موت کی تمنا۔۔۔۔۔۔۔۔افسانہ
محمد الیاس ندوی رام پوری
عین اُس وقت جب وہ لذتیں کشید کررہا تھا............. ایک رال اس کے بھدے کالے نچلے ہونٹ سے ٹپکی اور برہنہ جلد پر گرپڑی............. اْس وقت اس نے تمنا کی ’کاش لذتوں کا اختتام نہ ہوتا‘.............اس نے سوچا موت لذتوں کی قاتل ہے.............اس نے نگاہ اٹھائی اور آسمان کو دیکھنا چاہا مگر نگاہ چھت سے ٹکراگئی.............پر باطن کی نگاہ کانکریٹ کی موٹی چھت سے جس پر نیل ملے چونے کی دبیز تہہ جمی ہوئی تھی اس طرح پار نکل گئی جس طرح دھوپ شیشے کے پار نکل جاتی ہے.............اب وہ دل کی نگاہوں سے آسمان دیکھ رہا تھا اور آسمان کی بلندیوں میں کہیں چھپا ہوا موت کا خالق اسے نظر آ نے لگاتھا............. اس نے تمنا کی اور پھر تمنا دعا بن کر اس کے موٹے بھدے لبوں کے درمیان سے ابھری.............دعا جس میں خواہش کی آگ میں جلتے ہوئے ہر موئے بدن کی سسکاریاں شامل تھیں، گہرے اندھیرے اور سناٹے میں تن تنہا ساتویں آسمان کی بلندیوں کی طرف پرواز کر گئی۔ ’’ اے موت کے خالق !تونے موت کوکیوں پیدا کیا.............زندگی کی پیدائش کے بعد موت کی تخلیق کی کیاتُک بنتی ہے.............آخر کیا جواز بنتا ہے کہ موت زندگی کی رنگینیوں کے درمیان بنا کسی طے شدہ پروگرام اور پیشگی اطلاع کے آئینہ کی دکان میں آوارہ بیل کی طرح درآئے اور پھر سب کچھ یک لخت ختم ہوجائے۔یہاں تک کہ شیشہ کا ایک ٹکڑا بھی نہ بچے جس میں آدھا ادھورا چہرہ دیکھا جاسکے اور ایک آدھاادھورا بانس بھی باقی نہ رہے جس سے ٹوٹی پھوٹی بانسری بنائی جاسکے۔اور دل ونگاہ کے تاروں میں ارتعاش پیدا کیا جاسکے.............اے موت کے خالق! مجھے موت نہ دینا کہ مبادا لذتوں کا تار ٹوٹ جائے.............اے زندگی اور موت کے خالق !جب تونے لذتوں کے تار میں ارتعاش پیدا کیا ہے تو اسے مزید مرتعش کراور آدمی کے سر سے موت کا کھٹکا ہٹا دے.............تا کہ وہ بے کراں وسعتوں میں بنا کسی خوف کے اُڑے اور ہمیشہ اُڑتا رہے اورموت کے ڈرسے اس کارنگ کبھی بھی زرد نہ ہو.............اے زندگی اورموت کے خالق!.............‘‘ وہ زیر لب بدبداتا رہا.............اس کی نگاہ کا تل ابھی تک نیل ملے چونے کی دبیز تہہ پر جما ہوا تھا۔
پھر دل کی نگاہ کا چراغ بجھ گیا اور موت کا خالق بصیرتوں سے اوجھل ہوگیا۔اب اس کی نگاہ کی حد پر بارہ فٹ اونچی کانکریٹ کی چھت تھی، جس کے بالکل درمیان میں بجلی کا پنکھا دھیمی رفتار سے چل رہا تھا۔اس کا کشادہ بیڈ روم جدید زمانے کے تمام ضروری سازوسامان سے آراستہ تھا۔اور آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے حسین رات تھی۔وہ گزشتہ بیس سالوں سے اسی رات کی جستجو میں سرگرداں تھا۔