فیس بک کی اپسرا
افسانہ ازمحمد الیاس ندوی،رامپوری
وہ فیس بک کی ایک اپسرا تھی۔سرخ پھول پر بیٹھی ہوئی پیلے پروں والی تتلی کی طرح گنگناتی ہوئی اور اٹکھیلیاں کرتی ہوئیوہ خود کوجنت ارضی سے بتاتی تھی مگر اپنے ممتاز نقوش اوربے حد پرکشش خد وخال سے کسی پرستان کی پری جیسی لگتی تھی ۔پڑھی لکھی اور سمجھدار قسم کی دراصل وہ اکاؤنٹینٹ تھی اور ادبی چیزیں محض اپنے شوق کی وجہ سے پڑھتی تھی ۔یہ شوق اسے اس وقت لگا تھا جب وہ اپنے اندر بے چینیاں محسوس کرنے لگی تھی ۔کسی تکلیف کے بغیر اور پیٹ بھرا ہوا ہونے کے باوجود۔کبھی اسے محسوس ہوتا کہ دل کے آس پاس کے کسی حصے میں ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔پھروہ شاور کے نیچے بیٹھ جاتی مگر یہ وہ پانی نہیں تھا جو اس آگ کو بجھاسکتا تھا ۔اس کی ماں کہتی تھی کہ بیٹا اس عمر میں ایسا ہوتا ہےکیوں ہوتا ہے یہ بتاپانا مشکل ہے پر ہوتا ہے سب کے ساتھ ہوتا ہے میرے ساتھ بھی ہوتا تھا۔میں نے تو اس آگ میں جل کر مزا لینے کی عادت بنا لی تھی۔
اس نے اپنے طورپر اس بے چینی کا علاج ادب اور شاعری میں تلاش کیا اور اسے لگا کہ یہاں اس کے لئے کافی سامان ہے۔ یہ بات اس نے مختلف مواقع پر بتائی تھی۔
پہلے اس نے میری ایک کہانی کو پسند کیا اور پھرخاص دوستوں کی فہرست میں مجھے بھی شامل کرلیا۔کافی دنوں تک وہ میری کہانیوں ، افسانوں اور کہانی نما تحریروں کو پڑھتی اور پسند کرتی رہی۔جواب میں میں بھی اس کے کمینٹس کی دل کھول کر داد دیتا رہا ۔ میں تم سے اتفاق کرتاہوں۔کمینٹس کے لیے شکریہ۔تمہارے اندر ادب کو سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی اچھی سمجھ ہے گرچہ تم ادب کی طالبہ نہیں ہوپھر بھی تم جس طرح کی سوجھ بوجھ کے ساتھ تبصرہ کرتی ہو اس کے لیے مجھے تمہیں داد دینی ہی ہوگی۔شکریہ رینو تمہارے اس خوبصورت تبصرے کے لئے اور اس بات کے لیے بھی کہ تم میری تخلیقات کودقتِ نظر سے پڑھتی ہو۔
اور پھر یوں ہوا کہ ہم دونوں چیٹنگ کرنے لگے۔
میں نے اپنے بارے میں زیادہ جانکاری اپلوڈ نہیں کی تھیاور اس نے بھی اپنے بارے میں کچھ زیادہ معلومات فراہم نہیں کی تھیں تاہم میرے ذہن میں اس کا ایک مبہم خاکہ ضرورتھاوہ میرے اپنے ہی ملک کی تھی، اکاؤنٹینٹ تھی، جاب کرتی تھی،مسلمان تھی اور ادبی چیزیں اپنے شوق سے پڑھتی تھی، اس کے گھر میں اس کے علاوہ اورکوئی اردو نہیں جانتا تھااور اس نے فیس بک پر فرضی نام سے آئی ڈی بنا رکھی تھی۔اس نے اپنا اصلی نام نیلو فر بتایا تھا۔وہ خوبصورت تھی، اس کی تصویر بہت کچھ بولتی تھیاور یہی میرے لیے بہت کافی تھا۔ میں نے کبھی یہ جاننے کی بھی کوشش نہیں کی کہ یہ اس کی اپنی تصویر ہے یا آئی ڈی کی طرح یہ بھی فرضی ہےسچ میں! اِس طرف کبھی خیال ہی نہیں گیا۔تصویر سے خیال ہٹاپاتا تو کہیں جاتا بھی میں بچپن ہی سے فریب خوردہ انسان رہا ہوں۔ ایک باراس نے استفسار کیا کہ میں اورکیا کرتا ہوں تو میںنے بس اتنا ہی لکھا کہ بس کہانیاں لکھتا ہوںمگر اس نے مزید زور دے کر پوچھا اور کیا کرتے ہیں تو مجھے جھلاہٹ سی ہوئی اور میں نے جواب دیا کہ کہانیاں لکھنا اور پڑھنا بھی تو ایک کام ہی ہے اور لکھنے پڑھنے کی عادت اتنا وقت مانگتی ہے کہ کسی اور کام کے لیے وقت ہی نہیں رہ جاتا۔