بابائے اردو مولوی عبدالحق نہ وہ ہندوستان کیلئے جیئے نہ پاکستان کیلئے
وہ جیئے تو صرف اردو زبان کیلئے
علیم خان فلکی ۔ جدہ
خاندانِ آصف جاہی کے تاجدار ہفتم نواب میر عثمان علی خان نظامِ دکن یقیناًاپنے دور کے دولتمند ترین حکمران تھے۔ تاریخ کبھی ایسے مالداروں سے خالی نہیں رہی۔آج عرب شیخوں کے پاس اس سے زیادہ دولت ہے۔ سر سید اور مولوی عبدالحق بھی اپنے دور کے عظیم عبقری، مفکر اور اولوالعزم انسان تھے۔ تاریخ ایسے انسانوں سے بھی کبھی خالی نہیں رہی۔آج بھی بے شمار ایسے انسان موجود ہیں جن کے پاس وژن اور اولوالعزمی ہے۔ لیکن وہ یاتو گمنام ہیں یا پھر معمولی اخبارات ، رسائل یا جلسوں تک محدود ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم مولوی عبدالحق صاحب کے عظیم کارناموں کا شمار کریں آئیے دیکھتے ہیں کہ تحریکوں کی کامیابی کی تاریخ بنتی کیسے ہے۔ دولتمند اپنا نام صرف دولتمندوں کی فہرست میں نہیں بلکہ قوم ، ملک ، زبان اور تہذیب کی تاریخ میں کس طرح ثبت کرجاتے ہیں اور کس طرح مولوی عبدالحق جیسے انسان بابائے اردو بنتے ہیں ۔
کسی بھی تحریک کی کامیابی کے تین اجزائے ترکیبی ہیں۔ فکر، عزم اور سرمایہ۔ جب ان تینوں کا امتزاج ہو تو پھر انقلاب آتے ہیں۔ ورنہ کسی ایک کی بھی کمی ہو تو تحریک چند سالوں میں دم توڑدیتی ہے۔ لیکن تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ تینوں عناصر بیک وقت باہم ملے ہوں۔یہ آج سے تقریباً ایک سو بیس سال پہلے کا واقعہ ہے کہ ہماری اور اردو کی خوش قسمتی سے یہ تینوں عناصر تاریخ کے ایک سنہرے موڑ پر ملے اور اسکے بعد جو انقلاب برپا ہوا ،اس کے نتیجے میں اردو زبان نے ایک نیا جنم لیا اور زندہ جاوید ہوگئی۔ سر سید کے پاس فکر تھی۔ قوم کے عروج بلکہ نشاۃ ثانیہ کا ایک مکمل وژن تھا جسے وہ ایک ایک نوجوان کے ذہن اور روح میں سمو دینا چاہتے تھے۔ انہیں مولوی عبدالحق جیسا ایک مستقل مزاج، اہلِ بصیرت ، چٹان جیسا عزمِ مصمّم رکھنے والا نوجوان میسر آتا ہے جو سرسید کی فکر میں ڈوب کر انقلاب کے موتی لانے کیلئے بے چین رہتا ہے۔ اوراس نوجوان کے جوہر کو پہچان کر اپنی دولت کے خزانے لٹا دینے والا ایک جوہر شناس حکمراں نو اب میر عثمان علی خان اس پر اعتماد کرکے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیتا ہے۔اس طرح جب فکر، عزم اور سرمایہ تینوں باہم ملے تو دنیا کی سب سے پہلی اردو یونیورسٹی وجود میں آئی۔ اردو زبان کو یہ وسعت حاصل ہوئی کہ اس میں نہ صرف مذہب بلکہ سائنس، میڈیسن، انجینئرنگ، فلسفہ، ریاضی، سماجی علوم وغیرہ تمام مضامین مکمل اردو میں پڑھائے جاسکتے ہیں۔ آگے جاکر یہ زبان ایک ایسے ملک کی قومی زبان بن جاتی ہے جہاں اگر یہ نہ ہوتی تو بدترین صوبائی اور علاقائی تعصبات کی جنگ میں ملک کی سالمیت برقرار نہ رہ پاتی۔
جملہ معترضہ کے طور پر سہی ایک افسوسناک پہلو کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم لوگ تاریخ کے مطالعے کے معاملے میں بھی عصبیتوں کا شکار ہوگئے ۔بقول علامہ اقبال کے ؂