اسے لگا کہ اس کی زندگی اَن گنت لمحات کی چین ہے اور اس کا ہر لمحہ اِس چین کو دھیرے دھیرے سرکاتا ہے یہاں تک کہ وہ لمحہ اچانک آدمی کی ٹانگوں کے درمیان آکھڑا ہوتا ہے جس کا اسے بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔آج اسے اپنی زندگی کے تمام لمحات میں رس بھراہوا محسوس ہورہا تھا۔ان میں بھی جو اسے اس وقت کڑوے کسیلے لگے تھے جب ان میں سے ہر ایک لمح�ۂ موجود تھا اور ماضی کی گرد میں گم نہیں ہوا تھا۔
پھرایک ساتھ کئی ساری جوشیلی بوندیں گریں اور لذتوں کا تار ٹوٹ گیا۔ اسے لگا جیسے کسی نے جلتے توے پر پانی ڈال دیا اور وہ ایک طرح کی اضطرابی کیفیت کے بعد ٹھنڈا پڑ گیا۔جیسے طاق پر رکھا ہوا چراغ آخری سانس لینے سے پہلے بھڑکتا ہے اور اپنے پیچھے دھوئیں کی مضطرب اور سیمابی لکیر چھوڑ جاتا ہے۔ پھر وہ اٹھ بیٹھااور اوندھے منہ لیٹ گیا۔ابھی اس کی بے ترتیب سانسیں اپنے معمول پر بھی نہیں آئی تھیں کہ اس کے دماغ میں غم روزگار کی فکروں کے درمیان مہابھارت چھڑ گئی.............
’’اس سے تو یہی بہتر ہے کہ آدمی ساری زندگی لذتیں کشید کرتا رہے‘ ‘اس نے سلگتے ہوئے دماغ سے سوچا اور نیند کی راہوں میں چراغاں کرنے کی کوششوں میں جٹ گیا۔مگر نیند کسی کی خواہشوں کا احترام کہاں کرتی ہے اور کسی کے چراغاں کرنے کی کچھ پرواہ کب کرتی ہے۔اسے تو اپنے وقتوں اور اپنے راستوں کی فکر ہے.............پھر وہ سوچ کی آگ میں جلنے لگا.............
’’مگر موت فکرِ غمِ روز گار کی بھی تو قاتل ہے۔‘‘اس نے دل میں سوچا۔ اور اس بار اسے لگا کہ موت اپنے اندر کچھ نہ کچھ تُک تو ضرور رکھتی ہے۔موت ناقابل برداشت درد کے واسطے پین کلر ٹیبلیٹ کی طرح ہے۔
ہوائیں اپنی رفتارسے چلتی رہیں ، موسم اپنے انداز اورحساب سے تبدیل ہوتے رہے، آفتاب اور چاند آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔آفتاب نکلتا تو چاند کہیں دور کسی اوٹ کے پیچھے چھپ جاتا اور جب چاند نکلتا تو آفتاب دورکہیں نظر نہ آنے والی جگہ پر جا چھپتا۔آفتاب اور چاند کی آنکھ مچولی کے درمیان سے وقت دھیرے دھیرے سرکتا رہاجس طرح چاندنی رات دھیرے دھیرے سرکتی ہے۔درودیوار سے ،چھتوں سے اور پھر کھیت کھلیانوں سے۔یہاں تک کہ آفتاب کی سنہری کرنیں زمین کے ایک حصہ کو منور کرنے لگتی ہیں اور لذتیں کشید کرنے والے خمار آلود آنکھیں مسلتے ہوئے اورانگڑائیاں لیتے ہوئے خواب گاہوں سے نکلتے ہیں۔اور پھر معمول کے مطابق اپنے اپنے کاموں میں کولھو کے بیل کی طرح جٹ جاتے ہیں تاکہ لذتوں کی کشود میں مئے انگبیں کی لاگ کا احساس پیدا ہواور اگلی رات کو پچھلی رات سے زیادہ حسین اورلذت انگیز بنایا جاسکے۔
