جدید لب و لہجے کا شاعر جگدیش پرکاش
ارمؔ زہراء کراچی،مژگان نیوز نیٹ
  
  
  
ارمؔ زہراء ۔کراچی

عہدجدید کی مصروف ترین زندگی کشمکش ناآسودگی بے وقعتی ماضی سے محرومی ،فنی محاسن،جدیداسلوب اور زبان کے اسٹرکچرمیں تبدیلی ’’اعترافیہ‘‘ میں منکشف ہوتی نظرآتی ہے اور پھر یہ جدید علامتوں کی صورت ہمارے جذبات کی عکاسی بھی کرتی ہیں اور وقت وحالات کی مصوری بھی۔۔۔ انہی تبدیلیوں اورتغیرات پرمبنی شاعری جگدیشؔ پرکاش کی ہے جن کو میں نئے زمانے ،نئے اندازاور نئے لب ولہجے کاشاعر تصورکرتی ہوں۔
جگدیشؔ پرکاش کاتعلق لاہورسے ہے ابتدائی تعلیم انہوں نے لاہورسے حاصل کی اورپھر تقسیم ملک کے وقت پنجاب اوراترپردیش کے چھ شہروں کی خاک چھانتے ہوئے آگرہ پہنچے جہاں انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم کام کی ڈگری حاصل کی اور پھر مستقل سکونت دہلی قرار پائی۔
جگدیش ؔ پرکاش کی اب تک اردوشاعری کی پانچ کتابیں آچکی ہیں جن میں ’’دھوپ کی خوشبو‘‘’’آسماں درآسماں‘‘ ’’شگاف‘‘ ’’نریندرکے لیے ‘‘ اور ’’بازگشت ‘‘ جو حا ل ہی میں پاکستان سے شائع ہوئی ہے ۔قابل ذکر ہیں۔
’’A Tempest in Silence‘‘کے نام سے انگریزی مجموعہ کلام بھی آپ کا منظرعام پرآچکا ہے جس میں آپ کی اردونظموں کاانگریزی میں ترجمہ کیاگیا ہے۔جگدیشؔ پرکاش انگریزی میں بھی لکھتے ہیں ۔ان کی انگریزی نظموں کا مجموعہ ’’Echo in Silence‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے اب تک جگدیشؔ پرکاش کوان کی تین کتابوں پراردواکیڈمی دہلی سے انعامات نوازے جاچکے ہیں ۔ جگدیشؔ پرکاش کی غزلیں نظموں اور گیتوں کو ہالی ووڈ کی مشہور پلے بیک اور صوفی گلوگارہ کویتا سیٹھ نے گایا ہے جس کا البم’’ ایک دن‘‘ کے نام سے یونیورسل میوزک نے جاری کیا ہے۔زیر نظر جگدیشؔ پرکاش کے شعری مجموعہ کلام ’’ بازگشت‘‘ جو اور دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ اردو اور ہندی زبان میں شائع کیا گیا ہے
جگدیش ؔ پرکاش نے غزل، نظم ،گیت جیسے اصناف سخن میں نمایاں کام کیاہے ۔ان کی نظموں میں داخلی علامتوں کااستعمال لب ولہجہ کی شدت اوراپنے عہد کی صورت حال کا ادراک ملتا ہے۔ان کی نظموں میں اضطراب اورشدت بنیادی حیثیت رکھتی ہیں جواپنے اندرانفرادیت سمیٹے ہوئے ہیں۔ان کی یہ نظم ملاحظہ کیجیے۔ ہاتھ میں تابوت تھامے ان دنوں کے
جن دنوں اس لالٹینوں کی گلی میں
ہم نے مل کر
اپنے مستقبل کے اک گھر کوسجایا
لالٹینوں کی گلی کاآخری گھر
تیرا میراآخری گھر
دھوپ میں سہماکھڑاہے
جس کی چھت پر
مکڑیوں کے جال میں الجھے ہوئے سے
خواب اپنے منتشر ہیں
گھر کی دیواروں سے الجھی
چتاؤں کی ماتمی سی کچھ قطاریں
رینگتی ہیں
خستہ شہتیروں میں دب کر
ایک گورئیے کا گھر
بکھراپڑاہے۔۔۔!!!
