قانون سے پہلے
افسانہ : فرانز کافکا، ترجمہ: اشرف لون، جے این یو ، نئی دہلی
قانون سے پہلے ایک دربان کھڑا ہے۔دو ر کسی دیہات سےایک شخص آتا ہے اور دربان سے قانون تک داخلے کی التجا کرتا ہے۔دربان اسے کہتا ہے کہ فی الحال وہ اسے قانون تک داخلے کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس پر یہ شخص تھوڑی دیر کے لیے سوچتا ہے اور پھر دربان سےکہتا ہے کہ کیا اسے بعد میں قانون تک داخلے کی اجازت دی جائے گی۔᾿ ᾿ایسا ہو سکتا ہے، مگر فی الحال یہ ممکن نہیں”دربان کہتا ہے۔جیسا کہ دروازہ معمول کے مطابق ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور دربان ایک طرف بیتھا ہے، یہ شخص دروزے کے اندر کی طرف دیکھنے کے لیے جھکتا ہے۔دربان کو اس شخص کی حرکتیں دیکھ کر ہنسی آتی ہے اور وہ اس سے کہتا ہے ᾿᾿ اگر آپ کو اندر جانے کا اتنا حی شوق ہے تو آ پ بلا جھجھک اندر جا سکتے ہیں۔مگر میری ایک بات یاد رکھنا، میں تمام دربانوں میں سے کم طاقتور ہوں۔ہر کمرے کے قریب آپ کو ایک دربا ن ملے گا جن میں ہر ایک اپنے پہلے واالے دربان سے زیادہ طاقتور ہے۔تیسرا دربان اتنا خوفناک ہے کہ میں اس کی طرف دیکھنا بھی برداشت نہیں کرتا ”-یہ ایسی مشکلات تھیں جن کا اس شخص کو جو دور کسی دیہات سے آیا تھا، گمان ہی نہ تھا، وہ یہ سوچ رہا تھا کہ قانون تک ہر ایک کی ہر وقت آسانی سے رسائی ہوتی ہوگی۔مگر اب جبکہ وہ دربان پر غور سے نظر ڈالتا ہے،جس کی ناک نوکیلی اور لمبی ہے اور جس کی تاتاری داڑھی ہے اور جس نے سنجاب پہن رکھا ہے،وہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہ اچھا ہے کہ انتظار کیا جائے جب تک اسے اندر جانے کی اجازت ملے۔دربان اسے ایک چوکی دیتا ہے اور دروازے کی ایک طرف بیٹھ جانے کے لیے کہتا ہے۔یہاں وہ کئی برسوں تک بیٹھے رہتا ہے،وہ بہت کوشش کرتا ہے کہ اس کی طرف توجہ دی جائے،اور وہ اپنے اڑیل پن سے دربان کو بہت پریشان بھی کرتا ہے۔دربان اس شخص کو مسلسل اس کے گھر اوربہت دوسری چیزوں کےبارے میں بڑی بے اعتنائی سے ایک حاکم کی طرح پوچھتا ہے اور ہمیشہ اپنی بات اس دعوے پر ختم کر تا ہے کہ ابھی اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس شخص نے سفر کے لیے بہت سی چیزیں اپنے ساتھ رکھی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ ہر ایک چیز خواہ وہ کتنی ہی بیش قیمت کیون نہ ہو دربان کو بطور رشوت نظر کر دیتا ہے۔دربان ہر ایک چیز کو قبول کرتا ہے مگر اس قول کے ساتھ”میں اس چیز کو اس صرف اس لیے لیتا ہوں تاکہ آپ کو یہ سوچنے سے باز رکھوں کی آپ کوئی چِز بھول گئے ہیں’ ’۔ان متعدد برسوں کے دوران یہ شخص اپنی پوری توجہ اس دربان پر مرکوز کرتا ہے۔وہ دوسرے دربانوں کو بھول جاتا ہے ،اسے اب لگتا ہے کہ یہ پہلا دربان تن تنہا ہے اسے قانون تک داخلے سے روکے رکھا ہوا ہے۔وہ جوانی میں اپنی قسمت کو بڑی بے باکی سے کوستا ہے۔بعد میں عمر کے آخری ایام میں وہ اپنے آپ پر بڑبڑانے لگتا ہے۔وہ بچوں جیسی حرکتیں کرنے لگتا ہے،اور چوںکہ وہ دربان پر کئی برسوں سے دھیان دیتا آتا رہا ہےوہ اس کے سنجابی کالر میں چھپے پسو وُں کو بھی دیکھ لیتا ہے۔وہ ان پسو وُں سے مدد کی اوردربان کی سوچ بدلنے کی التجا کرتا ہے۔کچھ حد تک اس کی بینائی بھی کمزور ہو جاتی ہے اور وہ یہ بھی نہیں سمجھ پاتا ہے کہ کیا واقعی دنیا تاریک ہے یا اسے اس کی آنکھیں دھوکہ دے رہی ہیں۔تاہم اب تاریکی میں بھی اسے قانون کے در سے ایک امید کی کرن نظر آتی ہے۔اب وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا ۔موت کے دہانے پر پہںچ کر اس کے دماغ میں وہ تمام تجربے ایک نقطے پر آ کر جمع ہو جاتے ہیں جن سے وہ ان برسوں میں گزرا۔