پھر وہ دھیرے دھیرے غیر محسوس طریقہ سے بڑھاپے کی طرف بڑھنے لگا جیسے سایہ غیر محسوس طریقہ سے درودیوار پر چڑھتا اور اترتا ہے۔ اسے لگا جیسے اس کی مٹھی سے ریت کھسک رہی ہے۔ اور اس کے بدن سے کوئی چیز آہستہ آہستہ نکل رہی ہے۔ جیسے کوئی شمع کے بدن سے ڈورنکال لے اور شمع کو پتہ ہی نہ چلے کہ اس کی متاع گم ہو گئی ہے.............اور پھراس کی جگہ خلارہ جائے، باریک اور لمبا۔پھر اسے لگا جیسے اس کے اندر خلا وسیع ہورہا ہے اور بھوک بڑھ رہی ہے۔ اس کے خالی خولی جسم میں آوارہ ہوائیں دندناتی پھر رہی ہیں اور اس کی ہوس کو دو آتشہ بنارہی ہیں.............بینائی روز بروز بوڑھی ہورہی ہے اور شوقِ نظارہ دن بہ دن جوان ہورہا ہے۔اس کی آنکھوں کے آگے اندھیر چھانے لگا اور اس کے ہاتھ پیر کپکپانے لگے۔
اس عجیب طرح کی کیفیت سے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں گزرا تھا............. جب وہ جوان تھا تو طاقت اور بھوک ایک ساتھ بڑھتی تھیں مگر اب ایسا نہیں تھا۔اب جسم رکھنے والی چیزیں روز بروز کمزور ہوتی جارہی تھیں اور جسم نہ رکھنے والی چیزیں زور پکڑتی جاتی تھیں۔بدن گھل رہا تھا اور روح طاقت پکڑ رہی تھی ، اعضا سست پڑ رہے تھے اور خواہشیں فربہ ہورہی تھیں۔ اس کے من میں موت کی تمنا جاگ اٹھی اور وہ اپنی اس خواہش کی آگ میں جلنے لگا.............بالکل اسی طرح جس طرح وہ اس سے قبل زندگی اور زندگی کی پنڈلیوں سے لذتیں کشید کرنے کی خواہشوں کی آگ میں جل رہا تھا............. مگرموت کی خواہش کی آگ میں جلنا اس کے لئے موت کی تمہید نہ بن سکا ۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اسے کسی چیز کے واقع ہونے سے پہلے ہی اس کا ادراک کرلیا۔اس نے وقت سے پہلے............. بہت پہلے آنے والی المیہ زندگی کے بھاری قدموں کی دھمک محسوس کرلی تھی۔اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا اور لمبی لمبی سانسیں کھینچنے لگا۔
’’ یار! تم تو نرے وہی ہو.............وہ کیا کہتے ہیں.............؟؟‘‘
’’بدھو.............‘‘
’’ہاں !بدھو‘‘ اس کے ایک چاپلوس مزاج دوست نے لقمہ دیاتو اسے یاد آیا۔
اس وقت جب اس نے اپنے جگری دوست سے محض رواروی میں یہ جملہ کہا تھا تب اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ جملہ اس قدر منحوس ہے کہ اس کا دوست اسے ہمیشہ کے لیے اکیلا چھوڑ کر پردیس چلا جائے گیا۔مگر اس نے اپنے جانے کی وجہ نہیں بتائی تھی۔ شروع شروع میں اس کے خط اور فون آتے رہے۔پھر یہ سلسلہ بھی منقطع ہوگیا اور اسے لگا جیسے وہ اکیلا ہوتا جا رہا ہے۔پھر اس نے اپنے اسی طرح کے منحوس جملوں اور رویوں کا جائزہ لیا تو اسے سمجھ آئی کہ اسی باعث اس کے اہلِ خانہ اور اس کے اپنے درمیان دوریوں کے پودے پنپ رہے ہیں۔یہ جان کر اسے اور بھی اکیلے پن کا احساس ہوا.............