دراصل شروع کے ان دنوں میں میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھ ہلکے میں لے اور چیٹنگ جیسے واہیات فعل میں وقت گنوانے والے دوسرے لوگوں کی صف میں مجھے بھی کھڑا کرےمیں ذرا مختلف قسم کا آدمی رہاہوں او رمیں اپنی انفرادیت کو ہر قیمت پر باقی رکھنا چاہتا ہوں۔ پاسپورٹ سائز کی تصویر میں وہ بڑی دلکش لگتی تھی۔ اس نے پیلے رنگ کا ٹی شرٹ پہنا ہوا تھا۔ اور ٹھیک سینے کے ابھار پر ”آئی ہیٹ یو “انگریزی الفاظ میں لکھا ہوا تھا۔اس کے بال کھلے ہوئے تھے جن کے سامنے والے حصے پر سنہرے رنگ کی پالش کی گئی تھی۔اس کے چہرے پر عجیب طرح کی معصومیت تھی، اس کے ایک پوسٹ کارڈ سائز کے فوٹو پر تقریبا دو ہزار لوگوں نےکمینٹس لکھے۔ ان میں سے تقریبا ایک چوتھائی نے ایک مختصر سا لفظ”کیوٹ“ ہی لکھنا پسند کیا تھا۔شاید یہ لفظ اس کے نقوش کی بہتر ترجمانی کرتا تھا۔اتنے سارے لوگ غلط نہیں ہوسکتے وہ حقیقت میں کیوٹ تھی۔
پھر ایک دن میں نے خدا جانے کس طرح کے احساسات کے تحت چیٹنگ باکس میں لکھ دیا” ویسے لکھنے پڑھنے والے لوگ کوئی دوسرا کام کربھی نہیں سکتے۔“ ”کیوں؟؟؟؟؟؟؟“
اس نے بس ”کیوں“ لکھا اوراس کے سامنے ڈھیر سارے سوالیہ نشان لگادئےے۔
” اس لیے کہ وہ اپنا اِیگو بہت زیادہ بڑھا لیتے ہیں ۔ انہیں ،لکھنے پڑھنے، کانفرسیں کرنے اور محفلیں سجانے کے علاوہ باقی سارے کام ہیچ نظر آتے ہیں۔اور وہ ان میں اپنی توہین محسوس کرتے ہیں۔یا پھر شاید اس لیے کہ وہ باقی کسی بھی کام کے لیے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔کیونکہ وہ لکھنے پڑھنے کی وجہ سے آرام طلب ہوجاتے ہیں اور اپنی صلاحیتیں کھودیتے ہیں۔“
”مگر میں ایسا نہیں مانتی“
اس کے ٹائپ کئے ہوئے الفاظ میں اس کے لہجے کی تندی صاف محسوس کی جاسکتی تھی۔
”کوئی بات نہیں تمہیں اپنی رائے رکھنے کا پورا اختیار ہے۔آخر اب تم بچی تو نہیں رہیںاگر آج ہی تمہاری شادی کردی جائے تو تم کل ہی ماں بن جاؤگی۔“میں نے اس کی ناگواری کو بھانپتے ہوئے اسے مزاح کا رخ دینے کی کوشش کی۔
وہ ابھی نوعمر تھی زندگی کی لذتوں سے نا آشنا اور زندگی کی مشکلات سے بے پروااس نے ابھی زندگی کا پھل بھی نہیں چکھا تھاجب وہ آن لائن ہوتی تو میرے دل ودماغ میں جیسے سوئیاں سی چبھتی ہوئی محسوس ہوتیں،یاایسا لگتا کہ الفاظ معانی سے بھر گئے ہیں یاپنگھٹ پر شام اتر آئی ہے اور پانی بھرنے والی دوشیزائیں اور مائیں اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہی ہیںاپنے کولھوں اور سروں پر پانی سے بھرے گھڑے اٹھائے ہوئے اور چھوٹے بچوں کو اپنے آگے دوڑاتے ہوئے۔ اس وقت مجھے محسوس ہوتا کہ میں ایک ہی جست میں کئی سال پیچھے چلاگیا ہوں، میری کھلنڈری عمر کے دن عود کرآئے ہیں اورکھڑکی کے باہرہوا میں جھولتے ہوئے سرخ گلاب کی نازک پنکھڑیوں پر اوس گر رہی ہے۔میرے ہونٹ کسی اندرونی قوت کے ذریعہ خود بخود سکڑ جاتے اور تیز سیٹی جیسی آواز کمرے میں گونجنے لگتی ۔ ”ہوا اور پانی،قدرت کے دوفنکار ہاتھ ہیں ،قدرت ان کی مدد سے روئے زمین پر بو قلمونی کرتی رہتی ہے“
