انارکلی ڈرامہ پر ایک نظر
پروفیسر محمد حسن
عشق کو سماجی ناہمواری کے مقابل صف آرا کرکے تاج نے اقدار کی کش مکش کو انار کلی کا بنیادی تصور بنادیاہے اور اسی تصور کو پیش کرنے کے لئے انہوں نے اکبر اورسلیم کے متوازی اورمتصادم کرردار ڈھالے ہیں اورانہی کش مکش سے واقعہ اوراس کی مرکزی کشمکش حاصل کی ہے۔ اکبر ایک ایسا شہنشاہ ہے جس نے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا اور اسی تصور پر اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی اورایک ایسے جانشین کا خواب دیکھا جو اس کی اس وراثت کو تکمیل تک پہنچائے گااورمتحدہ قومیت کی بنیاد پر قائم مغلیہ سلطنت کی جڑیں مضبوط کرے گا۔ اس کا جانشین سلیم اس کے برخلاف ایک ایسا رومانی حسن پرست اور خوابوں میں کھویا ہواشہزادہ ہے جس کے لئے ایک لمحہ حسین پر سلطنتیں قربان کی جاسکتی ہیں، جو اپنے جذبے اورتخیل کی دنیا کا فرماں رواہے اوراس فرماں روائی کے آگے ہندوستان کا تخت وتاج ہیچ ہے۔ ان دونوں بھر پور اور توانا شخصیتوں کے ٹکراو کا بہانہ بن جاتی ہے انار کلی۔ جس کی معصومیت سادگی اورخواب پرستی نے سلیم کو اس طرح جیت لیا کہ وہ ایک کنیز انار کلی کوپانے کے لئے شہنشاہ ہندوستان کی بے پناہ قوت سے جاٹکرایا اوراسی جذباتی طوفان سے خود تو محفوظ نکل آیا لیکن اس کی سزا کنیز انارکلی کو زندہ دیوار میں چن کر جھیلنی پڑی۔ اس کے پیچھے ایک اورطاقت ور مگر گھناونا کردار کنیز دل آرام کا ہے جو ذاتی ہوس اورلالچ کی خاطر سلیم کو نہ حاصل کرپانے کی قیمت انارکلی کے خلاف سازش کرکے چکاتی ہے اوراس طرح ڈرامے کی پوری کہانی چارواضح اوربھرپور کرداروں کی کشمکش سے انجام پاتی ہے۔
ڈراما انارکلی المیہ ہے لیکن اس کے المیہ انجام کے محرکات کیاہیں؟آخر سلیم اور انار کلی اپنی محبت میں کامیاب کیوں نہیں ہوتے؟ ان کے اس المناک انجام کاسبب محض دل آرام اور شہنشاہ اکبر ہیں لیکن یہ بھی نہ بھولنا چاہئے کہ انارکلی میں المیہ کے ہیروئن کی بنیادی خصوصیات موجودہیں۔ بریڈ لے نے شیکسپیر کے ہاں المیہ کے تصور پر بحث کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ المیہ کے مرکزی کرداروں میں شخصیت کی عظمت اور برتری لازمی طورپر پائی جاتی ہے۔ عام پڑھنے والاالمیہ کے مرکزی کردار کو اپنے سے برتر جانتا ہے، اس کی قدر کرتا ہے اوراس سے متاثر اور مرعوب ہی نہیں ہوتا اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہاجائے کہ المیہ کے مرکزی کردار کی شخصیت عام شخصیتوں سے کہیں زیادہ مرتب اورمربوط ومنضبط ہوتی ہے جس کے معنی محض یہ ہیں کہ وہ اپنی شخصیت کے مختلف جذبات احساسات اورافکارواقدار کو اس طرح ترتیب دینے میں دوسروں سے زیادہ کامیاب ہوتاہے۔ ہم میں سے ہر شخص کوایک ہی وقت میں سماج میں کئی کردار ادا کرنے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے خاندان کے ایک فرد بھی ہیں اپنے شہر کے شہری بھی، اپنے ملک کے باسی بھی ہیں اور اپنے دفتر میں کام کرنے والے اسامی بھی۔ اکثر یہ بھی ہوتاہے کہ ہماری ایک حیثیت ہماری دوسری حیثیت سے ٹکراجاتی ہے اورایسی صورتوں میں ہماری پوری شخصیت میں ہیجان برپاہوجاتاہے۔ ہم اپنے اقدار کو مرتب اورمنضبط نہیں کرپاتے اورہمارا مرتبہ نظام اقدار یا ہمارے اقدار کی ترجیحات ڈانواڈول ہوجاتی ہیں۔ ابتدا میں المیہ کا مرکزی کردار ہمیں زیادہ مرتب اور منضبط ترجیحات اور اقدار یعنی زیادہ منظم شخصیت کے ساتھ ابھرتا نظر آتا ہے اورہماری محبت کا سزاوار ٹھہرتاہے۔
