لے سانس بھی آہستہ“ مشرف عالم ذوقی کے ناول کا تجزیہ”
ہاجرہ بانو
بلند شہر، ریاست اتر پرد یش کا ایک خوبصورت مقام جسے تہذیبوں کی پامالی نے متاثر بھی کیا اور ترقی سے ہمکنار بھی۔ مشرف عالم ذوقی نے اپنے ناول ”لے سانس بھی آہستہ“ کےلئے اسی شہر کو محور بنایا۔ شاید اس سے بہتر کوئی اور مقام ان کے اس موثر ناول کے لئے ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ پل پل تغیر پذ یر ہوتے اقدار کے شیرازے جب بکھرتے ہیں تو اس درد انگیز منظر کو صرف بلند شہر کی سرزمین کے کینوس پر ہی ابھارا جاسکتا تھا جس کی مٹی کے ذرے اپنے جذبات کو نظروں کے سامنے کچلتے و روندتے بڑی بے بسی سے دیکھ رہے تھے۔ چند ایک تو ایسے، جن کے ہےجان احساسات پر کوئی بھی ضرب کارگر نہیں ہوتی تھی۔ نہ انہیں اپنی رائے و زبان کی اہمیت کا اندازہ تھا اور نہ ہی وہ لب کشائی کی جسارت رکھتے تھے۔ سارے سماجی رشتوں میں وہ ایک زندہ لاش کا کردار ادا کررہے تھے۔ زندگی و کائنات کے اصول و ضوابط سے مبرا کئی ایسے سنگ تراش تھے جو پتھر کو پتھر پر، پتھر سے گھس گھس کر پتھر کی مورتیاں تراش رہے تھے۔ زندگی کی اسی پتھریلی رفتار میں کبھی کبھی مشرف عالم ذوقی کی یاد میں سہانے اور مہکتے دریچوں سے وہ حسین و دلکش منظر پیش کرتی ہیں جو روح میں انجذاب ہونے لگتے ہیں۔ لیکن یہ پل بھر کے تماشے سے زیادہ نظر نہیں آتے اور اوس کی بوندوں کی مانند سورج کی تمازت بڑھنے کے ساتھ ہی ناول کے صفحات پر بھاپ بن کر اڑجاتے ہیں۔ لیکن انمٹ نقوش چھوڑ کر گزرجاتے ہیں تاکہ یادوں کے زخم مزید گہرے ہوتے چلے جائیں۔
صنعتی و سائنسی انقلاب کے ترازو میں گھٹتی، دم توڑتی سانسوں کی درمیان نئی تہذیب کی عکاسی کرتی ہوئی اس ناول نے قربانی ایثار کا وہ پیغام دیا ہے جس کی کسوٹی صرف اور صرف حقیقت کا پہیہ ہے۔ ایک ایسا پہیہ جو صرف گھومنا جانتا ہو جسے اپنے ٹھہراوٗ اور مقصد کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ مشرف عالم ذوقی نے زندگی کے تغیرات کو اتنے موثر انداز سے پیش کیا کہ یہ محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کی انتہا میں اب کوئی راز پوشیدہ نہیں ہے اور مٹی کے خمیر سے اٹھی بے جان زنگی واپس مٹی کی طرف جانے کے لئے بے چین و بے قرار ہے۔ سارے قید و بند سے خود کو آزاد کرانے کے لئے اپنی بیڑیاں توڑنا چاہتی ہے اور آدم و حوا کے قدموں میں جاکر اپنی روح کے پنکھوں کو نوچ نوچ کر بکھیر دینا چاہتی ہے تاکہ پھر اسے پرواز کا حکم نہ مل سکے۔ اور وہ دوبارہ زندگی کے چکر میں پھنس کر مسائل کا شکار نہ ہوں اور دبی کچلی زندگی جینے کے لئے مجبور نہ ہوجائیں۔ یہ کردار اونچے بلند پہاڑوں میں سرسبز و شاداب، حسین وادیوں میں اور قدرت کے نظاروں میں خود کو ولین کرنے کے لئے تیار ہیں اور اسی میں خود کی طمانیت مضمر سمجھتے ہیں۔