ہندی اوراردو کی رنگ سے سجی جگدیشؔ پرکاش کی ہرنظم اپنا ایک الگ مزاج رکھتی ہے۔جو قاری کے لیے سوچ کے دریچے وا کرتی نظر آتی ہے۔اسی طرح اگر میں جگدیش ؔ پرکاش کی غزلوں کی بات کروں تو وہ مجھے تلاشِ ذات کی راہ پر گامزن نظر آتی ہے توکبھی خواہشوں کے جال بنتی داستان بن جاتی ہے۔جیسے یہ ان کا یہ اشعار ۔۔۔
حسبِ جنون عشق اک دردنہاں بن جائے گا
میری خاموشی کاعالم ہی زبان بن جائے گا
جب مری خواہش کے خیموں میں کبھی تم آؤ گے
مختصر سا سا نحہ یہ داستاں بن جا ئے گا
جگدیشؔ پرکاش کی شاعری مسرت کے جذبات کی خواہ ہویاکرب کے احساس سے پُرہووہ اظہار کے مرحلے میں جب داخل ہوتی ہے تورقص کرتی ہوئی سُر اور لے میں ڈھل جاتی ہے اور پھر قاری سے لے کر سامع سب کو مسحور کردیتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔
اس دہر بیکراں میں کوئی آشیاں تو ہو
اورعمر کے پڑاو پر اک سائباں تو ہو
میں مبتلائے عشق ہوں،میں ہوں اسیرحسن
میراجنون شوق میرا لطفِ جاں تو ہو
کھاتارہا فریب میں اپنوں سے باربار
نمبروں میں ڈھونڈتا ہوں کوئی مہرباں توہو
جگدیش ؔ پرکاش کی شاعری سادہ اور عام فہم ہے جس کے ذریعے ہم ان کی ذات سے براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں اوریہ شاعری کے ذریعے قاری کے دلوں تک سفر آسانی سے کرلیتے ہیں ۔شاید اسی لئے وہ اپنے اندر کی دنیا میں ڈوب کرنئے حوالے باآسانی تلاش کرلیتے ہیں اور اسے من وعن قرطاس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ہاتھوں میں سورج ہے آنکھوں میں تارے
چاندنی سے بھیگ گئے جھیل کے کنارے
یادوں کی سرگم پر ما ہیے سناتے
لوٹ آئے ماضی کے روٹھے بنجارے
اصل میں تخلیق کاراپنے حساس رجحانات کی وجہ سے سوسائٹی پرانحصارکرتاہے مگرسوسائٹی جواسے دیتی ہے وہ اسے احساس کی قندیل سے اجال کرپیش کردیتاہے روشنی کاسفر رات کے اندھیروں تک
کدھرکوجائیں اندھیرے مگرسویروں تک
ترے خیال کی خوشبو ہے اور میں ہوں
میرے قریب فقط توہے اوربس میں ہوں
جگدیش ؔ پرکاش کی شاعری غزل کی نئی تشبیات اور نئے استعارات سے مزین ہے جس کی بناء پران کے الفاظ میں تازہ بیانی اور تازہ خیالی اپنے عروج پرنظرآتی ہے جیسے
شیطان کی پرستش دیکھی ہے ہم نے ہراک چوراہے پر
معلوم نہ تھا اس بستی میں اتنے سستے ایماں ہوں گے
جگدیش ؔ پرکاش کوگو کے میں نے بہت زیادہ نہیں پڑھا لیکن جتنا پڑھا ہے اپنے تخیل کوالفاظ کاروپ دے دیا ہے۔جگدیشؔ پرکاش مزاجا کم گو اور اپنی دنیا میں مگن رہنے والے شاعر ہیں۔شاعری کو اظہار کے بعد متعارف کروانا آج کی اہم ضرورت ہے اور یہ تبصرہ بھی اسی سلسلے کی اک کڑی ہے ۔دعاگوہوں کہ خدائے لم یزل جگدیش ؔ پرکاش کے قلم کی روانی اورجولانی کوقائم ودائم رکھے آمین! جگدیشؔ پرکاش کے اس شعر پر اپنے تبصرے کا اختتام کرتی ہوں کہ
بہت کمزور سی یہ زندگی ہے
مگر مضبوط ہیں اپنے ا رادے
ارمؔ زہراء ۔کراچی)مژگان نیوز نیٹ)
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.