ایک ایسا سوال جو اب تک اس نے دربان سے نہیں پوچھا تھا، اب جبکہ وہ اپنے کمزور جسم کو ہلا بھی نہیں سکتا، وہ دربان کو قریب آنے کا اشارہ کرتا ہے۔دربان اپنے جسم کو بہت نیچے جھکاتا ہے کیوںکہ ان دونوں کی لمبائی میں کافی فرق ہے۔” اب آپ کیا جانناچا ہتے ہیں”دربان اس شخص سے کہتا ہے۔” تم بڑے حریص ہو ، ہر ایک قانون تک داخلے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے ، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان برسوں میں کسی نے نہیں بلکہ صرف میں نے ہی قانون تک داخلے کی التجا کی؟” یہ شخص دربان سے کہتا ہے۔دربان کو اب لگتا ہے کہ یہ شخص اپنے خاتمے کے قریب پہںچ گیا ہے اور اس غرض سے کہ اس شخص کے کمزور حواس الفاظ کے معنی کو پکڑ سکیں وہ اس کے کان میں اونچی آواز سے بولتا ہے: ” آئیندہ کبھی بھی کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور چوںکہ یہ دروازہ صرف آپ کے لیے کھلا رکھا گیا تھا اب میں اسے بند کرنے جا رہا ہوں ”۔
افسانہ : فرانز کافکا Franz Kafka ] ترجمہ: اشرف لون
۱۱۴۔جہلم ہوسٹل جے این یو نئی دہلی۔۱۱۰۰۶۷
 گِدھ
افسانہ : فرانز کافکا، ترجمہ: اشرف لون، جے این یو ، نئی دہلی
گدھ میرے پاؤں پر ضرب پر ضرب لگائے جا رہا تھا۔اس نے پہلے ہی میرے جوتے اور موزے پارہ پارہ کیے تھے اور اب اس کی ضرب خود بخودپاؤں تک پہنچ چکی تھی۔ بار بار اس نے ان پر ضرب لگائی پھر میرے ارد گرد بڑے اضطراب سے بہت چکر لگا ئے،پھر اپنا کام جاری رکھنے کے لیے اپنی جگہ پر واپس آگیا۔ ایک معزز شخص وہاں سے گزر رہا تھا ،اور اس نے میری طرف کچھ دیر کے لیے دیکھا،پھر مجھ سے کہا کہ گدھ میرے پاؤں کیوں کھا رہا ہے۔”میں بے یارومددگار ہوں“میں نے اس سے کہا۔”جب یہ آیا اور اس نے مجھ پر حملہ کرنا شروع کیا ، میں نےاس وقت بے شک اس کو بھگانا چاہا حتٰی کہ میں نے اس گلا گھونٹنا بھی چاہا،مگر یہ جانور بہت مضبوط ہوتے ہیں، یہ میرے چہرے پر حملہ کرنے والا تھا،مگر میں نے اپنے پاؤں کی ہی قربانی دینی پسند کی۔اب میرے پاؤں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ہیں“۔”میں حیران ہوں کہ آپ اپنے آپ کو اس طرح اذیت دے رہے ہیں “۔” اس معزز شخص نے کہا۔ ایک ضرب کے ساتھ اس گدھ کا کام تمام ہوجائے گا“۔”کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے ؟“ میں نے اس سے کہا۔”اور کیا تم یہ کروگے؟“ ” مجھےیہ کرتے ہوئے خوشی ہوگی“ معزز شخص نے کہا۔مجھے صرف گھر جانا ہوگا اور وہاں سے بندوق لانی ہوگی۔ کیا آپ مزید آدھے گھنٹے تک انتظار کر سکتے ہیں؟“” میں اس کی یقین دہانی نہیں کرا سکتا“ میں نے کہا اور کچھ دیر کے لیے بڑے شدید درد کے ساتھ کھڑا رہا۔ پھر میں نے کہا:”مہربانی کر کے کسی بھی طرح اس کی پوری کوشش کیجئیے“۔”اچھا ٹھیک ہے“ اس معزز شخص نے کہا،”جتنی جلدی ہوسکتا ہے میں کوشش کروں گا۔“ ہم دونوں کی گفتگو یہ گدھ بڑی خاموشی سے سن رہا تھااور ہم دونوں کو گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔ اب مجھے لگا کہ اس نے سب کچھ سمجھ لیا ہے،اس نے اپنے پر پھیلائے اور قوت حاصل کرنے کے لیے پیچھے کی طرف بہت مڑا، اور پھر،برچھی کی طرح،اپنی چونچ زور سے میرے منہ میں بہت اندر تک ڈال دی۔ پیچھے کی طرف گرتے ہوئے میں نے راحت محسوس کرتے ہوئے دیکھا کہ یہ گدھ میرے خون میں ڈوبتا ہی جا رہا تھا،یہ ہر گہرائی تک پہہنچ رہا تھا اور ہر ساحل کو سیراب کر رہا تھا۔
افسانہ : فرانز کافکا Franz Kafka ] ترجمہ: اشرف لون
۱۱۴۔جہلم ہوسٹل جے این یو نئی دہلی۔۱۱۰۰۶۷
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.