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہین اسکا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
وطن پرستی کی عصبیتوں کا ہم خود اسقدر شکار ہیں کہ تاریخی واقعات و شخصیات کو بھی وطن پرستی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مستقبل کی صحیح منصوبہ بندی کیلئے یہ شرط ہے کہ ماضی کی تاریخ ایمانداری سے بغیر کسی عصبیت یا جانبداری کے لکھی جائے۔ آج ہم ہندوستا ن کی فرقہ پرست ،مسلم دشمن جماعتوں پر تاریخ میں ردّوبدل کرنے اور عصبیت برتنے کا الزام تو لگاتے ہیں لیکن جہاں ہمیں موقع ملتا ہے ہم خود کتنی عصبیت یا غفلت برتتے ہیں اس کا اندازہ ہمیں مولوی عبدالحق یا نظام کی اردو خدمات کی تاریخ پڑھتے ہوئے ہوتا ہے۔ دکن میں جب نواب میر عثمان علی خان کی اردو کی خدمات کا تذکرہ ہوتا ہے تو صفحات کے صفحات حضور نظام کی شان میں لکھے جاتے ہیں ۔ مولوی عبدالحق کا ذکر سرسری طور پر اسطرح کردیا جاتا ہے گویا وہ ایک اعلیٰ درجے کے ملازم تھے جنہوں نے انتہائی وفاداری اور ذہانت سے حضور نظام کے احکامات کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھائی۔ اور دوسری طرف پاکستان میں بابائے اردو کاذکر ہوتا ہے تو طویل مقالے اور ضخیم کتابیں تصنیف ہوتی ہیں لیکن نظام اور حیدرآباد کا ذکر یا تو نظر انداز کردیا جاتا ہے یا پھر اتنا سرسری کہ بے شمار معاونینِ زر میں سے وہ بھی ایک ایسے معاون تھے جو کبھی کبھی کوئی اچھی سی رقم چندے میں دے دیا کرتے تھے۔ اور شمالی ہندوستانیوں کا یہ حال ہے کہ وہ مولوی عبدالحق کا ذکر یا تو صرف میرٹھ یا علیگڑھ اور سر سید کے حوالے سے کرتے ہیں یا انہیں علیگڑھ سے نکال کر سیدھے پاکستان پہنچادیتے ہیں۔ نظام حیدرآباد جنہوں نے مولوی عبدالحق کو بابائے اردو بننے کیلئے ایک زرخیز زمین فراہم کی اس کا ذکر سرے سے ہوتا ہی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ نظام کے سرمائے اورسرپرستی و منصوبہ بندی کے بغیر مولوی عبدالحق کے خواب ادھورے رہ جاتے اور مولوی عبدالحق کے بغیر نظام کا سرمایہ وہ کارہائے نمایاں انجام نہ دے پاتا جسکی نشانیاں آج بھی باقی ہیں۔ یہ نظام ہی تھے جنہوں نے مولوی عبدالحق کو تحقیق ، منصوبہ بندی اور نفاذ کا میدان مہیا کیا ۔ ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے دیا اور مولوی عبدالحق کی ذہانت، خوداعتمادی اور قیادت کو ایسی تقویت بخشی کہ گاندھی جی اور راجندر پرساد کو ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ اگر مولوی عبدالحق پاکستان نہ جاتے تو بعد میں شائد راجندر پرساد کو یہ موقع نہ ملتا کہ وہ اپنے ویٹو کے اختیار سے ہندی کو ہندوستان کی قومی زبان بنا پاتے۔اور دوسری طرف یہ مولوی عبدالحق تھے جنہوں نے نظا م کے سر اردو کی پہلی کامیاب یونیورسٹی بنانے کا سہرا باندھا۔ نظام کو تاریخ میں یہ شرف حاصل ہوا کہ ان کے عہد میں سینکڑوں تراجم ہوئے، دو لاکھ سے زیادہ اردو الفاظ، تراکیب اور استعاروں اور اصطلاحوں کی صنعت ہوئی۔ اُن کی یہ کاوشیں نہ ہوتیں تو اصل اردو جو دکن میں پیدا ہوئی تھی وہ دوبارہ زندہ نہ ہوتی، قلی قطب شاہ اور ملا وجہی جیسے کئی شعرا و ادبا کی تخلیقات جو دفن ہوچکی تھیں وہ دوبارہ منظر عام پر آکر اردو کی تاریخ کو روشن نہ کرتیں۔ اردو کو مذہب کی زبان سے ہٹ کر ایک سائنٹفک مقبولِ عام زبان ہونے کا شرف حاصل نہ ہوتا۔ اسطرح عہد جدید کی اردو کیلئے جہاں نواب میر عثمان علی خان نے جسم کا کام کیا وہاں مولوی عبدالحق نے روح کا کام کیا۔ سرسید احمد خان نے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس قائم کی اور ہندوستان کے کونے کونے میں مسلمانوں میں تعلیمی شعور کو بیدار کرنے کیلئے شہر شہر جلسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا۔مولوی عبدالحق نے 1894ء ؁میں فلسفہ سے ایم اے کیا اور سر سید کے ساتھ ہولئے۔ اگرچہ وہ سول سرویسس میں داخل ہوگئے لیکن جو فکری نشہ ایک بار رگِ جاں میں اتر چکا تھا اسکے سرور نے بہت جلد نوکری چھوڑ کر اپنے آپ کو ایک مشن کے ساتھ جوڑ دینے کیلئے مجبور کرنے لگا۔ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی چھبیسویں کانفرنس 1903 میں یہ طئے کیا گیا کہ اردو کی ترقی کیلئے ایک علحدہ شعبہ تشکیل دیا جائے۔ یہ شعبہ شروع تو ہوگیا لیکن سرمایہ کی کمی کے باعث کوئی کار نمایاں انجام نہ دے سکا۔ 1912میں جب مولوی عبدالحق کو اس کا سکریٹری منتخب کیا گیا اس وقت وہ اورنگ آباد میں عثمانیہ کالج کی اپنی صلاحیتوں سے آبیاری کررہے تھے۔ انجمن ترقی اردو کا یہ عہدہ ان کیلئے اردو کے کام کی توسیع اور پورے ہندوستان کی سطح پر اردو کو بطور تحریک چلانے کا ایک بہترین موقع تھا۔ انہوں نے نظام دکن سے سرپرستی کی درخواست کی۔ نظام اور بیگم آف بھوپال نے جیسے ہی سرپرستی قبول کی انجمن ترقی اردو کی گونج سارے ہندوستان میں سنائی دینے لگی۔ شہر شہر اس کے جلسے منعقد ہونے لگے۔ بڑے بڑے مشاہیرانِ ادب اور قائدین اس قافلے میں بحیثیت رکن جڑنے لگے جیسے ابولکلام آزاد، علامہ اقبال، گاندھی جی، سر تیج بہادر سپرو، راجندر پرساد وغیرہ۔ 1917میں نظام نے 36کروڑ کے ابتدائی سرمائے سے عثمانیہ یونیورسٹی کی تعمیر کا آغاز کیا ۔مولوی عبدالحق کو شعبہ اردو اور دارالترجمہ کا کام سونپ دیا گیا۔ مولوی صاحب نے پورے ہندوستان سے کئی اہم مشاہیرینِ ادب کو جمع کیا اور تقریباً تین سو کتابوں کا ترجمہ کروایا۔ کئی رسالے اور اخبار جاری کروائے۔ ؟ میں جب وہ ریٹائر ہوئے تو نظام نے انہیں دوبار شعبۂ اردو کا صدر منتخب کیا۔ مولوی عبدالحق کی خواہش تھی کہ وہ اردو انگریزی ڈکشنری مرتّب کریں۔ نظام نے اس کام کیلئے علحدہ سے 12کروڑ روپئے سالانہ کا بجٹ منظور کیا جو مکمل طور پر مولوی عبدالحق صاحب کے مشن کی تکمیل کیلئے وقف تھا۔ وہ بارہ کروڑ آج کے تقریباً ڈھائی سو کروڑ ہندوستانی اور چار سو کروڑ پاکستانی روپئے بنتے ہیں۔ نظام یوں بھی ایک سخی حکمراں گزرے ہیں۔ کوئی مدرسہ، خانقاہ، مسجد، کالج یا یونیورسٹی یا ادارہ ایسا نہیں تھا جس نے ان سے مدد مانگی اور انہوں نے مدد نہ کی ہو۔ تاریخ میں دو مواقع ایسے آئے جب کہا جاتا ہے کہ نظام نے اپنے خزانے خالی کردیئے۔ ایک تو دوسری جنگ عظیم کے بعد جب انگلینڈ کے پاس بکنگھم پیلیس میں روشنی کیلئے بتّیوں کے بدلنے کی بھی استطاعت نہیں تھی اس وقت نظام نے لاکھوں پاونڈ کا قرض دیا جو کبھی وصول نہ ہوسکا۔ اور انگریز نے اسطرح صلہ دیا کہ سقوطِ حیدرآباد کے موقع پر ہندوستانی فوجوں کا بھرپور ساتھ دے کر حیدرآباد کا جلد سے جلد خاتمہ کرنے میں مدد کی۔دوسرا موقع وہ تھا جب تقسیم ہند کے بعد پاکستان کو حسبِ معاہدہ رقم نہیں ملی اور ملازمین کی تنخواہیں دینے کیلئے بھی سرکاری خزانے میں پیسہ ختم ہوگیا۔ اس وقت نظام نے پاکستان کو لاکھوں پاونڈ کی مدد سے نوازا۔
حکمرانوں کی سرپرستی اور سرمائے سے کسی تحریک کی کامیابی کا تعلق کتنا گہر ا ہے یہ معلوم کرنے کیلئے یہ بھی غور کیاجائے کہ مولوی عبدالحق کے پاکستان پہنچنے پر سب سے پہلے جس شخصیت نے اردو کو فوری طور پر قومی زبان قرار دینے کی اہمیت کو سمجھا اور ساتھ دیا وہ تھے محمد علی جناح ۔ یہاں مولوی عبدالحق کی دوراندیشی کی جتنی قدر کی جائے کم ہے کہ ایک ایسے نازک وقت میں جب علاقائی اور صوبائی نفرتیں اور تعصبات جو روزِ اول سے آج تک خون آشام واقعات سے بھرپور ہیں انہوں نے موقع کی نزاکت کو سمجھا اور وقت کی قیادت کو قائل کیا کہ اگر مستقبل میں پاکستان کو لسانی جنگ سے بچانا ہو اور اسکی سالمیت کو دائم باقی رکھنا ہو تو اردو کو فوری طور پر قومی زبان قرار دے دیا جائے ورنہ ہر صوبہ اپنی زبان کو قومی زبان بنانے کی ضد پر اڑ جائیگا اور ملک کئی ٹکڑوں میں بنٹ جائیگا۔ اسطرح مولوی عبدا لحق کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور اردو قومی زبان بن گئی۔ پھر فیلڈ مارشل ایوب خان نے اردو کالج کے قیام اور اسکی ترقی کیلئے جتنی سرپرستی اور مال کی فراہمی کی وہ بھی اردو کی تاریخ کا ایک اہم حصّہ ہے۔ ایوب خان ہی کے دور میں مولوی عبدالحق کو بابائے اردو کا خطاب پیش کیاگیا۔
میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اتنی طویل تمہید کا مقصد نواب میر عثمان علی خان یا ایوب خان کی مدح سرائی یا قصیدہ گوئی نہیں اور نہ کسی کے احسانات گِنوانا مطلوب ہے۔ نکتہ یہ ہیکہ آج بھی ہزاروں ایسے دانشور ہندوستان اور پاکستان میں گمنام زندگی گزار رہے ہیں جن کے پاس وژن ہے۔ ہمت و حوصلہ ہے۔ ملک و قوم کیلئے وہ اپنی زندگی بھی نچھاور کرنے کا عزم رکھتے ہیں لیکن حکمراں طبقہ جو کروڑہا روپیہ سرکاری خزانوں سے سوئس بنکوں یا امریکی بنکوں کے اپنے اکاونٹس میں منتقل کررہا ہے اگر وہ اردو کیلئے زکوٰۃ ہی کے طور پر سہی کچھ رقم وقف کرے تو اردو کو اسکا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل ہوسکتا ہے۔ جب دنیا کتابوں کی دنیا تھی اردو نے حکومت کی۔ پورے عرب ممالک میں جتنی تعداد میں کتابیں شائع ہوا کرتی تھیں اتنی تو صرف ایک شہر کراچی یا حیدرآباد دکن میں شائع ہوا کرتی تھیں۔ آج انٹرنیٹ کا دور ہے۔ ہندوستان کی علاقائی اجڈ زبانیں انٹرنیٹ پر چھائی ہوئی ہیں۔ ڈکشنری ہو کہ رسم الخط، رسائل ہوں کہ کتابیں ان لوگوں نے اپنی زبانوں کو سمندر کیطرح انٹرنیٹ پر پھیلا دیا ہے۔