رینو اسی طرح کی اوٹ پٹانگ باتیں سوچتی اور فیس بک پر اپ لوڈ کرتی رہتی ۔اس نے اپنی اس بات کی دلیل کے طور پر جنتِ ارضی کا ایک خوبصورت سا سین بھی دیاتھا۔ جس میں سامنے کی طرف لہریں لیتا ہوا دریا بہہ رہا تھا اور عقب میںہری بھری بلند وبالاچوٹیاں نظر آرہی تھیں۔سب سے آخر میں نظر آنے والی چوٹیوں پر برف کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی۔دور کسی درخت کی ٹہنی پر جنگلی کبوتروں کا جوڑاجوانی کی سرمستیوں میں ڈوباہوا،خوف کے سایوں سے بے پروا،محبتوں کی جنتیں تعمیر کرنے میں مصروف تھا۔
تصویر بہت دلکش تھی نظروں کو خیرہ کردینے والی مگر پتہ نہیں کس طرح میرا ذہن وادی کے ان لوگوں کی طرف چلا گیا جن کی زندگیاں گن پوائنٹ پر رکھی ہوئی ہیں۔جنہیں اس جنت نما وادی میں رہنے کی اجازت تو ہے مگر محبتوں کی جنتیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں۔جنت نشاں وادی جہاں گزشتہ ایک صدی میں کوئی نئی چیز تعمیر نہیں کی گئی سوائے ان گمنام قبروں کے جن کے بارے میں وادی سے باہر کے لوگ زیادہ نہیں جانتے او ر میں اندر سے دکھی ہوگیامگر میرے لیے یہ کوئی نیا تجربہ نہیں تھا جب مجھے ایک خوش کرنے والی چیز نے رنجیدہ کردیا تھامیرے ساتھ اس سے پہلے بھی بارہا ایسا ہوچکا ہے جب میں شادی کی محفل سے نمناک اٹھا ہوں اور جنازے سے لوٹتے ہوئے ہنستا مسکراتاگھر میں داخل ہوا ہوں۔
” رینو کی تصویر پر ڈھائی ہزار کمینٹس میں؛اور جنتِ ارضی کے بطن میں ڈھائی ہزاربے نشان قبروں کی موجودگی میں؛ آخر کیا مناسبت ہوسکتی ہے؟۔“ رنجیدگی کے نامراد احساسات سے دکھتے ہوئے بعض ذہنی خلیوں سے میں نے سوچا ۔
”ہاہاہاہاآج آپ خاصےمُوڈمیں لگ رہے ہیں لگتا ہے نائیلہ باجی آج کل آپ کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھ رہی ہیں۔“
پہلے تو مجھے لگا تھا کہ شادی کے دوسرے روز ماں بن جانے والی بات اس کو غصہ بھی دلا سکتی ہے۔مگر میں نے ہمت کرکے لکھ دیااور جب اگلے لمحے اس کاجواب آیاتو رنجیدگی کے نامراد احساسات سے دکھتے ہوئے میرے تمام ذہنی خلئے عجیب طرح کی خوشگواری سے سرشارہوگئےاس وقت مجھے اپنی سوجھ بوجھ پر اور بے خطر اقدام کرنے کی ہمتِ مردانہ پر یک گونہ فخر محسوس ہوا۔
”یہ تم بات بات پر نائیلہ کو درمیان میں کیوں گھسیٹ لاتی ہو؟“مگر میں نے قدرے ناگواری سے جواب دیا۔
اور پھر میں اپنے تمام تر ننگِ وجود کے ساتھ ایسی حسین وادی میں اتر گیا جوجنتِ ارضی سے زیادہ خوربصوت تھی۔
اس کے دوستوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔دنیا بھر کے لوگ اس کی اپلوڈ کی ہوئی چیزوں کو بے حد رغبت سے دیکھتے تھے اور جی جان سے کمینٹس کرتے تھےکبھی کبھی مجھے غصہ بھی آنے لگتا کہ اس کے چاہنے والے کتنے زیادہ ہیں۔اگر وہ اوٹ پٹانگ سی کوئی چیز بھی اپلوڈ کردیتی ہے تو اس کولائک کرنے والوں اوراس پر کمینٹس لکھنے والوں کی جیسے لائن لگ جاتی ہے جیسے چیونٹیاں شکر کے دانے چننے کے لیے لائن لگادیتی ہیں بوڑھے ،بچے ،لڑکے،لڑکیاں ،عورتیں، ادیب اورغیر ادیب، مولوی اور غیر مولوی سب کے سب جیسے اپنے اپنے جامہ سے باہر آگئے ہوں جبکہ میری اپلوڈ کی ہوئی چیزوں کو میرے بچپن کے دو چاردوست ہی لائک کرتے یا ہلکا پھلکا اوربے جان سا کمینٹ کرتے جس کے بین السطور سے جھوٹی تعریف منہ چڑھا تی ہوئی صاف محسوس کی جاسکتی تھی ان کم بختوں کو جھوٹ بولنا بھی نہیں آتاکم از کم جھوٹ کو اس طرح تو بولنا چاہئے کہ وہ پہلی نظر میں سچ جیسا نظر آئےمیں جھلاہٹ کے عالم میں فیس بک سے لاگ آؤٹ ہوجانے کی سوچتا۔ مگر کچھ ہی پلوں میں جانے ایسا کیا ہوجاتا کہ احساس کہتری کے دوران کہیں سے میرا خیا ل سرنکالتااورایک ہی جست میں اس کے سینے کے ابھار پرجلی حروف میں لکھی ہوئی عبارت پرجاچپکتا۔