ارسطوسے لے کر بریڈلے تک المیے کے سبھی نقاد اس بات پر زوردیتے آئے ہیں کہ المیہ کا سبب بننے والا واقعہ خود المیہ کا شکار بننے والے کردار کی شخصیت سے پیدا ہوناچاہئے اوراس کی اپنی کمزوری یا غلط فہمی یا عمل کا نتیجہ ہوناچاہئے حادثہ یا اچانک سانحہ نہیں ہونا چاہئے جس پر کردار کا کوئی قابو ہی نہ ہوکیونکہ اس صورت میں دیکھنے اور پڑھنے والوں کی ہمدردیاں کردار پر مرتکزنہ ہوں گی۔ انار کلی میں المیہ کا سبب بننے والا واقعہ ہے۔ انارکلی اورسلیم کی محبت اوراس محبت میں مرکزی المیہ موڑ منظر چہارم میں شیش محل کے جشن نوروز سے آتاہے۔ کنیز انارکلی کے المیہ کا راز اس کی خواب ناکی، تصور پرستی اور معصومیت ہے جس کی جھلک ہمیں پہلے منظر میں مل جاتی ہے۔
اوریہاں ڈراما انارکلی میں خود کنیز انارکلی کے تصور عشق سے بحث کرنا لازم ہے۔ ڈراما انارکلی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ عشق کے تین واضح تصور پیش کرنے کے بعد عشق کا ایک ایسا طنز یہی، اعلا اورپاکیزہ تصور پیش کرتاہے جو دیکھنے یاپڑھنے والے کو ارفع سطحوں پر پہنچادیتاہے۔ عشق کا ایک تصور دل آرام نے پیش کیاہے جس میں لالچ اورملکیت کا جذبہ ہے جس کے سرے جنسی استحصال اورحب جاہ سے ملتے ہیں۔ دل آرام سلیم کو اس لئے چاہتی ہے کہ وہ جو ان ہے اورشہزادہ ہے اورشہزادگی اس کے نزدیک سلیم کے حسن وشباب سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ دل آرام کا عشق ایثار نہیں استحصال سکھاتاہے۔ وہ قبضہ کرنا چاہتی ہے سپردگی نہیں جانتی اس کے نزدیک عشق محض حاصل کرلینے کانام ہے۔
اس کے پہلوبہ پہلو سلیم کا عشق ہے جس میں حسن پرستی اورجمال دوستی شامل ہے۔ یہاں بھی عشق مکمل طورپر شخصیت پرحاوی ہوجانے والا پرشورجذبہ ہے۔ ایک ایسی اندھی قوت ہے جو مکمل طورپر سرشارکرتی ہے سلیم کاعشق جمالیاتی تجربہ ہے اوراس میں کھوکروہ سب کچھ بھلادیتاہے۔ سلیم کا عشق بلند پہاڑوں سے گرنے والا جھرناہے۔ پرشور، پرشکوہ اورخوش منظر۔
مگر انارکلی کے لئے عشق ان دونوں کے برخلاف محض خواہش یاجذبہ نہیں بلکہ پوری زندگی ہے۔ ایک تہذیبی قوت ہے جو اسے استحصال اورکامرانی کی طرف سپردگی اورایثار کی طرف لے جاتی ہے ۔ انارکلی سلیم کو اس لئے نہیں چاہتی کہ وہ شہزادہ ہے بلکہ اس لئے چاہتی ہے کہ اس سے والہانہ شیفتگی اسے مجبور کرتی ہے عشق یہاں وسیلہ نہیں مقصد ہے۔ اگر وسیلہ ہے تو تکمیل ذات اور تہذیبِ ذات کا۔ انار کلی کا یہی سماوی تصورعشق ہے جو ڈرامے کو قوت اورخواب آگیںکیفیت عطاکرتاہے۔