اردو اسقدر پیچھے ہے کہ کوئی سائٹ ایسی نہیں جہاں آپ کسی اہم لفظ کے معنی تلاش کرسکیں۔ خودبابائے اردو مولوی عبدالحق پربے شمار مضامین تو انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ جن کو انٹرنیٹ پر ڈالنے کیلئے بہت زیادہ محنت بھی درکار نہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہیکہ ان کی کتابیں، مضامین، مکتوبات اور مقدّمے ندارد ہیں۔ اگر حکمران طبقہ اپنی لوٹ کم کرے اور قوم اور زبان کو پھلنے پھولنے دے تو یہ زبان پھر سے ایک ٹکنالوجی کی زبان بن سکتی ہے۔ بالفاظِ دیگر مولوی عبدالحق کے پروردہ بے شمار ذہن اور حوصلہ مند آج بھی موجود ہیں لیکن کمی ہے تو بس نواب صاحب یا ایوب خان جیسے حکمرانوں کی۔
مولوی عبدالحق یوں تو حیدرآباد یا اورنگ آباد میں رہے لیکن ان کی عقابی نظریں پورے ہندوستان اور پاکستان کے آنے والے حالات پر بڑی گہر ی تھیں۔ شمالی ہندوستان میں ہندی کو قومی زبان بنانے کی درپردہ سازشوں کو انہوں نے بھانپ لیا تھا اور اسکی دفاع میں تحریک چلائی۔ بالآخر گاندھی جی نے انہیں بین لسانی کانفرنس میں مدعو کیا اور 1938میں جو مشترکہ قرارداد منظور کی گئی اسکے مطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ہندی اور اردو کے امتزاج سے ایک ایسی زبان جاری کی جائیگی جو نہ ٹھوس ہندی ہوگی اور نہ دقیق اردو ہوگی ۔ اس زبان کو گاندھی جی نے ’’ہندوستانی‘‘ کا نام دیا۔ہندی کا ارتقا محض ایک سیاسی اور فرقہ واری ارتقا تھا کیونکہ اردو میں ادب کم اور مذہب زیادہ تھا۔ مسلمانوں کا زور توڑنے کیلئے انگریزوں نے ہندی کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا اور اردو ہندی کے نام پر فرقہ واریت کو خوب ہوا دی۔ اور ہندوستان کی واحد لسانی میراث کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔ گاندھی جی کا ’’ہندوستانی‘‘ زبان کا فارمولہ اردو اور ہندی دونوں کیلئے ایک محافظانہ فارمولہ تھا جسمیں دونوں کی بقا تھی۔ اور مولوی عبدالحق اسکی تائید میں تھے۔ وہ بھی ایک ایسی زبان کا رواج چاہتے تھے جسے ہر ہندی اور اردو والا بآسانی بول سکے اوراسے بولتے ہوئے کسی کے دل میں کسی قسم کا تعصّب یا احساسِ کمتری یا برتری پیدانہ ہو۔ اس قرارداد پر مولوی عبدالحق اور راجندر پرساد نے دستخط کئے ۔ یہ قرار داد انجمن ترقی اردو کی آفیشئیل ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اس قرارداد کے مطابق پرائمری اسکول سے کالج تک ہندوستانی زبان کی ترویج کیلئے نصابی کتابوں کی تیاری کا کام فوراً شروع ہونا تھا۔ لیکن پاکستان کے قیام کے بعد مولوی عبدالحق پاکستان منتقل ہوگئے اور ہندوستان میں اردو کا پھر کوئی محافظ نہ رہا۔ اور اسکے بعد جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ گاندھیائی ہندوستانی فارمولہ آزادی کے بعد ہندی فرقہ پرست قانون سازوں کے ہاتھوں شکست کھاگیا۔ ہندوستان کی قومی زبان ہندی بنا دی گئی اور اردو کا دیس نکالا ہوگیا۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گئی اور وہاں سے ہندی کا دیس نکالا ہونا بھی فطری تھا۔
