سلطنتِ بہمنی کی شعری روایات کا پاسدارشاعر ڈاکٹر وحید انجم
عزیز بلگامی
مسلم شریف کی ایک حدیث(١٩٤)ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:لا یومن احد کم حتی اکون احب الیہ من ولدہ و والدہ و الناس اجمعین۔”....تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا،جب تک کہ میری ذات اس کی نظر میں اس کی اولاد، اس کے والدین اور تمام جہاں کے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جائے....“نبی صلی اللہ علیہ و سلم کایہ بیان ایک ایسا بیان ہے جو ہر فردِ اُمّت کو اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنے ایمان کے حقیقی ہونے نہ ہونے کا جائزہ لینے پر آمادہ کر تا ہے ۔ایمان کو جانچنے کی یہ ایک ایسی کسوٹی ہے کہ جو مومن کو اس کے ایمان کے بارے میںکسی اور کی رائے کا انتظار کرنے نہیں دیتی بلکہ خود اُس کے اندرون سے یہ خبر نشر ہوتی ہے کہ اُس کے ایمان کی اصل حقیقت کیا ہے ۔ خصوصاً اُمت کے حساس طبقے جیسے شعراءاور قلمکار اپنے فروتر عمل کو خوب محسوس کرتے ہوئے اپنے قول کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح و ستائش سے مزیّن کرنا اپنی ذات اور اپنے قلم پر واجب کر لیتے ہیں۔غالباً یہی وجہ ہے کہ صدیوں پر صدیاں گزر رہی ہیں اور نعت کی تخلیق کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔پھر یہ کہ شعراءنعت کی حد بندیوں میں اپنی عقیدت کی پیاس بجھانے میں مبینہ طور پر خود کو ناکام محسوس کرنے لگتے ہیں تووہ اُن نفوسِ قدسیہ کی مدح سرائی میں مصروف ہو جاتے ہیں، جن کی عظمت بھی عظمتِ مصطفوی کی ہی رہین منت ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ کسی طرح وہ یہ ثابت کرنے کی دھن میں گرفتار رہتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ساری دنیا سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں، حتیٰ کہ اپنی اولاد اور اپنے والدین سے بھی زیادہ۔
فطرتاً انسان جب کسی کی عظمت کا قائل ہو جاتا ہے تو اپنی ذات سے دو رویوں کا لازماً اِظہار کرتا ہے۔اولاً،وہ اپنے ممدوح کے لیے اپنے سینے میں اُلفت و محبت کے جذبات کو پالنے لگتا ہے ، ثانیاً اِن جذبات کے اِظہار کے لیے نہ صرف بے چین ہو اُٹھتا ہے، بلکہ اِظہارکے وسیلوں کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔ شاعروں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ حمد، نعت، منقبت جیسی اصنافِ سخن اِن کا کام آسان کر دیتی ہیں اوروہ دل کھول کر اپنے ممدوح کی ستائش میں بہ شرطِ عقیدت اور بہ شرطِ ہنر مندی رطب اللسان ہو جاتے ہےں۔حمد میں وہ اپنے رب کی عظمت کے گن گاتے ہیں، نعت میں وہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنی عقیدت کے اِظہارکا موقع گنواتے نہیں اور منقبت میں وہ صحابہ کی قدر و منزلت کے نغمے لٹاتے ہیں، یہاں تک کہ فرطِ عقیدت کے سبب منقبت کی تخصیص کا دائرہ اِس قدر پھیل جاتا ہے کہ اِس کی حدود میں وہ پاک و مطہر ہستیاںبھی اپنا مقام بنا لیتی ہیں،جنہیں عرفِ عام میں”اولیاءاللہ“ کہا جاتا ہے۔خوش نصیب ہیں وہ شعراءجو کسی خارجی محرک کے بغیر محض اپنی عقیدت مندیوں کے داخلی داعیہ کی بنا پرمنقبتی حد بندیوں میںاِن نفوسِ قدسیہ کو شامل کرنے کا یہ کام بھی بڑی آسانی سے انجام دے جاتے ہیں۔