انارکلی کے تصور عشق کی نرمی، شایستگی، لطافت اورسپردگی کو کہیں بھی امتیاز علی تاج نے نظرانداز نہیں ہونے دیاہے۔ اس کی طرف مناسب اشارے کرکے ذہن کو منتقل کرنے کے انسانی رفاقت اورہمدردی کے اس عظیم ترتصور عشق سے ملتے جلتے مگر رتبے میں اس سے کہیں کم تر جذبوں کی نمائندگی ثریا اوربختیار کرتے ہیں جوہر موڑ پر ڈرامے کوسہارا دیتے چلتے ہیں۔ بختیار اپنی گرم جوشی ،رفاقت اورپرخلوص ہمدردی کے ساتھ ہلکا پھلکا مزاج کے حاشیے بھی فراہم کرتاجاتاہے۔ یہ دونوں کردار ضمنی ہیں مگر سلیم اورانارکلی کے کرداروں کو واقعیت اورنکھار بخشنے میں ان کی بڑی اہمیت ہے۔ پھر یہ دونوں مناسب جذباتی فضا پیداکرتے ہیں اور انارکلی کے پاکیزہ جذبہ¿ عشق (جس کے لئے جذبے کا لفظ شاید غیر ضروری حدتک شوخ وشنگ ہے) کو پوری نزاکت اورپس منظر کی تابنا کی کے ساتھ ا بھارتے ہیں۔
یہاں یہ ذکرکرنابے محل نہ ہوگا کہ اس قسم کے نازک اورلطیف عشق کا تصور اردو ڈرامے تو کیا اردو ادب میں بھی کم یاب ہے۔ انارکلی کا جذبہ¿ محبت اسی قسم کے پاکیزہ وش جذبات میں سے ہے جو ایثار ،قربانی اور تہذیب نفس کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور بلند آہنگ اورپرشکوہ ہونے کے بجائے خاموش اورمدھم انداز سے آپ اپنی آگ میں جلنا سکھاتے ہیں۔ ڈراما انارکلی کی ساری حسیاتی قوت اسی نرم آنچ اورمدھم آگ کی بناپر ہے جسے مصنف کے فنکار انہ ربط وترتیب نے کلاسیک کا درجہ عطاکردیا ہے۔
فضا کے پیداکرنے کے لئے ڈراما نگار کئی تدبیریں کرتاہے۔ ڈراما انارکلی میں تاج نے لباس، موسیقی، نغمے اور مکالموں کے شکوہ کے علاوہ فن تعمیر سے بہت کام لیا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ تاج نے ہر منظر کے ابتدا میں عمارتوں کی خاصی تفصیل دی ہے اور مغلیہ طرز تعمیر کے طاق، محراب، ستون اورمحلوں کے مناظر سے کرداروں کا ساکام لیاہے اوریہ پوری فضا خود انارکلی کے تصورعشق سے ہم آہنگ ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ جو رومانیت تصور عشق میں جاری وساری ہے وہی دروبام کو جگمگاتی ہے اوریہی مکالموں کے لفظ لفظ میں اندھیرے جنگل کے قلب میں روشن مشعلوں کی طرح دہکتی ہے،مکالموں کا یہ رنگ کیسی وارفتگی سے معمور ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے صرف دو اقتباسات ہی کافی ہوں گے۔ ایک سلیم کی خودکلامی ہے:
’راوی کے دل شاد ملاح! توکیوں نہ گائے۔ لہریں نیند میں بہہ رہی ہوں اورکشتی اپنے آپ چلی جارہی ہو، پھر بھی نہ گائے؟ تو کیاجانے جب وقت کی ندی بہتے بہتے سست پڑجاتی ہے اورامید ساتھ چھوڑدیتی ہے تو کیاہوتاہے۔ جاشفق زار لہروں پرگاتا ہواچلاجااورخوش ہوکہ توشہزادہ نہیں ورنہ سنگ مرمرکی چھتوں کے نیچے اوربھاری بھاری پردوں کے اندر تیرے گیت بھی دبی ہوئی آہیں ہوتے۔‘
دوسرا اقتباس زنداں میں انارکلی کی خود کلامی کا ہے:
’ٹوٹ جانیند ٹوٹ جا۔ میں تھک گئی۔ سانس ختم ہوجائے گی۔ مرجاو¿ں گی۔ یہیں۔ نیند میں۔ پھرکیا ہوگا۔ صاحب عالم۔ مجھے جگادو۔ جہاں سورہی ہوں۔ اس جگہ ۔ میرے سینے پرسررکھ دو۔ میری بھنچی ہوئی مٹھیاں کھول دو۔ مجھے آوازدو۔ آہستہ سے ۔ دل کی دھڑکن میں ۔سانس کی گرمی میں۔ کوئی سن نہ لے۔ صرف میں سنوں۔‘
یہ اسلوب پورے ڈرامے پر چھایا ہواہے اوراسے قوت اور تابناکی عطاکرتاہے۔ ان خود کلامیوں کے علاوہ جو شاید امتیاز علی تاج کے شگفتہ رومانی طرز تحریر کے نمائندہ اورموثر نمونے کہے جاسکتے ہیں، مصنف کی فنکاری اوران مکالموں اوران صورت حالات کی عکاسی میں ظاہر ہوئی ہے جو مختلف کردار خود اپنی زبان میں اپنے مزاج کے مطابق اور صورت حال کے تقاضوں کے مطابق بے محابا اور بلاتکلف گفتگو کرتے ہیں اور اس ضمن میں انارکلی کا پہلا منظر نہایت کامیاب اورموثر ہے۔ تاج نے مغلیہ محل کے اندر کنیزوں کی شب وروز کی تخئیل کے ذریعے بازیافت کی ہے۔ پھر ان کنیزوں کے مزاج اور کردار کو ان کی شخصیتوں کے مطابق احساسات اور مکالمات کے ذریعے ظاہر کیاہے:
