رابندر ناتھ ٹیگور کی ”میری یادیں“اوراردو مترجم ۔۔۔فہیم انور
10.10.2014, 8.10PM
(مژگاں نیوز نیٹ)
فہیم انور نے رابندر ناتھٹیگور کی خودنوشت سوانح ”جیون شریتی “کا بنگلہ سے براہ ِ راست اردو میں ترجمہ کیا ہے۔فرانسیسی ریمارک کے مطابق Translation is a woman either faithful or beautiful ترجمہ کبھی من و عن ویسا ہی ہوگا جیسا لکھا گیا ہے اور کبھی مفہوم کا ترجمہ بھی ہوگاجسے ہم لوگ فری ٹرانس لیشن Free Translationکہتے ہیںجو ترجمہ Beautiful ہوگا اس میں کھردرا پن نہیں ہوگااور ترجمہ جو Faithful ہوگا اس میں کھردرا پن[Crudness] ضرور ہوگا۔اس میں ادبی چاشنی اور صنعت گری نہ ہوگی۔سچا مترجم وہی ہے جو مصنف کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کردے ۔ ہر زبان کی اپنی الگ ایک تہذیب ہوا کرتی ہے۔جو بات بنگلہ زبان میں ہے من و عن اسے اردو میں منتقل کرنا مشکل ہے۔چونکہ اردو کی ثقافت الگ ہے اور بنگلہ کی ثقافت جدا ہے،اردو کی تہذیب الگ ہے بنگلہ کی تہذیب جدا ہے دونوں میں ثقافتی مماثلت نہیں ہو سکتی۔
ترجمہ اس لئے ہوتا ہے کہ جو لوگ اس زبان سے واقف نہیں ہیںان کے لئے اطلاقعات فراہم ہوں۔اب وہ کوئی بھی زبان ہوسکتی ہے اس میں Ornamental زبان تلاش کرنا بھول ہے اگر زبان پُر شوکت ہوگی تو ترجمہ کا خون بھی ہوگا۔
ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ فہیم انور کا ترجمہ پڑھنے کے دوران کہیں رکاوٹ نہیں ملتی،ان کی زبان سلیس ہے۔ایک زبان سے جب دوسری زبان میں ترجمہ ہوتا ہے تو زبان کی چاشنی ختم ہو جاتی ہے۔
The essence of the language is killed فہیم انور کو اطلاعات فراہم کرنی تھی سو انہوں نے کر دیا ہے،بنگلہ زبان کی چاشنی الگ ہے اور اردو کی الگ۔ There is far difference between Language and language
کوئی اگررابندر ناتھ کے تعلق سے کچھ جاننا چاہے تو یہ کتاب مفید ہے۔ان کا بچپن ،تعلیم ،گھریلو ماحول ،گھر میں قید و بند کی زندگی،نوکروں کی حکمرانی بچوں پر،ان کی شاعری،ان کی مصوری،ان کی ڈرامہ نگاری ساری چیزوں کا ذکر بطرزِ احسن کیا ہے اور ”عرضِ مترجم “کے عنوان سے یہ لکھا ہے کہ ٹیگور کی جملہ تخلیقات کی تفہیم کے لئے یہ کتاب کلید کا درجہ رکھتی ہے۔جو کچھ ٹیگور نے بنگلہ میں لکھا ہے اسی کا ترجمہ فہیم انور نے اردو میں کیا ہے۔کہیں ترمیم و تنسیخ نہیں ہے،ترجمہ ایسا ہے کہ رابندر ناتھ ہی نظر آتے ہیں اور فہیم انور کہیں نظر نہیں آتے۔اگر فہیم انور نظر آتے تو ٹیگور کی موت ہو جاتی۔اور ایک بات ہے:
کچھ لوگ ڈرامہ کی طرح ترجمہ کے اصول مرتب کر رہے ہیں،ترجمہ کے لئے کوئی اصول ہو نہیں سکتایہ مشق کی چیز ہے جو جس قدر مشق کرے گااسے اسی قدر ترجمہ میں کامیابی ملے گی۔جو لوگ اصول مرتب کر رہے ہیں وہ خبطی ہیں۔
انگریزی میں پریسی [Precise]کی طرح تراجم کے اصول ہرگز مرتب نہیں کئے جا سکتےکسی انگریزی میں لکھے ہوئے اقتباس یا پیرا گراف کا پریسی ہوتا ہے اور اس کے لئے کئی اصول ہیں جو تراجم کے لئے مختص نہیں کئے جا سکتے اور پھر انگریزی زبان میں لکھے ہوئے پیرا گراف کی انگریزی ہی میں پریسی ہوتی ہے۔