1980 کے بعد ریاست بہار کے اس باشندے مشرف عالم ذوقی کی تحریر اردو ادب کے گرانقدر سرمائے میں اضافے کا باعث بنی۔ ”لے سانس بھی آہستہ“ ذوقی کی اب تک کی تحریروں میں ایک نمایاں و منفرد مہک رکھتی ہے۔ طوالت کے اعتبار سے یہ دوسروں سے علیحدہ ہے۔ اس ناول میں انہوں نے چار مختلف نسلوں کے اقدار پیش کیے ہیں۔ بنیادی و مرکزی کرداروں میں دادا جان ہیں جو سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام میں ہی خود کو بھلے چنگے محسوس کرتے ہیں۔ ان کا بیٹا وسیع الرحمان آزادیٗ ہند کی جہدوجہد میں مصروف ہے اور آزاد ہندوستان میں اپنے خوابوں کو پورا ہوتے دیکھنے کا متمنی ہے۔ کاردار، جو وسیع الرحمان کا بیٹا اور نئی تہذیب کے تغیر کی چکی کے چاک میں پستا ہوا کردار ہے۔ ان تینوں کے علاوہ ان سے جڑے مستوراتی رشتے اور دےگر مختصر کردار بھی سر ابھارتے نظر آتے ہیں۔
مشرف عالم ذوقی نے تمام کرداروں کی نفسیات کو بڑے موٗثر و بیباک انداز میں پیش کیا ہے۔ ناول نگار نے ملک کی تقسیم کے زخم پر کہیں نمک چھڑکا تو کہیں ہمدرد مسیحا بن کر مرہم لگایا۔ ناول کے یہ چند مکالمے میرے بیان کی تصدیق کریں گے۔
” ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود اور ایاز کہاں ہے کوئی چھوٹا اور بڑا؟ جو محنت کرے گا فصل اسی کی ہے۔“
”کرسکو گے محنت؟“
”کیوں نہیں!“
”سوچ لو اسی جاگیردارانہ نظام میں پلے بڑھے ہو سونے کا چمچہ لے کر۔“
”اب اس چمچے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“
”پرانی یادوں بھولی نہیں جاتیں۔ نئے مسائل بہت دکھ د یتے ہیں۔ ٹھہر ٹھہر کر پرانی یادیں چوٹ پہنچاتی رہیں گی۔“
”د یکھا جائے گا۔“
”حکومت کرنے والے ہو۔ ابھی کون سی حکومت چلی گئی؟ گھر میں یہ حکومت اب بھی ہے نوکر چاکر۔ کتنے خاندان ہیں جو اس کاروار گھرانے سے وابستہ رہے۔ ہم نے انہیں جھولیاں بھر بھر کر خیرات بانٹیں۔“
”خیرات نہیں محنت کی کمائی۔“
”یہ تمہاری سمجھ پر منحصر ہے۔ جو ہمارے یہاں آیا خالی ہاتھ نہیں گیا۔ ہم د ینے والے ہاتھ رہے ہیں۔“
انگریز تو چلے گئے جاتے جاتے دل کے دو ٹکڑے کرکے چلے گئے۔ دنیا کے عرض البلد و طول میں ایک نیا ملک ابھر گیا۔ آزادی نے وہ زخم دیا کہ آج تک نہ بھرسکا۔ اپنی مٹی پر خود ہی مہاجر کہلائے۔ وطن میں بے وطن ہی کہلائے جارہے ہیں۔ ان کی حب الوطنی پر آج بھی انگشت نمائی کی جاتی ہے۔ وہ ہر روز اپنے ہی وطن میں مشکوک و وفاداری لیے ہزاروں بار مرتا ہے اور مر مر کر پھر مرتا ہے۔ اس کرب کو ناول نگار نے اپنے اےک مکالمہ میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
”تمہیں بار بار اپنی صفائی دینی ہوگی اور اس طرح یہ ملک، یہ خطہ، یہ زمین تمہاری ہوکر بھی تمہاری نہیں ہوگی اور کتنی عجیب بات ہے اپنے ملک کو اپنا کہنے کے لیے تم صفائی دو گے اور اسی صفائی میں تمہاری عمر نکل جائے گی۔“
مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ اقتباس آج کے پورے ہندوستانی مسلمانوں کے خون جگر کی سیاہی سے تحریر کیا گیا۔ ناول مےں فلیش بیک اور فلیش فارورڈ کی تکنیک، اسلوب بیان، زندگی کے نشیب و فراز؟ کرداروں کی جذباتی اور نفسیاتی تصویر، نئی تہذ یب میں عقل و فراست کی کمی، ترقی کے نام پر اقدار کی پامالی اور سب ہی کچھ سمیٹ دیا ہے۔ مشرف عالم ذوقی کا یہ ناول ”لے سانس بھی آہستہ“ نئی تہذ یب کی خوش شکستگی کا ایک الارم ہے جو قبل از وقت بج اٹھا ہے۔
٭٭٭
Hajera Bano
Plot No. 93, Sector A, CIDCO N-13,
Himayt Bagh,
Aurangabad 431001 (M.S.)
Mob: 9860733049
E-mail: hajra857@gmail.com
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.