”آئی ہیٹ یو“ پتہ نہیں مجھے ایسا کیوں لگتا تھاکہ یہ مجھے چڑھارہی ہے۔بظاہر نفرت کرنے کی کوئی وجہ سمجھ نہ آتی تھی۔اس کی تصویر سے، اس کے لفظوں سے اور اس کی پسند وناپسند سے تو جیسے خوشبو اٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔پھر اس نے یہ کیوں لکھ رکھاہے۔
مگر ”آئی ہیٹ یو کا مطلب“ آئی لو یو “ بھی تو ہوتا ہے۔اس سوچ کے آتے ہی میرا وجود ایک خاص قسم کی ترنگ سے بھر جاتا۔
میرا خیال تھا کہ میںفیس بک کے استعمال سے تیزی سے بدلتے ہوئے وقت کا تعاقب کرسکوں گا اور برق رفتاری کے ساتھ تغیر پذیر حالات کا سارا حساب رکھ سکنے میں کامیاب ہو سکوں گا۔مگر میرا خیال غلط تھا۔ میں وقت کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک اپسرا کے تعاقب میں لگ گیا تھا، جبکہ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ تتلیاں ہر کس وناکس کے ہاتھ نہیں آتیں اورتتلیاں پکڑنے کی کوشش ہزار بکھیڑوںکو جنم دیتی ہے۔اس کے ساتھ ہی مجھے بچپن کا وہ واقعہ یاد آگیا جب میں نے پیلے پروں والی تتلی پکڑنے کی کوشش کی تھی ، مگر اچانک میں اوندھے منہ گرا اور سینے پر خاص دل کے مقام پر چوٹ کھائی اورنتیجے میں باجی کو امی کے ہاتھوں مار کھانی پڑی کیونکہ انہوں نے میری نگہداشت سے غفلت برتی تھی۔
”اچھا! کہانیاں لکھنے کے ذاتی تجربے کے بارے میں کچھ بتائیں؟“
میں ابھی ہیٹ اور لَو کے چکر میں الجھا ہوا تھا کہ اس نے اگلا سوال جڑدیا۔
”کئی بار کئی کہانیاں اتنی آسانی سے لکھ لیتا ہوں جتنی آسانی سے سوئی میں دھاگہ ڈالا جاتا ہے اور کئی بار اتنی مشکل سے ایک کہانی لکھ پاتا ہوں جتنی مشکل سے کوئی عورت ایک بچے کو جنم دیتی ہے۔کہانیاں لکھنے کا فن بھی عجیب ہے بالکل عجیب۔شاید تم یقین نہ کرومگر یہ عجیب ہے ، دنیا کے ساتوں عجوبوں سے بھی زیادہ عجیب مگرآج کے دور میں کہانیاں لکھنے کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی حسن کے بازار میں متاع ہنر بیچتا پھرے۔ بازارِ حسن کی نزاکتوں سے بے خبر اور کہانیوںکے انجام سے بے پروا۔“
” ایک اورسوال پوچھوں؟“
”ہاں بالکل،ایک ہی کیوں دس پوچھو۔“
”کہیںمیں آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کررہی“
”ارے ارے نہیں نہیں بالکل نہیں یہ تم کیسی باتیں کررہی ہوتم اور ڈسٹرب!!“
” آپ زندگی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟“
”مطلب؟“
”مطلب یہ کہ زندگی حقیقت ہے یا سراب ، پانی کا ایک بلبلہ ہے یاٹھوس پتھر زندگی سرتاپا عشق ومستی ہے یا سراسر زخم اور درد۔زندگی موت کی حریف ہے یا موت کی حلیف۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ زندگی اور موت کی کشمکش کو آپ کیا نام دینا چاہیں گے۔یا اس کو بیان کرنے جائیں گے تو آپ کے الفاظ کیا ہوں گے۔“ ”زندگی موت کے خلاف اعلان جنگ ہےجب تک ہم زندگی کے قیدی ہیں تب تک موت کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔ مگر ایک دن موت ہمیں زندگی کی قیدسے نکال کر اپنا قیدی بنالے گی۔