ماں جس کے پہلو سے اس نے جنم لیا تھا، بیوی جس کے پہلو میں وہ سویا کرتا تھا،بیٹی جسے دیکھ کر وہ جیتا تھا اور بیٹا جسے اس نے بڑھاپے کا آخری اور واحد سہارا سمجھ کر اللہ سے مانگا تھاوہ سب اس سے شاکی رہنے لگے اور اس سے کھنچے کھنچے رہتے تھے جیسے وہ زمین پر نہ چل کر ان کے سینوں پر چل رہا ہو۔بجلی کے پنکھے کی رفتا ر کم کرنے کے لئے اسے ہزار بار سوچنا پڑتا۔ٹی وی کا چینل بدلنے کے لیے اسے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا پھر جب سب اپنے اپنے کام سے چلے جاتے تو وہ دیر تک سوچتا رہتا اور پھر اپنی ساری قوت جمع کرکے اٹھتا ، وہ سوچتا کہ یہ سب میری ہی ملکیت ہے ، یہ میری اپنی کمائی ہے ، وہ اپنی ہتھیلی کی پشت پر ابھری ہوئی کالی نسوں کے جال کو چھوتا اور پھر کانپتے ہاتھوں سے بٹن دباتا، اسکرین پر اس کا من پسند چینل چلنے لگتا، پنکھے کی رفتار دھیمی کرتااور اسے ذرا ذرا راحت کا احساس ہوتا۔ان میں سے کسی کی موجودگی میں وہ ایسا نہیں کرسکتا تھا۔اسے تنہائیاں اچھی لگنے لگتیں.............مگر جب یہ زیادہ دیر ٹہر جاتیں، گھر کے سارے افراد دعوتوں میں چلے جاتے تو یہ تنہائیاں اسے بے سہارا جان کر پاگل کتوں کی طرح لپٹ جاتیں اور اس کے سارے بدن کو لہولہان کردیتیں۔اس کے لیے گھر کے معنیٰ یکسر بدل جاتے اور اسے لگتا کہ الفاظ اپنے مدلولات پر دلالت نہیں کرتے۔ تب اسے احساس ہوتا کہ قیس نے گھر کیوں نہیں بنایااور رشی گپھاوؤں میں رہنا کیوں پسند کرتے تھے۔اسے اپنے ہی گھر میں قید ہونے کا احساس ہوتا.............کبھی کبھی وہ سوچتا کہ شاید یہ گھر اس کا اپنا نہ ہو.............وہ چوری چھپے الماری سے کاغذات نکالتا اور بے تابی سے دیکھنے لگتا............. ان پر آج بھی اس کا نام اسی طرح لکھاہوا تھا۔وہ کاپنتے ہاتھوں کے ساتھ اپنے نام کے ایک ایک حرف کو چھوتا جیسے وہ اپنے شیر خوار بیٹے اور بیٹی کو انگلیوں کے پوروں سے چھوتا تھا.............پھر وہ کاغذات کو اپنے سینہ سے چمٹا لیتا.............یہ ساری جائداد میری ہے اور یہ گھرآج بھی میری ملکیت ہے۔نمکین پانی کے کئی قطرے یکے بعد دیگرے اس کی آنکھوں کے تٹ سے اتر کر سوکھے اور پوپلے رخساروں کی گہری کھائی جیسی جھریوں میں جذب ہوجاتے۔
پھر ایک دن اس نے اپنے سراپا پر غور کیا اسے لگا کہ ایک ایک کرکے ساری چیزیں اس سے دور بھاگی جارہی ہیں۔جیسے دھواں شمع سے دوربھاگتا ہے اور جس طرح بوئے گل چمن سے چوری چھپے نکلتی ہے۔اسے لگا کہ بینائی آنکھوں کا ساتھ چھوڑ رہی ہے، دماغ یادداشت کو پکڑے رکھنے کی پوزیشن میں نہیں رہا،زبان قوت گویائی کھورہی ہے، قوت سماعت کان کے پردوں کی گرفت سے آزادی چاہتی ہے۔ہڈیوں نے گوشت چھوڑدیا او ر دانت گوشت پوست کی سرخ زمین چھوڑ کر مٹی اورپتھروں والی زمین میں کہیں دفن ہوکر پودوں کی تازہ غذا کا حصہ بن چکے ہیں۔دماغ کو شکایت ہے کہ اب کوئی اس کی نہیں سنتا۔ وہ دس بار حکم دیتا ہے تو ہاتھ ایک بار ہی ہلتے ہیں۔سو بار چلاتا ہے تو پیر ایک آدھ بار آہستہ سے آگے بڑھتے ہیں۔