(فی الحال اس کا موقع نہیں ہے کہ پریسی کے بارے میں کچھ لکھا جائے)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاعری سیکھنے کی چیز ہے شاعری سیکھنے کی چیز ہر گز نہیں ہے نہ عروض و بحور کی محتاج ہے: جگر کے خون سے ہوتی ہے شاعری ساغر
فقط عروض سے ہی شاعری نہیں ہوتی(ساغر)
جو لوگ عروضی ہیں اور اتفاق سے شاعر ہیں تو ان کی شاعری بیکار محض ہے۔جو عروضی نہیں ہیں دراصل وہی شاعر ہیںاور خالص شاعر۔عروضی کے اشعار نہایت بد مزہ ہوتے ہیں۔خلیل احمد،مولوی اخلاق احمد،عشرت لکھنوی،رازی اور کئی دوسرے عروضی کبھی شاعر نہیں ہوئے۔اگر کبھی شعر کہا بھی تو بد مزہ۔اوزان و بحور قوافی ردیف کے برتنے سے کوئی شاعر نہیں ہو جاتااگر ایسا ہوتا تو سارے عروضی شاعر بھی ہوتے۔
سر فلپ سڈنی کا کہنا ہے:
It is not the meter which maketh a poet اس بات کا اطلاق ہر صنف شاعری پر ہوتا ہے۔
ترجمہ سیکھنے کی چیز کسی دور میں نہیں رہا ہے اور نہ آج ہے ترجمہ کے لئے صرف مشق کی ضرورت ہے۔زبان کی چاشنی بہر حال ترجمہ میں ختم ہو جاتی ہے۔ غالب ،میر،حافظ،سعدی اور خیام کی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ ہوا ہے مگر جو بات اردو اور فارسی کے اشعار میں ہے وہ ترجمہ میں نہیں ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کی Biographyمیں کہیں کہیں ہیرو ورشپ Hero-Worshipہے جو ٹیگور کی خود نوشت کو داغدار کرتی ہے۔اس سے ان کو بچنا چاہئیے تھا۔کہیں کہیں سچی بات بھی لکھی گئی ہے اور کہیں کہیں جھوٹ بھی ہے۔اسی لئے جارج برناڈ شا نے کہا ہے: All biographies are lies مگر پنڈت جواہر لال نہرو،موہن داس کرم چند گاندھی اور منشی پریم چند کی خود نوشت کی بات الگ ہے۔
پنڈت نہرو نے لکھا ہے کہ ان کے خاندان کو متمول خاندان کہا گیا ہے مگر یہ بات غلط ہے۔ان کے خاندان میں پیسہ وغیرہ نہ تھا ۔فرخ سیر نے نہرو کے اجداد کو الہ آباد میں نہر کے کنارے ایک جاگیر دی تھی۔اس لئے ان کے خاندان کا نام نہرو ہوا۔یہ بات کس قدر اچھی ہے۔ گاندھی جی نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے مجھے بیڑی پینے کی عادت تھیپاس میں پیسے نہ ہوتے تھے۔راستے میں جو لوگ بیڑی پی کر پھینک دیا کرتے تھے انہیں چن چن کر میں پیا کرتا تھا۔کس قدر سچی بات ہے۔
پریم چند نے اپنی خود نوشت میں سچّی بات لکھی ہے۔”والد بیس روپیہ پاتے تھے،چالیس روپیہ تک پہنچتے پہنچتے ان کا انتقال ہوگیا“ایک جگہ لکھتے ہیں ”پائوں میں جوتے نہ تھے ،بدن پر ثابت کپڑے نہ تھے ،ہیڈ ماسٹر صاحب نے فیس معاف کر دی تھی“۔یہ سب سچّائیاں ہیں جو پریم چند نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے اور ایسی ہی خود نوشت خود نوشت ہوتی ہے۔
رابندر ناتھ ٹیگور کے یہاں Snoberyبھی ملتی ہے۔یہ ساری چیزیں ان کی خود نوشت کو داغداقر کرتی ہیںلیکن اس میں فہیم انور کا کیا قصور ؟جو انہوں نے لکھا فہیم انور نے وہی لکھا۔
الغرض پنڈت نہرو ،گاندھی جی،پریم چندنے جو سوانح لکھی ہے وہ ٹیگور کے مقابلے اچھی ہیں۔ٹیگور برژوا ماحول کے پروردہ تھے اس لئے انہوں نے ویسا ہی لکھا ہے۔
بہر نوع !فہیم انور صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ٹیگور کی سوانح حیات کا خوبصورت لفظی ترجمہ کیا ہے۔ (مژگاں نیوز نیٹ)

 
 
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.