اِس اعتبار سے میں ڈاکٹر وحید انجم صاحب کو ایک خوش نصیب فنکار سمجھتا ہوں کہ انہوں نے حمد ، نعت کے ساتھ ساتھ منقبت کو نہ صرف اپنے اظہار عقیدت کا ذریعہ بنایا بلکہ منقبت کے کینواس کو اِس قدر پھیلا دیا کہ اُن کی عقید تمندی ہر محاذ ِسخن پر فن کارانہ عظمتوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی بستی کے باسی، خصوصاً شعراءحضرات اِس شہر کی تقدس آفریں فضائوںسے خوب متمتع ہوتے رہے ہیں جس کا عکس عام طور پر شعرائے گلبرگہ کی تخلیقات میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ معتدبہ اولیاءاللہ کی شان میں کہی گئی ڈاکٹر وحید انجم صاحب کی متعدد منقبتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیںکہ شہر گلبرگہ نفسیاتی سطح پر اصلاً ایسے شہریوں کا شہر ہے جن کی سرشت ہی میں اپنے اسلاف سے عقیدت مندی داخل ہے ، جس کے اظہار کا کوئی موقع فنکارانِ گلبرگہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، جو ظاہر ہے بڑی سعادت کی بات ہے۔میں نے اِسی نفسیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے محترم ڈاکٹر وحید انجم صاحب سے دوردرشن پر گزشتہ سال ایک انٹرویو میں اُن سے دریافت کیا تھا کہ کیا سبب ہے کہ گلبرگہ کی ادبی فضائیںکبھی آلودہ ¿ بے رہ روی نہیں ہوئیں، تو انہوں نے جواباً تفصیل سے ہمیں ادب کی گلبرگوی فضائوں کے اجزائے ترکیبی میں شامل ان ہی عقیدت مندیوں کا حوالہ دیا تھا، جس کا ذکر اوپر آیا ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ انہوں نے اپنی نعتوں اور مناقب کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اُن کی اِن پاکیزہ نظموں کے ایک ایک لفظ کو پڑھا ہے اور میرا احساس ہے کہ عقیدت میں ڈوب کر لکھی گئی اُن کی تخلیقات اثرآفرینی کے اعتبار سے بہت کامیاب جائیں گی۔جیسا کہ محترمہ رخسانہ جبین صاحبہ لاہوری نے ڈاکٹر صاحب کے بارے میں خبر دی ہے :”....آپ کی زندگی ایک صاف ستھری اور پا کیزہ زندگی ہے ۔ آپ کی شرا فت ِ نفسی کا ہر فرد قا ئل ہے ۔ آپ نے کبھی کسی کی دل شکنی نہیں کی۔ زندگی کے کئی ایسے وا قعا ت آپ کی اعلیٰ صفات کے مظہر ہیں ....“ظاہر ہے کہ ایسی اعلیٰ صفات کا حامل فنکار اپنی فکر و فن کی معنی آفرینیوں سے ضمیروں کو چبھن بخشنے میں ضرور کامیاب ہوگا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ شعری ضرورتوں کا لحاظ کرتے ہوئے مناقبِ اولیاءبیان کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔اولیا ءکے مخصوص ناموں اور القابات کی وجہ سے کسی ہیئت شعری میں اوزان کو سلامتی کے ساتھ بچا لے جانا بڑے جوکھم کا کام تھا جسے ڈاکٹر صاحب نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے، تاہم کہیں کہیں قابلِ معافی خطا ضرورسرزدہوئی ہے، جس کا اندازہ یقیناصاحب کتاب کو بھی ہو گا۔ لیکن جیسا کہ کہا گیا ، شعری ضرورت کے تحت اِس کے امکانات بہر حال تھے،جن میں تھوڑی سی محنت کے ذریعہ درستگی کے امکانات اب بھی باقی ہیں۔
بہر کیف نعتوں اور مناقب پر مشتمل ڈاکٹر وحید انجم صاحب کا مجموعہ اُن شعراءکو بھی اِس نو ع کے مجموعے شائع کرنے پر ضرور آمادہ کرے گا، جو ابھی تک اِس جانب متوجہ نہیں ہوئے ہیںاور جو ایک آدھ مجموعہ ¿ غزلیات کی اشاعت کے بعد خاموش سے ہو گیے ہیں۔ کیا عجب کہ اِس طرح فکری بے رہ رویوں میں ملوث ہونے والے روبہ آزادی اردو ادب کو دینی قدروں کی گرفت میں رکھنے کا کسی درجے میں موقع ڈاکٹرصاحب کی اِس کاوش”ابرِ رحمت“ کی بدولت ضرور مل جائے ۔
خدا کرے کہ ملت کے اِس وفا شعار شاعرکے فن کی طرح اُس کی عمر میں بھی برکت ہو۔آمین۔
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.