ہمیں معلوم ہے کہ ہم یہ جنگ ہار جائیں گے پھر بھی ہمیں لڑنا ہے اور تا عمر لڑنا ہےاس وقت تک جب تک ہم ہار نہیں جاتےیہ اس دنیا کی شاید سب سے زیادہ انوکھی جنگ ہے جو ہارنے کے لےے لڑی جاتی ہےزندگی کے لیے لڑنا ایک ایسی جنگ لڑنا ہے جس کا نتیجہ ہمیں پہلے ہی سے معلوم ہے۔مگر پھر بھی ہم لڑتے ہیںکہ اس کے بنا کوئی چارہ نہیں۔ہم ایک نہ ایک دن موت کے قیدی ضرور بنےں گے مگر اتنی آسانی سے نہیں موت ہمیں ڈرا نہیں سکتی ۔ کسی بھی قیمت پر نہیںنہیں بالکل نہیں ہم آدم کی اولاد ضرور ہیں مگر آدم نہیں ہیں جنہوں نے موت سے ڈر کر گندم کھالیا تھامگر نتیجہ کیا نکلا۔ یہی نا کہ وہ موت سے نہ بچ سکے۔ہمیں پتہ ہے کہ ہم بھی موت سے نہیں بھاگ سکتے مگر ہم ان میں سے نہیں جو آسانی سے شکار بن جاتے ہیںاور بہکاوے میں آجاتے ہیں۔کم از کم اماں حوّا کی طرح تو بالکل نہیں۔“
”اچھا!!!!“
چیٹنگ باکس میں ایک لفظ ابھراجس کی پرچھائیوں میں حیرت نمایاں تھی۔
”آؤچائے پیتے ہیں“ دور ڈائننگ ٹیبل پررکھے ڈنرکے ٹھنڈا ہونے کی پروا کئے بغیر میں اس سے یونہی چائے کا پوچھتا۔
”ابو جلدی آئیے پلیز ہمیں بہت تیز کی بھوک لگی ہے۔“
بچے ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے شور مچاتے رہتے اور میں اس کے ساتھ چیٹنگ کو کوئی خوشگوار موڑ دینے کے بارے میں سوچ رہا ہوتا۔
”شکریہ!! میرے حصے کی بھی آپ ہی پی لیجئے“ اور پھر واقعی مجھے چائے کی طلب ستانے لگتی۔
”آج تم نے کیا کھایامیرا مطلب ہے ڈنر میں کیا لیا“
”ابھی تو کچھ نہیں لیاشام میں آفس سے لوٹتے ہوئے میموز کھا لئے تھے۔ اس لیے ابھی زیادہ بھوک نہیںاورمیں تو ویسے بھی لیٹ فیٹ ہی کھاتی ہوں۔“ ”اور آپ نے؟“
”میں نے؟؟“
”ہاں، میں آپ ہی سے پوچھ رہی ہوں جناب۔کہاں کھوئے ہوئے ہیںکسی اور کے ساتھ بھی چیٹنگ چل رہی ہے کیا۔؟“
”نہیں تو میں تمہارے علاوہ کسی اور سے بات نہیں کرتا۔یہ تمہیں بھی پتہ ہے۔“
”تو پھر اتنی دیرسے جواب کیوںدے رہے ہیں؟“
”وہ دبئی سے ایک گدھا ہےمیرے کالج کا دوست ، وہ پریشان کرتا رہتاہے۔“
”گدھا ہے۔۔۔۔۔۔۔ یا گدھی؟“
”نہیں! گدھا ہی ہے۔“
” میں نے کوئی گدھی نہیں پالی۔سوائے ایک کے“
”اچھا! کون ہے وہ؟“
”سوچئے !! کون ہوسکتی ہے ؟“
”ویسے لوگ خود کو پہچاننے میں ہمیشہ غلطی کرتے ہیں۔“اور مصنوعی ہنسی ہنسنے کے چکر میں اپنا زیریں ہونٹ کاٹ کھایا۔
”ہاہاہاہا“ اس نے ’ہا‘ کو اتنی بار لکھا کہ چیٹنگ باکس انہیں دو حرفوں سے بھر گیا۔
”اچھا فیس بک کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہےمیرے انکل کہتے ہیں کہ فیس بک کی لت اچھی نہیں خاص کر لڑکیوں کے لیے۔پتہ نہیں ہم کب تک لڑکے اور لڑکیوں میں فرق کرتے رہیں گے۔“
” فیس بک ایک ایسی کھڑکی ہے جہاں سے ہم ظاہر اور پوشیدہ، تمام دنیا کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔اگر ہمیں یہ دیکھنا ہو کہ ہمارے اپنےبچے جوان اور بوڑھے کیا کیا گل کھلاتے پھر رہے ہیں تو اس کے لیے جو سب سے مختصر اور آسان راستہ ہے ، وہ ہے فیس بک میں انٹری کا راستہ۔پچھلے وقتوں کے شہنشاہوں کا ضمیر جام جہاں نماں رہا ہو یا نہ رہا ہو پرموجودہ وقت میں فیس بک جام جہاں نماں ضرور ہے۔جمشید کو اپنے پیالے میں دنیا نظر آتی ہو یا نہ آتی ہو پر فیس بک پر لاگ اِن کرنے والے کو دنیا ضرور نظر آتی ہےآتی ہے اور پوری طرح آتی ہےاچھی بھی اور بری بھی علمی بھی اور چھچوری بھیساتر بھی اور برہنہ بھی دنیا کے ساتوں عجوبے ، قوس و قزح کے ساتوں رنگ اورزمین وآسمان کے چودہ طبق روشن نظر آتے ہیں اور پوری طرح آتے ہیں۔“
