اردو شاعری میں تاج محل
سہیل انجم
  
ایک شخص ایک عمارت کے زیر سایہ کئی گھنٹے سے لیٹا ہوا اسے گھور رہا تھا۔ اس کی یہ حرکت ایک دوسرا شخص بغور دیکھتا رہا اور جب اس کی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آیا تو اس دوسرے شخص نے اس کے پاس جا کر کہا کہ بھائی کیا بات ہے تم کئی گھنٹے سے اس عمارت کو گھورے جا رہے ہو، کیا مقصد ہے؟ اس شخص نے جواب دیا کہ میں اپنی آنکھوں سے اس عمارت کے در ودیوار کے حسن کو پی جانا چاہتا ہوں لیکن میری پیاس ہے کہ بجھتی ہی نہیں اور دل ہے کہ اس کے دیدار سے سیراب ہی نہیں ہوتا۔ وہ شخص ایک انگریز تھا اور عمارت تھی تاج محل۔ جی ہاں! تاج محل میں کچھ ایسی ہی کشش ہے کہ اس کے دیدار سے نہ تو آنکھیں سیراب ہوتی ہیں اور نہ ہی اس کی پیاس بجھتی ہے۔ جس نے ایک بار اس عمارت کا دیدار کر لیا اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بار بار اسے دیکھے اور اپنی تشنہ چشمی کو سیراب کرے۔ تاج محل محض ایک عمارت نہیں ہے بلکہ محبت کی ایک ایسی لازوال نشانی ہے جسے دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں اور اپنی آتش دید کو مزید بھڑکا کر لوٹ جاتے ہیں۔
تاج محل پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، نثر میں بھی اور نظم میں بھی۔ اردو شاعری بھی اس کے قصیدے سے خالی نہیں ہے۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا کہ اردو زبان محبت کی زبان ہے، پیار کی زبان ہے اور دلوں کو جوڑنے والی زبان ہے۔ لیکن اب تک ایسا کوئی مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا تھا جس میں تاج محل پر لکھی گئی نظموں اور گیتوں کو یکجا کیا گیا ہو۔ یہ کام افتخار الزماں کی قسمت میں لکھا ہوا تھا جو کہ آل انڈیا ریڈیو کے نیشنل چینل میں برسر روزگار ہیں اور اس کے اردو پروگرام ’’منظر‘‘ سے وابستہ ہیں اور ادبی دنیا میں معروف شناخت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ’’اردو شاعری میں تاج محل‘‘ کو ایک کتابی شکل میں مرتب کرکے اہل دل کے لیے ایک خوبصورت تحفے کا بندوبست کر دیا ہے۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ جو سیاح تاج محل کا دیدار کرنے جاتے ہیں وہ وہاں سے پتھر یا لکڑی یا شیشے یا کسی اور چیز کا بنا ہوا تاج محل ضرور خریدتے ہیں تاکہ وہ اس عظیم عمارت سے اپنی وابستگی کا ثبوت دے سکیں۔ بہت سے لوگ اپنے محبوب کو اسی تاج محل کا تحفہ دیتے ہیں تاکہ وہ اس کے توسط سے اپنے پیار کا اظہار کر سکیں۔ لیکن اب تاج محل کے تحفے میں ایک اور تحفے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اب کوئی بھی ایسا شخص جو اردو جانتا ہوگا وہ یہ تحفہ خریدے گا
اور اپنے اردو جاننے والے محبوب کو اسے پیش بھی کرے گا۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ اس کتاب میں تاج محل سے متعلق نظموں کو یکجا کر دیا گیا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ افتخار الزماں نے تاج محل کے شایان شان اس کو چھپوایا بھی ہے۔ اتنا خوبصورت ٹائٹل اور اتنی اچھی طباعت کہ دیکھتے ہی زبان سے ’’واہ تاج‘‘ کا لفظ پھسل جائے۔ کتاب کے شروع میں فہرست سے قبل ہی غلام محمد بخشی کا ایک قطعہ زیب دامن ہے جو تاج محل کے حسن کی بھرپور گواہی دے رہا ہے۔ اس کے بعد افتخار الزماں نے حرف آغاز کے عنوان سے اس کتاب کے سبب ترتیب اور پھر تاج محل کی تاریخ پر ایک بھرپور مضمون قلمبند کیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی معلوماتی مضامین بھی کتاب میں شامل ہیں۔ جو تعمیری و تاریخی اور شاعرانہ نقطہ نگاہ سے لکھے گئے ہیں۔ افتخار الزماں مغلیہ عہد میں فنون لطیفہ پر روشنی ڈالنے کے بعد تاج محل کے بارے میں لکھتے ہیں ’’شاہ جہاں نے (ہندوستان کو) تاج محل دے کر ہند اسلامی طرز تعمیر اور فنکاری کی تاریخ میں سب سے سنہرے باب کا اضافہ کیا ہے ۔۔۔