اسے لگا جیسے اب کوئی چیز اس کے قابو میں نہیں، سوائے ایک روح کے اور سوائے ایک سانس کے جو جسم میں روح کی موجودگی کی واحدعلامت ہے۔مولوی صاحب تو کہتے ہیں کہ ایسا قیامت میں ہوگا جہاں تمام اعضا آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ بلکہ اس کے خلاف گواہی بھی دیں گے۔ مگر ابھی تو قیامت نہیں آئی۔ پھر میرے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔وہ سوچتا رہا یہاں تک کہ اس کے دماغ کی نسیں دھواں دینے لگیں۔
اب وہ زندگی سے عاری آچکا تھااور موت کی تمنا کرتا تھا............. اسے کیا معلوم تھا کہ لذتوں کے نشہ میں کی جانے والی دعا قبول کی جاچکی ہے اور اب اسے موت نہیں مل سکتی.............یا اتنی جلدی اور آسانی سے نہیں مل سکتی............. یہ اس کا اپنا انتخاب ہے۔ اب وہ رات دن اس بدگھڑی پرروتا تھا.............پھر اسے ہر اس چیز سے نفرت ہونے لگی جو اس بدگھڑی کے وارد ہونے کا سبب بنی تھی.............بے موسم اور بے سبب بارش.............نشیب کی طرف بہتا ہوا اورپہاڑوں کی چوٹیوں سے گرتا ہواپانی.............دھان کی ادھ پکی ہوئی بالیوں کے سروں پرسرکتی ہوئی ہوائیں.............بے لگام خواہشوں کے درازتر سلسلے.............ربر اور ریشم جیسے ملائم اورگدازجسم، ان کے نشیب وفراز............. سفید دانت اور مسکراتے ہونٹ............. کالے لمبے بال، بالوں میں گندھی ہوئی لٹیں اور لٹوں میں الجھائے گئے بیلے کے سفید ننھے پھولوں کے گچھے............. ململ کے کپڑے،ان کے گوٹے د۱ر کنارے............. کامدار ساڑھیاں............. سفید دوپٹے اور کالے برقعے............. مرغ مسلم اور گرم مسالحے............. تازہ پھل اور خشک میوہ جات.............شباب آور گولیاں،گرم اور میٹھے دودھ کے ساتھ کھائے جانے والے گیروے اور پیلے رنگ کے کیپسول ، خالص شہد سے تیارکی گئی معجونیں.............ڈاکٹر اور حکیموں کے نسخے اور ماہرین نفسیات کے شہوت آمیز اورلطف انگیز مشورے.............بغل اور گردن کے مسامات سے پھوٹتا ہوا بدبو دار پسینہ اور جوشیلی بوندیں.............خواہش کی آگ میں جلتے ہوئے نرخرے اور نرخروں میں پھنس کر چلتی ہوئی سانسیں۔
پراب نفرت سے کیا ہوسکتا تھا بد گھڑی تو آچکی تھی.............
کاش وہ لازوال زندگی کی تمنا کرنے سے پہلے ہی مرچکا ہوتا۔
بڑے بوڑھے کہتے تھے اسے راجا گدھ کی عمر لگ گئی ہے اب یہ ڈھائی سو برس تک زندہ رہے گا، یا اس سے بھی زیادہ یا پھر ہوسکتا ہے کہ اسے موت ہی نہ آئے، جیسا کہ خضر علیہ السلام کو موت نہیں.............کچھوئے کی رفتار سے آتا ہوا بڑھاپا اس کی زندگی کو دن بدن صبر آزما بنا رہا تھا۔ دور دراز کے شہروں اور ملکوں تک اس کے بارے میں عجیب وغریب خبریں پھیل گئی تھیں۔ ہر دوسرے تیسرے روز بڑی بڑی کاریں اور بسیں اس کی حویلی نما مکان کے دروازے پر آکر رکتیں............. کچھ لوگ جو پردیس سے آتے تھے وہ اس کی طویل عمر کاراز جاننا چاہتے تھے............. کئی بار ان کے ساتھ ان تحقیقاتی ٹیموں کے سربراہ بھی ہوتے تھے جو کچھوؤں اور گِدھوں پر کام کررہے تھے اور وقتا فوقتاً اخبارات میں ان کی پیشین گوئیاں شائع ہوتی تھیں کہ انہوں نے طویل عمر کا راز جان لیا ہے اور آنے والی چند صدیوں تک انسان اس لائق ہوجائے گا کہ وہ خودکو امر بناسکے گا۔ موت اور زندگی اختیاری چیزیں بن جائیں گی۔جو بازار میں آٹے اور دال کے بھاؤ بیچی اور خریدی جا سکیں گی۔
