پروفیسر عبد الحق کی مقدمہ نگاری
سہیل انجم
  
شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کے سابق سربراہ اور ماہر اقبالیات پروفیسر عبد الحق کی بہت سی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اہل علم و دانش کی قدر کرتے ہیں او راس قدر افزائی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ کہیں عَلم بردارانِ دانش و بینش او ران کی علمی کاوشوں کی پذیرائی کی روایت ہی نہ اٹھ جائے۔ وہ جہاں برگزیدہ علمی ہستیوں کا ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے احترام کرتے ہیں وہیں خورد نوازی میں بھی ایک البیلے طرز کے موجد ہیں۔ وہ اپنے سے چھوٹے مگر ذی علم افراد کی حوصلہ افزائی کو اپنا ایک ناگزیر فریضہ تصور کرتے ہیں۔ لیکن اس عمل کے دوران وہ بہر حال وقار و اعتبار اور حق و انصاف کا بھی پاس و لحاظ رکھتے ہیں کہ کہیں ان پر بیجا قدر افزائی یا نقائص شماری کا بد نما الزام نہ لگ جائے۔ زیر نظر کتاب ”تبریک و تبصرے“ اس بات کی شاہد ہے کہ پروفیسر عبد الحق کے دل میں خیالِ خاطرِ احباب کو بھی ایک مقام حاصل ہے اور کسی کی دل شکنی کو وہ بہر حال مستحسن نہیں سمجھتے۔ تاہم وہ احتیاط کا دامن بدرجہ اتم تھامے رہنے کو بھی عزیز رکھتے ہیں۔
کتابوں پر تبریک، تبصرے او رمقدمے لکھوانے کی ایسی روایت قائم ہے کہ اسے لوگ دلداری کے ساتھ ساتھ خوشامد درامد کا ایک وسیلہ بھی بنائے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے اکثر و بیشتر انصاف کا خون ہوتا رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص ذاتی طور پر پسند ہے یا اس سے اچھے مراسم ہیں تو اس کی قلمی کاوش خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو معرکة الآرا تصنیف قرار پائے گی اور اگر کسی سے بغض و عناد ہے تو اس کا علمی کارنامہ بھی نقائص سے پر نظر آئے گا۔ بعض ایسے مقدمہ نویس اور تبصرہ نگار بھی موجود ہیں جو فرمائشی تبصرے تحریر فرماتے ہیں اور اس کے لیے ان کے نزدیک کتاب کے مطالعے کی نہ کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی ضرورت۔ پروفیسر عبد الحق کوئی پیشہ ور مقدمہ نویس یا تبصرہ نگار نہیں ہیں۔ وہ علمی کاوشوں کو اس مشغلے پر ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوستوں اور عزیزوں کی خواہشوں کا احترام بھی کیا جانا چاہیے اور اس احترام کے نتیجے میں وہ اب تک پچاس سے زائد کتابوں پر تاثرات تحریرکر چکے ہیں۔ پروفیسر عبد الحق کی مذکورہ کتاب انہی تاثرات کا مجموعہ ہے۔ اس میں تاثرات تو ہیں ہی بعض کتابوں پر بھرپور تبصرے بھی ہیں اور بعض مضامین کا مقصد دلداری و دلنوازی بھی ہے۔ کتاب کے شروع میں جو مضمون ہے اس کا عنوان ہے ”کتاب سے پہلے“۔ یہ محض دو صفحات کا مضمون ہے لیکن انتہائی جامع اور بھرپور ہے۔ پانچ چھوٹے چھوٹے پیراگرافوں پر مشتمل یہ مضمون پانچ طویل ابواب سے کم نہیں۔ تقریباً دو پیراگراف تبریک، تبصرے اور مقدمے سے متعلق ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ان دونوں پیراگرافوں میں مقدمہ نگاری و تبصرہ آرائی کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اس اجمالی تحریر کا ایک ایک جملہ اصول و قواعد کا بحر بیکراں ہے۔