ہرمکالمہ دوسرے مکالمے کی طرف رہنمائی بھی کرتاہے اوراس کے لہجے کے اعتبار سے تخالف پیداکرتا چلتاہے۔ اس میں شک نہیں کہ رومانیت کے غلبے کی بناپر تاج نے مکالموں کو غیر ضروری طول دے دیاہے اوران طویل مکالموں میں جذباتیب بہت زیادہ غالب آگئی ہے لیکن اس کمزوری کے باوجود شاید انارکلی کو اردو کا بہترین ڈراما قراردینا مبالغہ نہ ہوگا۔
انارکلی کے اسٹیج کئے جانے کی دقتوں کا اکثر ذکر کیاجاتاہے۔ اس سلسلے میں بعض ناقدین کرام یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ اسے اسٹیج کیاہی نہیں جاسکتا اوریہ ڈراما دراصل اسٹیج کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ سین چھوٹے چھوٹے ہیں اورجلد تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔ مکالمے طویل ہیں۔ پراپرٹی (یعنی اسٹیج کا ساز وسامان۔ فرنیچر، پردے، سیٹ وغیرہ) اورلباس جلد جلد تبدیل کرنے پڑتے ہیں ۔ واقعاتی پہلوکم ہے۔ اسٹیج پرباتیں بہت ہوتی ہیں اور عمل کچھ نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتاہے ۔ واقعات بہت دیر میں رونما ہوتے ہیں۔ یہ بھی اعتراضات کم وبیش درست بھی ہیں لیکن یہ سب اعتراضات مل کر بھی اسے اسٹیج کے تقاضوں کے دائرے سے باہر نہیں کرتے خصوصاً آج کے دور کے اسٹیج کے جس میں اب سیٹ اورپراپرٹی کی پرانی جکڑبندیوں کی جگہ اشاراتی اسٹیج نے لے لی ہے۔
ابھی چند سال میں انارکلی کو دوبارہ اسٹیج پر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں ڈاکٹر سرجیت سنگھ سیٹھی نے اسے پٹیالہ میں اسٹیج کیا اوراسٹیج پر صرف تین خاص وضع کے پتھر تھے جن کی مدد سے اس اسٹیج کو کبھی مثمن برج، کبھی اکبرکی خواب گاہ اورکبھی زندان میں تبدیل کردیاجاتاتھا۔ ایک کنارے پر فصیل نماسیٹ کاSuggestiveساٹکڑا تھا اوربس!ڈرامانہایت موثر اور کامیاب تھا ۔ حتی الامکان تاج کے سبھی مکالموں کو جوں کاتوں قائم رکھا گیاتھا۔ دوسری بار ایوانِ غالب دہلی کے اسٹیج پر عزیز قریشی نے اسے روایتی سیٹ کے ساتھ پیش کیا۔ اس میںچمک دمک
زیادہ تھی۔ تاج کے طویل مکالموں میں بھی کچھ کتر بیونت کی گئی تھی اورڈرامے کا مجموعی تاثر مجروح ہوگیا تھا۔ مگر ان دونوں پیش کشوں سے یہ ضرور ظاہر ہواکہ انارکلی نہ صرف اسٹیج کے جدید تقاضوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر کوئی اچھا اور ذہین پروڈیو سراسے نہایت موثر ڈھنگ سے اسٹیج پرپیش کرسکتا ہے اورآج بھی انارکلی ایک جیتے جاگتے فن پارے کی حیثیت سے صرف پڑھنے والوں ہی کے لئے اسٹیج پر ڈراما دیکھنے اور اس سے لطف او انبساط حاصل کرنے والوں کو سرشار کرسکتی ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ اس فن پارے کو محض ادبی شہ پارے ہی کی طرح پڑھا اورپرکھا نہ جائے بلکہ اسٹیج ہونے والے ڈرامے کے سبھی رموز و آداب کے ساتھ مطالعہ کیاجائے۔
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.