ایک بار اس نے اِس طرح کی خبر پڑھی تو گھبراگیا.............صبر آزما زندگی کی مشکلات سے جوجھتا ہوا یہ شخص بدحواسی کے عالم میں آرام کرسی سے اٹھ بیٹھا............. ’’پھر تو بہت برا ہوگا، ہر شخص بذات خود ایک جہنم بن جائے گا............. دنیا کو پیدا کرنے والے کا کام ختم ہوجائے گایا بہت کم ہوجائے گا۔جب لوگ مریں گے نہیں تو پیدا بھی نہیں ہوں گے۔تخلیق ٹھٹر کر رہ جائے گی۔ اور صدائے’ کن ‘ہمالیہ کے دراز تر سلسلوں کی گہرائی اور اونچائیوں کے درمیان صدائے بازگشت کی طرح بھٹکتی پھرے گی۔جس کے باعث یہ دنیا مزید ہولناک اور ڈراؤنی ہوجائے گی۔لوگوں کے دل دہشت سے پھٹ جائیں گے اور مائیں ایسے بچوں کو جنم دیں گی جن کے دلوں میں سوراخ ہوں گے اور دماغوں میں انجان وحشتوں کا بسیرا ہوگا۔
زندگی اور موت سرکار کی سرپرستی میں چلی جائے گی۔ ہر سال پارلیمنٹ میں ایک بل پاس کرایا جائے گا کہ اس سال اتنے لوگوں کو موت دینا ہے اور اتنے نئے لوگوں کو پیدا کرنا ہے۔ پھر تو انسان بولرمرغی کے بچوں کی طرح ہوجائے گا۔ کھپت زیادہ ہوئی تو زیادہ بچے پیدا کرلئے، کھپت کم ہوئی تو کم پیدا کرلئے.............یا باقی رہ جانے والوں کا گلا روند دیا.............پھر اگر کسی سال لوگ زیادہ پیدا کرلئے توحقوق انسانی کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کو تشویش ہوگی۔ سروے کرایا جائے گا اور پھر رپورٹ تیار کی جائے گی۔ گذشتہ برس ایک کروڑ افراد کی تیار ی پر دس ارب روپئے کی لاگت آئی تھی اور ان کو ایک ہزار سال تک زندہ رکھنے کے لئے لاکھوں ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ جبکہ ہم اتنے سارے لوگوں کو نوکریاں بھی نہیں دے سکتے۔ پتہ نہیں یہ بل کس طرح پاس کر لیا گیا............. گذشتہ سرکار کی یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ اورنئی سرکار کے سامنے یہ بہت بڑی چنوتی ہے.............اس کا بس ایک ہی علاج ہے کہ ان تمام افراد کو مشین میں ڈال کر ان کا گلا روند دیا جائے، ان سے حاصل ہونے والے خون کو بلڈ بینک بھیج دیا جائے، گوشت قصائی کو اور ہڈیاں کھاد بنانے والی فیکٹریوں کو بیچ دی جائیں۔ اس طرح ہمیں نہ صرف یہ کہ لاگت واپس مل جائے گی بلکہ مزید اربوں ڈالر کا منافع بھی ہوگا اور ہاں.............ان کے اعضائے رئیسہ جیسے آنکھیں، گردے اور دل وغیرہ سے بھی اچھا منافع کما یا جا سکتا ہے۔
اور پھر آناً فاناً رپورٹ تیار کرلی جائے گی۔میڈیا سے لے کر پارلیمنٹ تک بحث کا ایک سلسلہ شروع ہوگا............. پھر سارے ملک سے اس کی تائیدمیں آوازیں اٹھیں گی۔ تحریکیں چلائی جائیں گی.............اور پھر نئی سرکار میں بل پاس کرلیا جائے گا۔‘‘