مثال کے طور پر وہ لکھتے ہیں ”یوں بھی تقریض میں تنقید کی بہت کم گنجائش ہوتی ہے۔ دلداری اور فروغ نظر کے لیے مبالغے سے کام لینا برا نہیں لیکن مقدمہ نگاری محض مدح سرائی بھی نہیں ہے“۔ وہ آگے یہ بھی لکھتے ہیں ”قدریں پیش نظر ہوں تو لب بستہ ہونا ضرورت بن جاتا ہے“۔ گویا مقدمہ نگاری اور تبصرہ آرائی میں بہر حال قدروں کا بھی پاس و لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ یہ کہنے پر بھی مجبور ہیں کہ ”ثنا و ستائش مقدمہ نویسی کا معمول بن گیا ہے“۔ اس فن کے نوواردوں کے لیے ان کے یہ جملے کسی رہنما اصول سے کم نہیں ”تقریظ ایک رسم قدیم ہے جس میں تخلیق کے محاسن و معائب اور مصنف کے مختصر کوائف کا ذکر ہوتا ہے۔ خوبیوں کا تذکرہ مطالعہ کی ترغیب دیتا ہے۔ کتاب کے مطالعہ کا شوق پیدا کرنا تبریک کا ایک بنیادی اسلوب ہے جسے اس زمانہ میں خدمتِ علم او رکارِ نیک سمجھنا چاہیے“۔
یہ ہر قلم کار کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے مضامین زمانہ کے دست برد سے بچے رہیں اور آئندہ نسلیں بھی ان سے استفادہ کر سکیں۔ اس کی صورت یہی ہے کہ انھیں کتابی پیرہن دے دیا جائے تاکہ ان کی کسی طور حفاظت ہو سکے۔ پروفیسر موصوف کے خیال میں ”پایانِ عمر چیزوں کو سمیٹنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے....تخلیقی اثاثے کا تحفظ اور بہر صورت اس کی جمع و ترتیب عمرِ رائیگاں کے آخری دور کی روایت بن گئی ہے“۔ چنانچہ آنجناب نے بھی اس روایت پر عمل کیا ہے اور اس کے نتیجے میں یہ کتاب منظر عام پر آئی ہے۔
اس مجموعہ میں 51کتابوں پر تبریک و تعارف ہیں اور 18شخصیات پر تاثرات و تبصرے ہیں۔ ان مضامین کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض مضامین ایسے بھرپور ہیں کہ وہ تخلیق پارہ بن گئے ہیں۔ بعض شخصیات سے اپنے دیرینہ رشتہ دل و جگر کا اعلان کیا گیا ہے تو بعض سے اکا دکا ملاقاتوں سے دل و نگاہ پر پڑنے والے خوشگوار اور دیر پا اثرات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ جن شخصیات کے تعلق سے بھرپور تاثرات لکھے گئے ہیں ان میں ڈاکٹر اختر بستوی، رشید حسن خاں، پروفیسر بشیر احمد نحوی، شریف الحسن نقوی، علقمہ شبلی، پروفیسر کبیر احمد جائسی، پروفیسر حنیف کیفی، محمد خلیل، ڈاکٹر کالیداس گپتا، پروفیسر وہاب اشرفی اور ڈاکٹر کمال احمد صدیقی قابل ذکر ہیں۔ جبکہ جن کتابوں پر بھرپور تبصرہ آرائی کی گئی ہے ان میں اودھ میں اردو ادب کا تہذیبی اور فکری پس منظر : پروفیسر محمد حسن، افسانہ نیم شب : ڈاکٹر اصغر کمال، اقبال او راردو کلام چند مباحث : ڈاکٹر ایوب صابر ایبٹ آباد، جون پور کی ادبی خدمات تاریخ کے آئینے میں : ڈاکٹر خدیجہ طاہرہ، سفینہ دل : شاد عباسی، پروفیسر رفیع الدین ہاشمی حیات و خدمات : ڈاکٹر ظہور مخدومی، صحیفہ غزل : عبرت مچھلی شہری، نقد الشر : ڈاکٹر محمد جعفر احراری، اقبال کی اردو نظم امیجری کے تناظر میں : محمد نعیم بزمی لاہور، مقالات محمود : ڈاکٹر محمود حسن الہ آبادی، اقبال اور تہذیبی تصادم : ڈاکٹر معید الظفراور داستان سے ناول تک : پروفیسر ابن کنول کا نام لیا جا سکتا ہے۔
