اتر پردیش میں اردو زبان کی موجودہ صورت حال کا اجمالی جائزہ
ڈاکٹر ریاض الہاشم
اردو زبان ہندوستان میں پیدا ہوئی اور یہیں پر ترقی کے منازل کو طے کیا ۔یہ واحد ایسی زبان ہے جو سب سے زیادہ اس ملک میں بولی جا تی ہے اور جہاں پورے طور سے نہیں بولی جا تی لیکن اس کے الفاظ بگڑی ہوئی شکل میں استعمال ہوتے ہیں جب ان بگڑے ہوئے الفاظ کا ماخذ تلاش کرتے ہیں تو وہ اردو زبان میں ملتے ہیں ۔اتر پردیش ہندوستان کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں اردو زبان اور اس کے الفاظ کثرت سے بولے جاتے ہیں ۔ اتر پردیش کے رام پور ،مراداباد ، سرسی،سنبھل،امروہہ،بجنور،مظفر نگر، لکھنوئ، مئو، فیض آباد ، جون پور، الہ آباد ،سیتا پور،سلطان پور ،اعظم گڈھ وغیرہ اردو کے اہم مراکز ہیں۔جہاں اردو زبان اپنی اصلی شکل میں یا بگڑے ہوئے الفاظ میں بولی جاتی ہے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اردو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ کیوں نہیں مل سکا اتر پردیش میں نیتا جی ملائم سنگھ یادو نے اپنے دور حکو مت میں پرائمری اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کرکے اردو زبان کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا ۔لیکن اس تقرری سے اردو زبان کو کوئی فائدہ ہوا پرائمری اسکولوں میں پڑھائی جانے والی اس زبان نے اردو کو کتنا فائدہ پہونچایا اس کا صحیح طور پر اندازہ لگا یا جائے تو اس تقرری سے اردو زبان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اگر فائدہ ہوا ہوتا تو آج اردو سرکاری زبان ہو سکتی تھی اس کا سبب یہ بھی ہے کہ ریاستی حکومتوں نے مرکزی حکومت یا پارلیمنٹ میں اردوزبان کو سرکاری زبان کے لئے آوازنہیں اٹھا ئی اردو کی زبوں حالی کی جہاں یہ حکو متیں قصور وار ہیں اس سے زیادہ وہ اردو اساتذہ قصور وار ہیں جو اس کی روٹی کھا تے ہیں صرف اور صرف اردو سے وہ اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔اردو کے لئے انہوں نے کبھی مطالبہ نہیں کیا ان اساتذہ میں ٠٩ فیصد ایسے استا تذہ ہیں جو صرف بلڈنگ فنڈ اور دوسرے فنڈ کی فکر میں لگے رہتے ہیں ٠١ فیصد ایسے ہیں جو طلباءکو اچھی طرح تعلیم دیتے ہیں اتر پردیش میں ہزاروں کی تعداد میں اردو اساتذہ ہیں جو سرکاری پرائمری اسکولوں میں بحیثیت اردو استاد تقر ر ہیں یہ حضرات نہ تو اردو کا کوئی اخبا رخریدتے ہیں اور نہ ہی اترپردیش گورنمنٹ کے تعاون سے شائع ہو نے والا ماہانہ رسالہ خرید تے ہیں بیشتر اسا تذہ صرف حاضری دینے جا تے ہیں اور اسکول کے آس پاس کے ہوٹلوں میں ہوٹل بازی کرتے ہیں اگر کوئی اجنبی دیکھا ئی دیتا ہے تو فوراا سکول میں پہونچ جا تے ہیں ۔
دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ریاستی حکومتوں نے پرائمری اسکولوں میں تقرری کے لئے سخاوت کا مظاہرہ کیا اور ہائر ایجو کیشن کی تقرری میں کنجوسی کی ۔ اسکی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی صحیح معنوں میں اگر ہائر ایجوکیشن کی طرف توجہ دی جا تی تو اردو کا مستقبل کچھ اور ہی ہوتا اور اردو زبان جو آج تک زندہ ہے وہ عربی مدارس اور مکاتب کی دین ہے کیونکہ ان مدارس اور مکا تب میں جس معیار کی زبان پڑھا ئی جا تی ہے وہ ان پرائمری ٹیچروں کی سمجھ سے باہر ہے مرکزی حکومت نے اردو زبان وادب کے لئے بہت ساری اسکیمیں قائم کیں ۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے اردو زبان کو جدید تکنک سے جوڑنے کے لئے کا فی کوشش کی اور موبائل پر اردو زبان میں ترسیل وابلاغ کی راہ ہموار کردی کمپیوٹر وغیرہ کی تعلیم تو دی جا تی ہے ۔اتر پردیش میں اس طرح کا ادارہ صرف اردو اکیڈمی ہے اور کوئی ادارہ نظر نہیں آتا ۔ لیکن اردو اکیڈمی کی صورت حال نا گفتہ بہ ہیں اسکی برانچ ہر ضلع میں ہونی چاہیئے لیکن پورے صوبہ میں کم از کم آٹھ دس برانچ ہو نی چاہیئے۔ یوپی گورنمنٹ کو چاہیئے ہائر ایجوکیشن میں اردو اساتذہ کی تقرری کے لئے ٹھوس قدم اٹھا ئے اور جن دانشگاہوں میں اردو کے شعبہ نہیں ہیں وہاں اردو کے شعبہ قائم کرے اور جن یونیورسیٹیوں میں اردو اساتذہ کی جگہیں خالی ہیں ان جگہوں کو پر کرے امید قوی ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب اکھیلیش ےادو اپنی تازہ و روشن فکر اور نئی حکمت عملی سے اس کے لئے مضبوط قدم اٹھا ئیں گے اور نیتا جی ملائم سنگھ یادو قدیم روایت پر عمل کرتے ہوئے (جس طرح وہ ماضی میں اردو کی تقرری کر کے اردو زبان کواحیا کیا تھا )ہندوستان کی نو آئین مودی سرکار سے اس کا مطالبہ کریںگے کہ اردو کو بھارت کی سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے ساتھ ہی ساتھ پی۔ ایچ۔ ڈی ۔اور نیٹ پاس بے روزگار طا لب علموں کو روزگار دے کر بے روزگاری کو دور کریں گے (مژگان نیوز نیٹ)
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.