مولوی عبدالحق کا نظریہ یہ تھا کہ اردو کو ایک ایسی سائنٹفک زبان بنایا جائے جسمیں سائنس، مذہب، فلسفہ، ٹکنالوجی سب سماسکیں۔ وہ چاہتے تھے کہ دنیا کی ہر زبان کے لفظ کو اسمیں داخلہ ملے اور یہ ایک آفاقی زبان بن جائے۔ اور انہی کوششوں کے نتیجے میں ایسے کئی الفاظ اردو میں آئے جو مقامی زبانوں سے بھی تھے اور عالمی جیسے انگریزی، ترکی، ازبک وغیرہ سے بھی۔ وہ اردو کو عربی اور فارسی کی اصطلاحوں اور ترکیبوں سے نکال کر ایک ایسی مقبولِ عام زبان بناناچاہتے تھے جسے بولتے ہوئے کسی کو اس پر ایک مخصوص مذہب کی بولی کا احساس نہ ہوکیونکہ اردو کو ایک ایسی سرزمین پر باقی رہنا تھا جو ہندی اور سنسکرت کی سرزمین تھی ۔ اردو کی قواعد اور اسکا صوتی آہنگ ، حروف کی ادائیگی عربی اور فارسی سے الگ اور ہندی کے قریب ہے۔امیر خسرو اور ان کے ہمعصر صوفیا کے کلام اور قلی قطب شاہ کے عہد کے شعرا، داستان گو ادبا کی زبان پڑھنے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اردو کی اصل مقامی زبان سنسکرت ہے۔ عربی اور فارسی کا اردو میں داخلہ بہت دیر بعد ہوا۔ لیکن جب ہوا تب اردو جسے ہندی یعنی ہند والی ، ریختہ یا کھڑی بولی بھی کہاجاتا تھا وہ ہندی یا ریختہ نہ رہی بلکہ مسلمانوں کی زبان بنتی چلی گئی۔حتیٰ کہ جنوبی ہندوستان میں اسے ’’تُرکاماٹا‘‘ یعنی ترکوں کی زبان بوجہ شاہانِ مغلیہ جو اصلاً ترک تھے کہا جانے لگا۔ اور ہندی بھی رفتہ رفتہ اپنی اصل یعنی دیومالائی سنسکرتی وید اور اپنیشد کے اسلوب کو اپناتی چلی گئی۔مولوی عبدالحق یہی نہیں چاہتے تھے کہ ہندی ہندو ہوجائے اور اردو مسلمان۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ بھلے ہندی ہندو ہوجائے لیکن اردو پورے ملک کی Lingua Francaرہے۔ سکھ ، عیسائی ،ہندو سارے اسکے شیدائی رہیں کیونکہ بہرحال یہ حقیقت ہیکہ اردو سنسکرت سے جنمی ہے۔ وہ عربی اور فارسی کے الفاظ کی کثرت کے باوجود ایک خالص ہندوستانی زبان ہے۔ اسکی صوتیات فارسی عربی آمیز ہندوستانی صوتیات ہے۔ اگرچہ صَرف پر عربی فارسی اثرات ہیں لیکن نحوخالص ہندوستانی زبانوں کے مماثل ہے۔ عربی اور فارسی نے اسکے صوتیاتی حسن میں دیگر زبانوں کے مقابلے میں اور اضافہ کردیا۔ اس کی وجہ سے ایک اردو داں روسی، جرمن ، انگریزی وغیرہ دیگر زبانوں کے حصول میں صوتی لحاظ سے سہولت محسوس کرتا ہے۔ اسکی قوّتِ اظہار اور اختصار کی خصوصیت بھی عربی اور فارسی ہی کی دین ہے جس کہ وجہ سے یہ ہندوستان کی ساری زبانوں میں سب سے زیادہ پر کشش ہوتی چلی گئی۔ اسی لئے مولوی عبدالحق کہا کرتے تھے کہ دوسری کوئی زبان بولنے والا کسی دوسری زبان کے الفاظ کی اتنی زیادہ صحیح ادائیگی نہیں کرپاتا جتنا ایک اردو داں کرسکتاہے۔ ایک اردو داں کسی بھی زبان کے تلفّظ کو بآسانی ادا کرسکتاہے۔ بابائے اردو یہ چاہتے تھے کہ زبان کو اتنا آسان کرو کہ آپ کے گھر کا نوکر بھی سمجھ جائے۔ وہ کہتے تھے کہ مرصّع اردو اصطلاحات اور ترکیبیں جو فارسی یا عرب سے لی جائینگی وہ متروک ہوجائینگی ۔ اور ایسا ہی ہوا۔ آج نئی نسل جمعہ کا خطبہ بھی پورا سمجھنے کی اہل نہیں حالانکہ وہ اردو میں ہی ہوتا ہے۔ مجھے حضرت منّت اللہ رحمانی ؒ یاد آرہے ہیں جنہوں نے ایک بار نصیحت فرمائی تھی کہ زبان ایسی اختیار کرو جو تمہارادوست اور تمہاری بیوی آسانی سے سمجھ جائے۔ ابوالکلام آزاد اور علامہ اقبال کے پاس ایک انقلابی پیغام تھا۔ وہ دلوں اور دماغوں میں ہلچل مچادیتے تھے۔ ان کے نظریات آج بھی اور شائد رہتی دنیا تک بھی اہل فکر و نظر کیلئے مشعلِ راہ ہونگے ۔ لیکن ان لوگوں کی زبان وہی تھی جو اُس وقت کی سب سے پسندیدہ زبان تھی جو آج کی نسل کے پلّے نہیں پڑتی۔ وہ وقت ایسا تھا کہ زبان برتنے کے معاملے میں اہلِ زبان غیرتِ زبان کی وجہ سے اس میں سوائے فارسی یا عربی الفاظ و ترکیبوں کے آسان زبان یا ہندی سنسکرت یا انگریزی ترکیبوں کی ملاوٹ کو عیب گردانتے تھے۔ نتیجہ یہ ہواکہ اب وہ زبان اور اسکے ساتھ ساتھ انکا پیغام بھی متروک ہونے لگا ہے۔ اب وہ زبان مضمون نگاروں کیلئے مضمون میں زبان دانی کا رعب ڈالنے اور حوالوں کو معتبر اور وزن دار بنانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ جو نسل آج آئی ٹی، اکنامکس اور سائنس وغیرہ میں اپنے ملک میں یا بیرون ملک جاکر ترقی کررہی ہے وہ اپنی مادری زبان کی گہرائی اور گیرائی سے ناواقف ہے۔ قوّالوں اور غزل یا پوپ گانے والوں نے کسی حد تک علامہ اقبال کو زندہ رکھا ہے ورنہ سچ پوچھئے توکسی ذہین نسل کو اپنی سوچوں اور آئی کیو کو پروان چڑھانے کیلئے جس زبان کی ضرورت ہے وہ صرف مادری زبان ہوسکتی ہے۔ لیکن آج کی نسلیں اپنی مادری زبان سے دور ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی قوّتِ اظہار گنگ ہوکر رہ گئی ہے۔ وہ احتجاجی زبان تو جانتے ہیں لیکن افہام و تفہیم کی صلاحیت سے محروم ہیں۔
مولوی عبد الحق کہا کرتے تھے کہ ’’ اردو میں کتابوں کا سب سے بڑا ذخیرہ مذہبی کتابوں کا ہے۔ علماءِ دین کی زبان عربی اور فارسی لفظوں اور اصطلاحوں سے لدی ہوئی ہوتی ہے۔ اور عوام علماء کی تحریروں کو محض مذہبی عقیدت کی بناجس انہماک سے پڑھتے ہیں اس طرح کسی اور اردو تحریر کو نہیں پڑھتے سوائے اخبارات کے۔ اسلئے یہ زبان مذہبی پہچان سے باہر نکل نہ پائی‘‘۔ آج ہندوستان میں غیر مسلم اگر اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دے کر اس سے عصبیت برتتے ہیں تو کسی حد تک بات غلط نہیں ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں لکھنو کے ناسخ اور آتش جیسے شعرا نے تو باضابطہ تحریک چلائی تھی کہ غزل میں سوائے عربی یا فارسی کے اگر کوئی اور لفظ استعمال ہوجائے تو اسے شاعری ہی تصّور نہیں کیا جاتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بے شمار شعرا جنکی مادری زبان ہندی تھی لیکن اردو میں شعر کہتے تھے اسے ایک توہین سمجھ کر اردو شاعری سے نہ صرف دور ہوگئے بلکہ اسی عصبیت کو مستعار لے کر ہندی کے فروغ میں لگ گئے۔ اسی لئے شائد اس دور کے ایک اہم محقق ڈاکٹر گیان چند جین کو کہنا پڑا کہ ’’ اردو والوں کا یہی مزاج ہے کہ وہ اپنے ملک کی زبانوں ہندی، سنسکرت سے پرے پرے رہتے ہیں اور دور دراز کی طرف بھاگتے ہیں۔ (ایک بھاشا دو لکھاوٹ دو ادب 2005 ). مولوی عبدالحق کی کئی اہم تحقیقات دکنی زبان پر ہیں جس میں انہوں نے اردو کی ارتقا کی بنیاد رکھی جسکی تاریخ کم سے کم ایک ہزار سال بنتی ہے۔ انہوں نے دکنی زبان، اصطلاحوں اور محاورں پر کام کیا اور یہ ثابت کیا کہ اگر زبان کو زندہ رکھنا ہے تو اردو کو مقامی زبانوں کے قریب کرنا ہے نہ کہ بیرونی زبانوں کے۔ شائد یہی وجہ رہی ہیکہ مولوی عبدالحق سے علماءِ وقت کی ہمیشہ چشمک رہی ہے۔ علماء کا ہر دور میں یہ بھی ایک مسئلہ رہا ہے کہ وہ قیادتِ کُل کے دعویدار ہوتے ہیں اور ہر غیر عالم (جس نے مدرسے سے تعلیم حاصل نہ کی ہو) پر اپنی قیادت کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ سرسید ، ابوالکلام یا مولوی عبدالحق ہی نہیں بلکہ ایسے بے شمار محسنانِ قوم ہیں جنہوں نے زبان، اصلاحِ معاشرہ، سائنس، سیاست، معاشیات، فلسفہ وغیرہ میں کئی انقلاب انگیز کارنامے انجام دیئے لیکن ان کو علما ء نے دوسرے درجے کا مسلمان قرار دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ہر وہ مضمون جو مدرسے یا درسِ نظامی میں شامل نہیں ہے اس پر کام کرنا لہو الحدیث کے مماثل ٹھہرا۔ اگر قدردانی بھی کی تو کسی مستحب کام کی طرح۔ ہر دور میں ہر صاحبِ فکر و انقلاب کو اپنے مذہب و مسلک کی عینک سے دیکھنااور اسکی مسلمانی حیثیت کا تعیّن کرنا ایک ایسی روش ہے جو علما ء سے لے کر ان کے عام مقلّدین اور موئدین میں بھی چل پڑی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مدرسوں اور مدرسے سے فارغ ہونے والوں کی تعداد لاکھوں بلکہ کروڑوں میں ہونے کے باوجودیہ طبقہ نہ کبھی زبان کی ترقی کیلئے آگے آتا ہے نہ ادب میں اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے ۔ سماجی فلاح، اصلاحِ معاشرہ، بینکنگ، تعلیم، کونسلنگ، وغیرہ جو کہ آج کے اہم ترین مبادیاتِ تعلیم و ضروریاتِ زندگی ہیں ان سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں رکھتا۔ اور نہ جو واسطہ رکھتے ہیں ان سے علاقہ رکھتا ہے۔
بحرحال بابائے قوم مولوی عبدالحق کی خدمات کے بارے میں کرشن چندر نے کہا تھاکہ ’’جو کام مہاتما گاندھی نے ہندوستان کیلئے اور قائداعظم نے پاکستان کیلئے کیا وہی کام مولوی عبدالحق نے اردو کیلئے کیا‘‘۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اپنی پوری عمر مجرّد رہ کر اردو کی خدمت کیلئے وقف کردی۔ حقیقت میں وہ بابائے قوم کہلانے کے مستحق تھے ۔
نوٹ: اس مضمون کے اہم نکات ۲۱ نومبر ۲۰۱۲ ء کو عالمی اردو مرکز ، جدہ کی جانب سے منعقدہ ’’یومِ بابائے اردو‘‘ کے موقع پر تقریر ی شکل میں پیش کئے گئے۔ احباب کی بے حد پسندیدگی نے اسے تحریری شکل دینے پر اکسایا۔ میں جناب اطہر نفیس عباسی صدر عالمی اردو مرکز، حامد اسلام خان نائب صدر اور مبصّراعظم اور روحیل خانصاحبان کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے تحریک پیدا کی اور مجھے لکھنے کا شرف حاصل ہوا۔
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.