” فنٹاسٹک آخر آپ ادیب ہیں نااسی لئے باتیں بنا لیتے ہیں۔“
”تم کہتی ہو تو چلو یونہی صحیح “ ویسے مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ادیبوں کے پاس بھی پھٹکنا چاہئے۔ میں نے دل میں سوچااور ہفتوں اور مہینوں تک اس کے لفظوں کی مہک سے محظوظ ہوتا رہا۔دراصل حقیقی تعریف وہی ہے جو کسی کو صنف مخالف سے ملے۔ کوئی عورت کسی مرد کی تعریف کرے یا کوئی مرد کسی عورت کے لئے قصیدہ لکھے۔مجھے معلوم ہے کی فن کی تعریف کے مقابلے میں شخصیت کی تعریف میں زیادہ رس ہے مگر وہ شخص جو اپنی شخصیت کی سحرآفرینی کھوچکا ہو اس کے لیے فن کی تعریف ہی بہت ہوتی ہے۔اور میرے ساتھ بھی یہی کیفیت تھی۔
”کیا ادب کے ذریعے دنیا فتح کی جاسکتی ہے؟“
”دنیا کو تو ایک سوکھے پتے کے ذریعے بھی فتح کیا جاسکتا ہےادب تو بڑی چیز ہے۔“میں کبھی کبھی اس کے سوالوں کا یونہی اوٹ پٹانگ سا جواب دیتا ۔ ”باتیں خوب بنا لیتے ہیں۔“
”عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں۔“
”واہواہواہآپ کی باتیں بہت دلچسپ ہوتی ہیں آپ سے دوستی کرکے اچھا لگا۔اور ہاں آپ کی تحریر بھی بہت دلکش ہوتی ہے دل میں طوفان سا اٹھنے لگتا ہے اور فکر وخیال کی وادیوں میں جیسے بھونچال آجاتاہے۔آپ کو پڑھتے ہوئے عجیب سی لذ ت اور سرمستی کا احساس ہوتاہے۔“ ”اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں دراصل یہ تمہاری عمر کا قصور ہے تمہاری ماں صحیح کہتی ہیں کہ اس عمر میں ایسا ہوتا ہے۔“ ”ہوتا ہے میں مانتی ہوں مگر اس کی کوئی توجیہہ بھی تو ہوگی۔“
”یہاں آدمی کو بہت کچھ ملا ہواہے مگر وہ اپنی طمع پسند طبیعت کے باعث ہمہ وقت محرومیوں کے احساسات کے ساتھ جیتا ہے، پھر یہی احساسات اس کی زبان اورقلم کی نوک پر آتے ہیں اور لفظوں کا پیکر تراش لیتے ہیں اورجب ہم ادب پڑھتے ہیں تو ہمارے اندرون میں پہلے سے پل رہے محرومیوں کے ہزاہا قسم کے مردہ اور نیم مردہ احساسات جاگ اٹھتے ہیں اور پھرہم اُنہی کو گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں یا یوں کہیں کہ ان کی جگالی کرتے ہیں اور ہمیں لذتوں کااحساس ہوتا ہے۔ادب پڑھنے سے خوابیدہ رسیلے خواب متحرک ہوجاتے ہیں۔اور اس لیے بھی ہمیں لذتوں کا احساس ہوتا ہے۔یہ لذتیں فی نفسہ ادب میں نہیں ہوتیں۔ایک فارسی کہاوت ہے کہ ایک کتا ریتی کو کھانے کی چیز سمجھ کر اس پر زبان رگڑنے لگاباربا کی رگڑ سے اس کی زبان سے خون رسنا شروع ہوگیا اور وہ اپنے ہی خون کو گھونٹ گھونٹ پینے لگااور سمجھتا رہا کہ یہ لذت آمیز چیز اس ریتی سے نکل رہی ہے۔یہی کچھ حال ادب کے قاری کا بھی ہے کہ وہ ادب کی قراءت کے دوران اپنا ہی درد گھونٹ گھونٹ پیتا ہےاور اپنے اندر پائے جانے والے رس کی جگالی کرتاہےوہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانییہ عجیب طرح کا احساس ہےکاغذ کی کشتی اور بارش کے پانی کے بدلے ہمیں جنتیں مل گئی ہیں جن کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک زمرد کی ہے مگر ہم کاغذ کی کشتی اور بارش کے پانی کے لیے روتے ہیں یہ رونادراصل کھوئی ہوئی چیزوں کے لیے رونا ہےچاہے موجودہ وقت میں ان کی کوئی قیمت ہو یا نہ ہوبس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز ہے اور ماضی میں اس سے ہمارا کوئی رشتہ رہا ہےمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوئے کی جستجومجھے توخوف آتا ہے کہ آدمی کہیں جنت میں بھی اپنی اِسی میلی کچیلی دنیاوی زندگی کو یاد کرکے روتا نہ پھرے۔“
