حضرت امیر خسروؒ کی ہندی شاعری اور بچوں کا اد
محمد رضافراز
حضرت امیر خسروؒ کی ہندی شاعری اور بچوں کا ادب
محمد رضافراز
ریسرچ اسکالر:شعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی
mdrazafaraz@gmail.com
9650873329
حضرت امیر خسروہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کے بنیاد گزاروں میں ہیں جنھوں نے قومی ہم آہنگی،رواداری اور باہمی اخوت ومروت کو فروغ دیا بلکہ اس کی جڑیں اتنی مستحکم کردی کہ آج تک ہمارا ملک پوری دنیامیں’کثرت میں وحدت ‘کے لیے مشہور ہے۔حضرت امیر خسروکے والدمحترم ترکی النسل ضرور تھے لیکن ان کی والدہ ہندی النسل تھیں چونکہ ۸؍سال کی عمر میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیاتھا،اس لیے ان کی سرپرستی ان کے ناناعمادالملک کی نگرانی اور سرپرستی میں ہوئی جو دربار میں بہت زیادہ رسوخ رکھتے تھے۔اس لیے یہ کہاجاسکتاہے ان کی پرورش خالص ہندوستان کے تہذیبی تناظر میں ہوئی اور ان کی مادری زبان بھی ہندوستانی زبان تھی۔
حضرت امیر خسرو 1252ء میں اترپردیش کے ضلع ایٹہ میں ایک مشہور قصبہ پٹیالی میں پیداہوئے،یہ پوراعلاقہ ان کے والد کو جاگیر میں ملاتھا۔بچپن سے ہی نہایت ذہین اور پرشکوہ طبیعت کے مالک تھے۔اپنی عمر کے چوتھے سال سے ہی شعر گوئی کی ابتداء کردی،صغر سنی میں والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے نانا کے پاس دہلی چلے آئے اوریہیں ان کی پرورش وپرداخت ہوئی۔20؍سال کی عمر میں جب ان کے نانا کا انتقال ہوا تو وہ بھی دربار سے وابستہ ہوگئے اور اپنی خداداد صلاحیت اور خلاق طبیعت کی وجہ سے بہت جلد بادشاہ،امراء اور اہل علم کے درمیان اپنا مقام بنالیا۔امیر خسرو اپنے دورکے عظیم فن کار،تخلیق کار،عالم متبحر،خوش الحان مطرب،موسیقی داں اور ماہر لسانیات تھے۔اس وقت کے اہل علم کے درمیان امتیازی مقام رکھتے تھے۔اپنی علمی بلندمرتبت اور قوت تخلیق کی جوہرپاشی کی وجہ سے وہ دربار میں ہمیشہ بادشاہوں اورامراء کے ندیم خاص رہے۔ میں نے اپنے اس مضمون میں امیر خسرو کی ہندی شاعری اور بچوں کے ادب کو ہی موضوع بنایاہے۔خسرو نے جس دور میں ہندوستانی زبان کا استعمال شروع کیاتھا،اس سے پہلے ایک اور بزرگ خواجہ مسعود سعد سلیمان نے ہندی آمیز فارسی نظمیں کہی تھیں ،حالانکہ ان کی نظموں کا تاریخ میں کوئی پتہ نہیں ہے تاہم ان کے نظموں کی وجہ سے لوگوں میں اس طرح کی شاعری مانوس ہوگئی تھی اور عوام ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہوچکی تھی ،اس لیے حضرت خسرو نے اس کو عوامی سطح پر فروغ دیا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ خسرو کا ہندی کا بہت زیادہ کلام ضائع ہوگیااور اسی شبہے میں اردو کے ادیب ونقادنے حضرت خسرو سے منسوب بہت سے کلام کو لاحقہ قرار دیاہے ،خاص طور سے خالق باری جس میں دوہے،دوسختے،کہہ مکرنیاں اور گیت وغیرہ لکھی گئی ہیں،قاضی عبدالودود نے ماننے سے انکار کیاہے۔