومعیاری زبان کی ٹریننگ کا بھی انتظام کیا جانا چاہیے۔
وہ نوجوان صحافیوں کی بے حد حوصلہ افزائی کرتے تھے اور ان کی خامیوں کو نظر انداز کر تے تھے اور باتوں باتوں میں ایسی بات کہہ جاتے تھے کہ بعد میں خود بہ خود یہ احساس ہوجاتا تھا کہ ہم نے کہیں غلطی کی ہے۔ صحافت کے پیشے میں اب بلیک میلنگ کا دور آگیا ہے۔ لیکن محفوظ الرحمن صاحب اس گُر سے واقف ہی نہیں تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی کی گاڑی بس ایک ہی پٹری پر دوڑتی رہی۔انھوں نے اس عیش وعشرت کو نہیں دیکھا جس کی حصولیابی موجودہ دور کے صحافیوں کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکی ہے۔ان کے طرز زندگی اور انداز رہائش میں کبھی کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی۔ان کے گھر جانے والے کسی بھی شخص کو یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ ان کے حالات کیسے ہیں۔ابتر حالات میں بھی ان کے چہرے پر شکن نہیں آتی تھی۔
محفوظ الرحمن صاحب کی صحافتی فکر کا ایک نمایاں پہلو ان کی ملی فکربھی تھی۔ وہ ایک مکمل صحافی تھے اور قومی وسیاسی امور پر ان کی زبردست گرفت تھی۔ملک وبیرون ملک کا کوئی بھی مسئلہ ان کی دور اندیش نگاہوں اور ان کی صحافتی لیاقت سے پرے نہیں تھا۔وہ ملکی و عالمی حالات وواقعات کا انتہائی گہرائی اور جزرسی کے ساتھ مشاہدہ اور مطالعہ کرتے تھے اور اس انداز میں ان کا تجزیہ کرتے تھے کہ اس مسئلے کا کوئی بھی پہلو تشنہ نہیں رہتا تھا۔حالات وواقعات کی نبض پر ان کی گرفت تھی اور سلگتے ہوئے مسائل کا وہ بھرپور انداز میں جائزہ لیتے تھے۔لیکن ان کا قلم اس وقت برق رفتاری سے چلنے لگتا تھا جب وہ کسی ملی مسئلے پر نظر ڈالتے تھے یا کسی مسلی مسئلے کا پوسٹ مارٹم کرتے تھے۔وہ ایسے مواقع پر کسی بھی مذہبی شخصیت سے خواہ اس کا عوامی قد کتنا ہی بلند وبالا کیوں نہ ہو اور اس کو ملی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی کیوں نہ حاصل ہو، مرعوب نہیں ہوتے تھے اور اگر کسی بھی مذہبی یا ملی شخصیت سے کوئی چوک ہوئی ہے تو ان کا قلم اسے بخشنے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔وہ جب کسی اخبار یا رسالے کے مدیر رہے تب بھی اور نہیں رہے تب بھی، اپنے اصولوں کی ڈگر پر ثابت قدمی کے ساتھ چلتے رہے۔ چونکہ کسی سے ان کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں تھا اس لیے ان کے قلم کاترازو کسی بھی جانب جھکتا نہیں تھا۔ وہ اپنے قلمی ترازو کے ایک پلڑے پر ملت کو رکھتے تھے اور دوسرے پر ملی شخصیت کو۔ اور پھر ملی مفاد کی روشنی میں گہرا جائزہ لیتے تھے۔
انہیں کسی سے کوئی خوف نہیں تھا اور کسی سے مرعوب ہونا انہوں نے سیکھا نہیں تھا۔ وہ مسلم مطلقہ خواتین بل کے، جس انداز اور جس شکل میں وہ پاس ہوا ہے ، سخت مخالف تھے۔ وہ پہلے دن سے ہی یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ بل اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کے خلاف ہے اور عدالتیں طلاق اور نان و نفقہ کے مقدمات میں اس قانون کے تحت فیصلہ سنائیں گی اور وہ تمام فیصلے عائلی قوانین کے خلاف جائیں گے۔ یہ بات بعد میں سچ ثابت ہوئی اور ملک کی زیریں عدالتوں سے لے کر عدالت عظمی یعنی سپریم کورٹ تک متعدد مقدمات میں جو فیصلے سنائے گئے ہیں اور سنائے جا رہے ہیں وہ شریعت کے عائلی قوانین کے خلاف ہیں۔ اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ اس سلسلے میں جو دوسرے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان میں بھی ایسے ہی فیصلے سنائے جائیں گے۔
وہ صرف ملکی سطح پر ملی مسائل کے تئیں فکر مند نہیں رہتے تھے بلکہ عالمی تناظر میں بھی ایک مثبت اور ملی سوچ کے حامل تھے۔ اس کا ثبوت ان کی وہ کتاب ہے جس کا نام ’’سرخ یلغار‘‘ ہے اور جو انہوں نے بقول ان کے سوویت انفارمیشن سینٹر میں ملازمت کے کفارے کے طور پر تصنیف کی تھی۔وہ کچھ دنوں تک سوویت انفارمیشن سینٹر میں ملازم رہے اور بعد میں اس ملازمت کو ترک کرکے انہوں نے افغانستان پر روسی حملے کے خلاف مذکورہ کتاب لکھی تھی۔ جس میں صرف انہی دنوں کے دلخراش واقعات کی تفصیلات نہیں ہیں بلکہ افغانستان کی قدیم تاریخ اور اس کے اور افغان قوم کے خلاف ہونے والی عالمی سازشوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ بہر حال جناب محفوظ الرحمن صاحب ایک ایسے صحافی تھے جو بے باک ، بے خوف ، بے لاگ اور دیا نتدار تو تھے ہی ، ان کی صحافت کی ایک خوبی ان کی ملی فکر بھی تھی جسے کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہر حال جناب محفوظ الرحمن جیسے صحافی کبھی کبھار ہی پیدا ہوتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک نشان راہ چھوڑ جاتے ہیں۔ امید ہے کہ ان کے زیر تربیت پروان چڑھنے والی صحافیوں کی نوجوان نسل ان کے اصولوں کو حرز جاں بنا کر انہیں خراج عقیدت پیش کرے گی اور ان کی صحافتی دیانت داری کے چراغ کو بجھنے نہیں دے گی۔ M-9818195929
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.