”شاید!!!پر میں کچھ سمجھ نہیں پائی۔“
”اور اس میں بھی تمہاری کچھ غلطی نہیں ادب کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ سمجھ میں نہیں آتاادب صرف ذہنی تعیش ہی نہیں ادب ذہنی ورزش بھی ہے۔“ ”ہاںوہ تو ہے۔“
وقت اسی طرح اپنی رنگینیوں کے ساتھ آہستہ آہستہ گزرتا رہااوراس پورے عرصے میں مجھے یہ خوش گمانی رہی کہ دنیا بنانے والے نے دنیا کو بہت لگن اور محنت کے ساتھ بنایا ہے۔
پھر اچانک یوں ہوا کہ وہ فیس بک سے غائب ہوگئی۔
مجھے وحشت سی ہونے لگیسب کچھ اتنی جلدی کیسے بدل گیا اور وہ بھی یوں ایک دم اچانک سےوہ اچانک سے آئی تھی اور یوں اچانک سے چلی گئیجب چیزیں اچانک سے واقع ہوتی ہیں یا جلدی جلدی واقع ہوتی ہیں تو میں عجیب سی وحشت کا شکار ہوجاتا ہوں۔اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ دنیا بنانے والے نے دنیا کو اس طرح کیوں بنایا۔مجھے لوگوں کے مرنے کا اتنا غم نہیں کیونکہ لوگ پیدا ہی ہوتے ہیں مرنے کے لیے پر مجھے یہ چیز بہت ستاتی ہے کہ موت اتنی جلدی جلدی زمین پر کیوں اترتی ہے۔اور بار بار شکلیں بدل بدل کر کیوں آتی ہے۔کبھی زلزلے، کبھی سنامی، کبھی فساد، کبھی انکاؤنٹر، کبھی بم دھماکے اور کبھی ڈرونز اور کبھی میزائیلوں کی بارش ایک بار آتی ہے اور ہزاروں کو لے جاتی مگر پھر بھی اس کا پیٹ نہیں بھر تاکہ اگلے روز پھرکسی دوسری شکل میں اتر آتی ہے اور وہ بھی بنا کسی پیشگی اطلاع کے۔آخر یہ بھی کوئی جینے میں جینا ہے کہ جیتے ہیں مگرمرنے کے لئے اوروہ بھی مرمرکر۔
میں اپنی طبیعت میںگرانی محسوس کرنے لگا۔
”کیا بات ہے ؟ طبیعت ٹھیک نہیں ہے کیا؟۔“ نائلہ نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھا۔وہ چھوٹے چھوٹے دو بچوں کی ماں ضرور تھی مگر اس کی ہتھیلی میں ابھی تک وہی گرمی اور رعنائی تھی جو میں نے شب عروشی کی دھیمی دھیمی روشنی میں اس کی حنائی ہتھیلی کو بوسہ دیتے وقت محسوس کی تھی جب میں نے ہمیشہ کے لیے اس کا ساتھ دینے عہد کیا تھا ۔
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھاان میں ابھی تک میری وہی تصویر موجود تھی جو پہلی شب کے پہلے پہر میں اس نے اپنی آنکھوں میں اس وقت محفوظ کی تھی جب میں اس کی آنکھوں کے ساگر میں ڈوبا ہوا تھامیں جیسے شرمسار ہوگیا مجھے لگا جیسے میں نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور میں جانے انجانے میں اس کے ساتھ دغا کربیٹھا ہوںمجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھامیں نے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر کھینچ لیا اور اپنے من میں اس کے ساتھ کئے گئے عہدِ وفا کو از سر نو استوار کیا۔
سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہی تھا مگر ادھر کئی روز سے راحت آن لائن نہیں رہتا تھا۔میں نے اس طرف بالکل بھی دھیان نہیں دیا کہ رینو کے ایک دم غائب ہونے کے ساتھ راحت کے آن لائن نہ ہونے میں بھی کوئی تال میل ہوسکتا ہے۔