اس کی گنجی کھوپڑی چٹخنے لگی اور ہاتھ پیروں میں رعشہ طاری ہونے لگا.............اس نے کپڑے پھاڑ دئیے اور انجانی راہوں پر سرپٹ دوڑگیا۔ کھیت کھلیان اور آبادیوں سے گزر تا رہا.............اور جب تھک کر چور ہوگیا تو ایک بوڑھے برگد کے نیچے بے سدھ گر پڑا۔
کچھ دیر بعد اسے ہوش آیا تو اسے پتہ چلا کہ بوڑھے ،بچوں اور جوانوں کی ایک بھیڑ اس کو گھیرے ہوئے ہے............. اس پر پھر سے گھبراہٹ طاری ہونے لگی............. کچھ دیر ادھر ادھر دیکھتا رہا............. اور پھر جدھر کو سینگ سمائے ادھر ہی کو بے تحاشہ بھاگنے لگا۔ اس کے ارد گرد جمع بھیڑ بھی اس کے پیچھے دوڑی، بچے غل غپاڑہ کرتے اور ڈھیلے پتھر پھینکتے اس کے پیچھے تھے اور سب سے پیچھے بڑے بوڑھے بندوقیں اور لاٹھیاں لئے گرتے پڑتے دوڑ رہے تھے.............بچوں نے راستہ کاٹا اور اگلے گاؤں کو مڑنے والی سڑک کے کنارے پر اسے جالیا.............بڑے بوڑھے بھی ہانپتے کانپتے پہونچے.............اور پھر بے سوچے سمجھے اسے مارنے پر تل گئے۔حالانکہ ان میں سے کئی بزرگوں کو پتہ تھا کہ بے وقت کسی کو موت نہیں آسکتی۔
’’ارے،ارے............. اس بے چارے کو کیوں مار رہے ہو.............آخر اس بوڑھے آدمی نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟‘‘ راہ گیر نے لوگوں سے سوال کیا۔ ’’ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اسے موت کیوں نہیں آتی.............؟‘‘
’’موت نہیں آتی.............؟ یہ تو پہلے ہی سے ادھ مراہے.............اور یہی کوئی دن دودن کا مہمان ہے.............‘‘ ’’نہیں.............یہ اتنی جلدی نہیں مرسکتا ، اسے کچھؤوں اور گِدھوں کی عمر لگ گئی ہے.............‘‘ ’’اچھا.............‘‘
’’ہاں.............ڈاکٹر لوگ بھی یہی بتاتے ہیں اور خود اس کے پڑوسیوں کا بھی یہی خیال ہے‘‘ایک معمر آدمی نے چترائی سے جواب دیا۔ ’’مگر ایسا کرکے تم کیاحاصل کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’ ہم بھی اس کی طرح لازوال زندگی پاناچاہتے ہیں۔‘‘
’’مگر کیوں.............؟ زندگی تو تکلیف دہ ہے جبکہ موت آرام ہی آرام ہے۔تو تم آرام کے بدلے تکلیف کیوں خریدنا چاہتے ہو.............؟‘‘ ’’ہمیں موت سے ڈر لگتاہے.............ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ موت آتی ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے.............‘‘ ’’ہاں.............بالکل صحیح بات ہے.............ایک دفعہ میں نے ایک آدمی کا گلا روندا تھا تو وہ بہت تڑپ تڑپ کر مرا تھا‘‘ ایک آدمی جو ذرا فاصلے پر بندوق لئے کھڑا تھا اونچی آواز میں چلایا۔
’’اور کہتے ہیں کہ موت کے بعد دوزخ میں جانا پڑتا ہے۔ اْدھر آگ ہی آگ ہے۔ اور اُدھر کسی کو موت بھی نہیں دی جاتی۔‘‘ایک شخص نے جس کے ہاتھ پیروں میں رعشہ آگیا تھااپنی سانس پر قابوپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
’’ہاں ! ہم ایسی موت نہیں چاہتے جس کے بعد دوزخ ہو اور نہ ایسی زندگی چاہتے ہیں جس کے بعد موت ہو۔‘‘پھر کئی آدمی ایک ساتھ بولنے لگے۔ بچے ابھی تک اس شخص کا تماشہ بنائے ہوئے تھے۔