پروفیسر عبد الحق ماہر اقبالیات ہیں اس لیے اقبال کے بارے میں ان کے خیالات کو سند کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی اس بات سے شائد ہی کوئی انکار کرے ”ہماری علمی و ادبی کارگہی اقبال شناسی سے ہی وابستہ ہے۔ مقتدر ناقدین ہوں یا محققین تقریباً سبھی کو اقبال سے وقار حاصل ہوا ہے“۔ ایک دوسرے مضمون میں جو کہ ابن احمد نقوی کی کتاب ”فکر اقبال“ پر ان کا تعارف ہے لکھتے ہیں ”مولانا علی میاں کے بعد یہ کسی عالم دین کی اقبال شناسی کی خوشگوار کوشش ہے۔ اقبالیاتی مطالعہ میں علمائے کرام کی خدمات سے کسی قیمت پر صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اردو کے اکیلے تخلیق کار ہیں جن پر اکابرین علما نے توجہ دی ہے“۔ ڈاکٹر حبیب الرحمن کی تصنیف ”اردو میں نعت گوئی کا موضوعاتی مطالعہ“ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کے ان جملوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ”غالب نے نعت گوئی میں منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ اقبال نے بظاہر نعت نہیں لکھی لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ان کا سرمایہ شعر پیغمبر اعظم و آخر کے ذکر سے منور ہے او راس فن میں اقبال کی حکیمانہ نکات آفرینی نے نعت گوئی کو نئے امکانی جہات سے آشنا کیا ہے“۔ نعت گوئی کے سلسلے میں پروفیسر موصوف کے یہ جملے ہمارے ادبی مٹھا دھیشوں کی نیتوں کی قلعی کھولتے ہیں او ران کی عصبیت و جانبداری کو آئینہ دکھاتے ہیں ”حیرت ہوتی ہے کہ ہماری کوتاہ بینی نے نعت کو صنف شاعری قرار دینے میں بخل برتا۔ اگر مثنوی و مرثیہ اصناف شعر تسلیم کیے جا سکتے ہیں اور نصاب میں شامل ہو سکتے ہیں تو نعت سے گریز پائی کیوں؟ تنگ دلی و ترقی پسندی ہی سنگ راہ بنی۔ نام نہاد نظریہ اور ایک خاص عقیدے نے اس صنف ادب کو جزوِ نصاب نہ بننے دیا۔ شکر ہے کہ ہماری گراں خوابی کا دور گزر گیا او راب یہ ایک تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اب تک دانش گاہوں کے بیسیوں مقالے ہماری دانست میں موجود ہیں او رہم ادبی احتساب کے نئے دور میں داخل ہیں“۔ یہ سوال بہت برجستہ ہے کہ آخر نعت گوئی کو صنف شاعری تسلیم کیے جانے میں بخل سے کام کیو ںلیا جا رہا ہے جبکہ یہ کوئی نئی صنف نہیں ہے، اس کے بانی حضرت حسان بن ثابت ہیں۔ اس سوال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جب مثنوی اور مرثیہ اصناف شعر ہو سکتے ہیں تو نعت گوئی کیوں نہیں۔ یوں تو مضامین کا یہ مجموعہ کتابوں پر تاثرات و تبصرے تک محدود ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر عبد الحق نے مقدمہ نویسی اور تبصرہ نگاری کے توسط سے بہت سے علمی نکات پر گفتگو کی ہے اور بحث و مباحثے کے نئے دروازے وا کیے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے مضامین جہاں اپنے آپ میں علمی مباحث کے حامل ہیں وہیں علمی کاوشوں کی پذیرائی سے بھی عبارت ہیں۔ اس کتاب کی ضخامت 190صفحات ہے اور اس کی قیمت 300روپے ہے۔ اسے پروفیسر عبد الحق سے براہ راست اس پتے سے حاصل کیا جا سکتا ہے : 2315 Hudson Lane Kingsway Camp, Delhi -110009 ۔ موبائیل نمبر ہے : 09350461394۔
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.