اگلے دن جب سورج سوا نیزے پر آگیا تھا، میں اپنا لیپ ٹاپ لئے باہر لان میں جا بیٹھا تاکہ دھوپ بھی سینکتا رہوں اورزیر طباعت افسانوی مجموعے پر کچھ کام بھی کرسکوںسورج کی حرارت سے جسم میں ذرا ذارا گرمی آئی تو میںنہ جانے کیوں نائیلہ سے کیے گئے رات کے وعدے کو بھول گیا اور ایک پلک جھپکنے کے برابر وقفے میں رینوں کا رنگین تصورمیرے فکر و خیال کو رعنائیوں سے بھر گیا۔میں نے کانپتے ہاتھوں سے لیپ ٹاپ کھولا او ر رینو کو تلاش کرنے لگامگر وہ بدستور غائب تھی۔
”رینو! کہاںمرگئیں تم کچھ تو بولو، کچھ تو بتاؤاپنے بارے میں تمہاری شکل سے اور تمہاری باتوں سے بالکل بھی نہیں لگتا تھا کہ تم اس طرح سے دغادے جاؤگی۔تم اچانک سے میری زندگی میں آئیں زندگی کے پرسکون سمندر کو سنامیوں سے بھر دیااور پھر اچانک غائب ہوگئیں اور بے تاب سمندر کا شور خاموش تاریکیوں میں ڈوب گیاتمہیں اگر جانا ہی تھا تو آئی ہی کیوں تھیں اور اگر جانا ضروری ہی تھا تو اتنی جلدی کیا تھی اور پھر یہ اچانک غائب ہونے کی کیا تک بنتی ہے“
شدت الم سے میری آنکھیں خود بخود مند گئیں بندپلکوں کے شامیانے تلے رسیلے خواب تھرکنے لگےرینو پریوں کی طرح ، سفید گھنے بادلوں سے نمودار ہوئی اور بڑے بڑے نیلے پردوں والے شامیانے میں اتر آئی جب وہ رقص کرتے کرتے چکراکر گر پڑی تو میں اس کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر خواب گاہ میں لے آیا اور سوجان سے اس پر نچھاور ہونے لگاپھر اچانک کہیں سے نائیلہ ٹپک پڑی اس نے رینوکو میری خواب گاہ میں اس طرح آرام کی نیند لیتے ہوئے دیکھا تو وہ اپنا آپ کھو بیٹھی اور میری موجودگی کی پروا کئے بغیر اس پر پل پڑیاو ر آخر کار اس کو دھکے مارمار کر گھر سے باہر نکال دیا۔ دفعتاًمیری آنکھ کھل گئی گرم چائے کی پیالی میرے سامنے رکھی تھی جس میں سے ابھی تک بھاپ اٹھ رہی تھی مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ نائیلہ کب آئی اور کب چائے رکھ کر چلی گئی۔
”چلو اچھا ہی ہوا دوسرے اگر وعدے نہ نبھائیں تواس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں تاکہ ہم کسی سے کئے ہوئے اپنے وعدے نبھالیں۔“میں نے گرم چائے کی ایک چسکی لی اور اس بار میرے خیال کی رعنائیاں رینو کی بجائے نائیلہ کے تصور سے مہک اٹھیں۔
”السلام علیکم “
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھاراحت چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ مسکرا رہا تھا
”تم؟“
”ہاں میں! دبئی والا گدھاتمہارے کالج کا دوست!نہیں! رینو تمہاری گدھی ۔“
”رریرینو ؟؟“میر ا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
”ہاں واہ!پروفیسر صاحب!آپ تو بڑے پہونچے ہوئے آدمی نکلے “اوراس نے میرے کاندھے کو ہلکے سے تھپتھپایا۔
مجھے اپنے دل کے کسی مقام پراسی طرح کی تکلیف کا احساس ہوا جس طرح کی تکلیف کااحسا اس وقت ہواتھا جب میں بچہ تھا اور پیلی تتلی پکڑنے کی کوشش میں منہ کے بل گر پڑا تھا۔مگر اس بار باجی کو مار نہیں کھانی پڑی کیونکہ اب میں بچہ نہیں رہاتھا۔

Mohammad Ilyas Nadvi Rampuri
K-76, A.F.Enclave, Jamia Nagar,
New Delhi-25 [India]
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.