’’مگر خدا نے از خود زندگی کو دو روپ دئے ہیں، ایک وہ جسے موت قطع کرتی ہے اور ایک وہ جسے موت قطع نہیں کرسکتی۔دنیا کی زندگی میں موت ہے اورآخرت کی زندگی میں موت نہیں ہے۔اور انسان کو زندگی کے دونوں روپ عطا کئے گئے ہیں.............تو پھر تم جلدی کیوں کر رہے ہو.............تمہیں موت کے بعد لازوال زندگی خود بخود مل جائے گی۔‘‘ ’’نہیں.............ہم اس ترتیب پر راضی نہیں.............ہم اس ترتیب کو الٹنا چاہتے ہیں.............ہمیں وہ زندگی پہلے چاہئے جس کی آنکھوں میں موت کی پرچھائیں نہیں۔‘‘
راہ گیر کا ذہن زندگی ، موت اور انسان کی ا?رزو?وں کے کھیل کے گورکھ دھندوں میں الجھ گیا۔ اس نے اپنی پیشانی سے پسینہ کے قطرے صاف کئے اور آگے بڑھ گیا۔ ’’تعجب ہے! یہ لوگ اس کو مارنا چاہتے ہیں جسے ابھی موت نہیں آسکتی۔یہ ایسی زندگی کا بدانجام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جس کے دروازے پر موت کا پہرہ نہیں اور پھر بھی اسی زندگی کی تمنا میں مرے جارہے ہیں۔‘‘
ایک سرکاری نمائندہ کو معلوم ہوا تو اس نے پولیس کے ذریعہ اس کو لوگوں سے آزاد کرایا اور کچھوؤں اور گِدھو پر ریسرچ کرنے والی بدیسی ٹیم کے ہاتھ ان گنت ڈالر کے عوض بیچ دیا.............جہاں اسے بڑی بڑی مشینوں پر رات دن چڑھایا اور اتارا جانے لگااور بالشت بھر لمبی اور انگلی کے پور ایسی موٹی سوئیاں اس کے جسم میں چبھوئی جانے لگیں۔
جب ریشم جیسے سنہرے بالوں والی لڑکیاں انگلی کے پور ایسی موٹی سوئیاں لئے اس کی طرف ا?تیں تو اس کا سارا جسم تھر تھر کانپنے لگتا۔مٹیالے رنگ کے ٹیپ سے چپکے ہوئے ہونٹ اندرہی اندر کانپ کر رہ جاتے۔وہ چیخنے کی کوشش کرتا مگر اس کی آواز سختی کے ساتھ بند لبوں کی اندرونی دیواروں سے ٹکراکر واپس پلٹ جاتی او ر اس کے اندرون میں صدائے بازگشت کا ایسا شور بپا ہوجاتاجیسے ہمالیہ کی بلند چوٹیوں کے درمیان صدائے ’کن‘ کے ٹکرانے سے پیدا ہوتا ہے۔جیسے پانی بھرے بادلوں کے آپس میں ٹکرانے سے بجلی کا کڑکا پیدا ہوتا ہے اور آہوانِ صحرا میں اور زمین کے سیکڑوں فٹ نیچے چیونٹیوں کی بستی میں افرا تفری مچ جاتی ہے۔ وہ ہاتھ پیر مارنا چاہتا مگر مشینوں کی مضبوط گرفت اس کو ایسا کرنے سے باز رکھتی، پھر اس کی آنکھیں ابلے ہوئے انڈے کی طرح باہر کی طرف نکل آتیں۔اس وقت اسے شدت کے ساتھ وہ لمحہ یاد آتا جب اس نے موت سے نفرت کی تھی اور ہمیشہ کی زندگی کی تمنا اس کے لبوں سے دعا بن کر ابھری تھی اور بے کراں آسمان کی وسعتوں میں کہیں گم ہوگئی تھی۔ آزمائش کی اس دردانگیز گھڑی میں اس کے لیے زندگی اور موت کے معانی یکسر تبدیل ہوگئے۔بلکہ اسے دنیا کی ہر شئی کا روپ بالکل عجیب طرح کا لگنے لگا، ایسا جیسا اس سے پہلے کبھی نہیں لگا تھا۔موت اسے رحمت کے فرشتے جیسی لگی اور ریشم جیسے بالوں والی لڑکیاں چڑیلوں جیسی نظر آئیں۔اس نے اپنے خیال میں زمین کی سطح پر ہاتھ پھیرا، یہاں مٹی پتھر اور پانی کے سوا کچھ نہ تھا۔

Mohammad Ilyas Nadvi Rampuri
K-76, A.F.Enclave, Jamia Nagar,
New Delhi-25 [India]
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.