دوہرے گنبد اور سنگ مرمر کا تصور ہمایوں کے مقبرے سے لیا گیا ہے، حضرت شیخ سلیم چشتی کی درگاہ سے سنگ مرمر پر جالیوں کے تراشنے کا انداز، فتح پور سیکری کے قلعہ کے سرخ پتھر کی دیواروں کا مزاج، عماد الدولہ کے مقبرے کی میناکاری و کشیدہ کاری اور مانڈو کی عمارتوں کے باغات کے حسن کو تاج محل میں شامل کیا گیا ہے‘‘۔ ڈاکٹر عتیق انور صدیقی نے تاج محل کے منظر اور پس منظر پر روشنی ڈالی ہے۔ معروف ادیب وصحافی حقانی القاسمی نے افتخار الزماں کی شخصیت پر اظہار خیال کرنے کے ساتھ ساتھ کتاب کے مشمولات پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’اردو شاعری میں تاج محل‘‘ سے افتخار الزماں کی جستجو کو ایک نئی منزل مل گئی ہے۔ امید ہے کہ آئندہ بھی وہ ایسی منزلیں تلاش کرتے رہیں گے جہاں صرف اور صرف روشنی ہے، خوشبو ہے، رنگ ہے۔ ایک بہت معلوماتی مضمون دل تاج محلی کا ہے جس میں انہوں نے بہت سی ایسی تفصیلات جمع کر دی ہیں جو عام قاری کے لیے بے حد مفید اور معلومات افزا ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس عمارت کی تعمیر میں کافی دشواریاں پیش آئی تھیں اور دن میں ہونے والی تعمیرات کو انجانے ہاتھ رات میں گرا دیتے تھے۔ بالآخر بادشاہ نے بخارا کے چار حقیقی بزرگ بھائیوں کو بلوایا او رانہوں نے اپنی عبادت وریاضت سے اس پریشانی سے نجات دلائی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس عام تصور سے الگ تصور قائم کیا ہے کہ یہ عمارت محبت کی نشانی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاہ جہاں نے یہ عمارت جذبہ محبت سے نہیں بلکہ دینی جذبے سے بنوائی تھی اور اس کی ہوائیں وحدانیت کا پیغام سناتی ہیں۔ بہر حال اس کتاب میں ان اہم مضامین کے علاوہ ۱۴۰؍ اردو شاعروں کا کلا م جو کہ تاج محل سے متعلق ہے شامل کیا گیا ہے۔ کتاب کی اہمیت اسی وجہ سے ہے کہ اس میں اردو شاعری میں تاج محل پر لکھی گئی نظموں اور گیتوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ بہت سی نظمیں جو بہت پہلے لکھی گئی تھیں وہ بھی اس میں شامل ہیں اور بہت سی نئی نظموں کے علاوہ ایسی نظمیں بھی اس میں شامل ہیں جوشعرا نے افتخار الزماں کی فرمائش پر اس مجموعہ کے لیے بطور خاص لکھ کر دی ہیں۔ اس مجموعہ میں احسان دانش، ساحر لدھیانوی، علامہ اقبال، شکیل بدایونی، سیماب اکبر آبادی، حفیظ بنارسی، مہدی نظمی، نظیر اکبرآبادی، سلام مچھلی شہری، ناوک حمزہ پوری اور پروین شاکر کی معرکۃالاآرا نظمیں ہیں تو موجودہ عہد کے شاعروں کا کلام بھی اس میں شامل ہے۔ شکیل بدایونی کی وہ نظم کسے یاد نہیں ہوگی کہ: اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل، ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے۔ ساحر لدھیانوی کی یہ نظم کون بھول سکتا ہے جس کا آخری شعر یوں ہے کہ : اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر، ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق۔ وہیں اصغر گونڈوی نے کہا تھا : تم بھلا جانتے ہو سچی محبت کیا ہے، کیا اڑا سکتا ہے کوئی بھی محبت کا مذاق۔ یا پھر اجمل سلطانپوری کا یہ گیت کون فراموش کر سکتا ہے کہ : میں ترا شاہ جہاں تو مری ممتاز محل، آتجھے پیار کی انمول نشانی دے دوں۔ جب اجمل سلطانپوری مشاعروں میں یہ گیت سناتے تھے تو پورا مشاعرہ جھوم جھوم جاتا تھا۔ احسان دانش نے اس عجوبہ روزگار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا : مری طویل خموشی سے بد گمان نہ ہو، ہے لاجواب زمانے میں تاج کی تعمیر۔ تو علامہ اقبال نے کہا تھا : چشم بینا روضہ ممتاز کی تعمیر دیکھ، سنگ مرمر میں کبھی تخئیل کی تصویر دیکھ۔ یہ تمام نظمیں اور گیت اس میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ابراہیم اشک، اختر اورینوی، سکندر علی وجد، سید حرمت الاکرام، شجاع خاور، شفیق جونپوری، اقبال اشہر، شکیل اعظمی، علیم صبا نویدی، فراغ روہوی، قیصر شمیم، کوثر مظہری، محبوب راہی، مخمور سعیدی، معصوم شرقی، مہدی نظمی، ناوک حمزہ پوری، وقار مانوی، بسمل عارفی، عمران عظیم، کمال جعفری، مناظر عاشق ہرگانوی، ابرار کرت پوری، اسد رضا اور بی ایس جین جوہر جیسے شعرا کا کلام بھی موجود ہے۔ جناب افتخار الزماں نے جب یہ کتاب مرتب کی ہوگی تو بڑے پس وپیش میں پڑے ہوں گے کہ وہ شعرا کو کس ترتیب میں رکھیں۔ زمانی اعتبار سے یا فنی اعتبار سے۔ انہوں نے بیچ کا راستہ یہ نکالا کہ حروف تہجی کے اعتبار سے شعرا کی فہرت سازی کی ہے۔ یہ راستہ محفوظ تو ہوتا ہے لیکن اس میں حفظ مراتب کا خون ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مجموعہ میں بھی بہت سے کلاسیکی شعرا موجودہ عہد کے شعرا کے پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں اور بعض مبتدی شعراصف اول کے شعرا سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن بہر حال اپنی مجبوریوں کے پیش نظر ہی شائد افتخار الزماں نے بہت سوچ سمجھ کر حروف تہجی کو بنیاد بنایا ہے۔ یہ مجبوری اس قسم کا کام کرنے والے ہر مرتب کے سامنے آتی ہے اور وہی مرتب کامیاب ہوتا ہے جو اس مرحلے سے بحسن و خوبی گزر جائے۔ اس کتاب کے مرتب بھی اس مشکل مرحلے سے سلامت روی کے ساتھ گزر گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب اپنے موضوع پر پہلی اور اب تک کی واحد اور آخری کتاب ہے۔ اس کے مرتب ایک لائق ادیب اور صحافی ہیں۔ ان کا یہ کام بلا شبہ لائق ستائش ہے اور اس کے لیے ان کو مبارکباد پیش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس کتاب کی ترتیب اور اشاعت میں بہت محنت اور دقت نظر سے کام لیا ہے۔ اشاعت اتنی عمدہ اور ٹائٹل اتنا دلکش و دیدہ زیب ہے کہ جس طرح تاج محل پر نظر نہیں ٹھہرتی اسی طرح اس پر بھی نظر نہیں ٹھہرتی۔یہ مجموعہ تاج محل اور اردو زبان وشاعری سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کے گھر میں ہونا چاہیے۔ امیدہے کہ ایسا ہی ہوگا اور شائقین اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے اور اپنے جذبہ محبت کا بھرپور ثبوت دیں گے۔ ۴۸۲ صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت پانچ سو روپے ہے جو بظاہر زیادہ لگتی ہے لیکن کتاب کی اہمیت کے پیش نظر زیادہ نہیں ہے کیونکہ ایک تو اپنے موضوع پر یہ پہلی، واحد اور آخری کتاب ہے اور دوسری بات یہ کہ اس کی طباعت، کاغذ، معیار اور خوبصورتی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔ اسے افتخارالزماں سے 09818441377پر رابطہ قائم کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے یا پھر F-22سکینڈ فلور شاہین باغ نئی دہلی سے بذریعہ ڈاک کتاب منگائی جا سکتی ہے۔ آخر میں اسی کتاب سے کچھ بہترین نظموں اور گیتوں کے نمونے ملاحظہ فرمائیں:
شکیل بدایونی
تاج وہ شمع ہے الفت کے صنم خانے کی
جس کے پروانوں میں مفلس بھی ہیں زردار بھی ہیں
سنگ مرمر میں سمائے ہوئے خوابوں کی قسم
مرحلے پیار کے آسان بھی دشوار بھی ہیں
دل کو اک جوش ارادوں کو جوانی دی ہے
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے
اجمل سلطانپوری
ہائے یہ ناز، یہ انداز، یہ غمزہ، یہ غرور
اس نے پامال کیے کتنے شہنشاہوں کے تاج
نیم باز آنکھوں میں یہ کیف یہ مستی یہ سرور
پیش کرتے ہیں جسے اہل نظر دل کا خراج
یہ تبسم یہ تکلم یہ سلیقہ یہ شعور
شوخ، سنجیدہ، حیادار، حسیں، سادہ مزاج
آ ترے واسطے تعمیر کروں تاج محل
آ تجھے پیار کی انمول نشانی دے دوں
اقبال اشہر
میں وقت کی دہلیز پہ ٹھہرا ہوا پل ہوں
قائم ہے مری شان کہ میں تاج محل ہوںسید حرمت الاکرام
کہتا ہے زمانہ پیار جسے جذبات کی اس برنائی کا
مرمر کی چٹانوں کی زد پر ٹھہری ہوئی اک انگڑائی کا
اک نقش جواں ہے تاج محل
سیماب اکبرآبادی
پر سکوں حسن ومحبت کا یہ اک طوفان دیکھ
جس کے حسن وعشق دو عنواں ہیں وہ رومان دیکھ
بی ایس جین جوہر
چاندنی رات میں سب دیکھتے ہیں تاج محل
ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہو کوئی راج محل
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.