لیکن مولوی امین چریاکوٹی نے اس کے امیر خسرو کے کلام ہونے پر بہت معرکۃ الاراء دلائل پیش کیے۔اگر ہم ان اختلافات کوکچھ حد تک مان بھی لیں تب بھی اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ حضرت خسروکی شاعری اتنی مقبول ہوئی کہ اس زمانے کے شعراء حضرات خسرو کے رنگ تغزل وشعر کو اپنانا شروع کردیا،اپنے کلام کو حضرت خسرو سے موسوم کرنے لگے ۔حضرت امیر خسرونے خالق باری کو اپنے پڑوس میں رہنے والی ایک ایک بھٹیارن کے اصرار پر ان کے بیٹے کے لیے لکھاتھا۔ اس دور میں بچوں کے لیے جس طرح کی زبان کا استعمال کیا،بچوں کے مبلغ ذہن،ان کی نفسیات اور جبلت کا خیال رکھا۔وہ بالکل نیاتھا۔اس دور میں ان کے نزدیک کوئی نمونہ کلام بھی موجود نہیں تھا۔انھوں نے بچوں کے لیے دوہے ،پہیلیاں،کہہ مکرنیاں اور دوسخنے لکھے۔لڑکیوں اور خواتین کے لیے ہر موسم اور ہر خوشی کے موقع کے گیت بھی لکھے۔حضرت خسرو کا کلام اس دور کی عورتوں کے درمیان اتنا مقبول تھاکہ کام کرتے ہوئے،کھیلتے ہوئے اورفرصت کے لمحات میں گروپ کی شکل میں گاتی تھیں ۔ایک بار وہ کسی کنوئیں کے پاس سے گزر رہے تھے،انھیں بہت تیز پیاس لگی تھی،چند پنہاریاں کنوئیں پر پانی بھر رہی تھیں،حضرت خسرو کو پیاس کی شدت ہوئی،وہ کنوئیں کے پاس گئے اور ان سے پانی پلانے کے لیے کہا۔ان میں ایک عورت نے حضرت خسرو کو پہنچان لیا اور اپنی سہیلیوں کو بتایاکہ یہ خسرو ہیں۔اب عورتیں ضد کرنے لگیں کہ کہ کوئی ایسی گیت سنائے جس میں چرخہ،کھیر اور ڈھول کا آجائے۔حضرت امیر خسرو نے بروقت کہا۔
کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا آیا کتا کھا گیاتو بیٹھی ڈھول بجا لا پانی پلا
حضرت امیر خسرنے وسلطان ناصرالدین محمودکے دورحکومت میں ہوش سنبھالااور تقریبا 8؍بادشاہوں کا زمانہ دیکھا۔سلطان ناصرالدین محمود،محمد غیاث الدین بلبن،معزالدین کیقباد،جلال الدین فیروز خلجی،محمد علاء الدین خلجی،مبارک شاہ قطب الدین خلجی،غیاث الدین تغلق اور محمد بن تغلق ۔اول الذکر بادشاہ کے دور میں آپ بہت چھوٹے تھے لیکن باقی سات موخر الذکرتمام بادشاہوں نے حضرت امیر خسروکو سرآنکھوں پر بٹھایااور ان کے علم وفن کی تعریف کی۔خسرو نے پورے ہندوستان میں بادشاہوں اور امراء کے ساتھ سفر کیا۔یہاں کی لسانی،تہذیبی اور جغرافیائی صورت حال کا ملاحظہ کیاجس کے اثرات نے ان کی شاعری کے حسن کو مزید دوبالاکردیا۔وہ جہاں جاتے اپنی شاعری اور نغمہ پروری سے صرف بادشاہوں کو ہی نہیں بلکہ عوام الناس کو بھی محظوظ کرتے رہے۔وہ علم وفن کے اعلیٰ مقام پر فائزتھے۔اس دور میں برج بھاشا اور کھڑی بولی کی آمیزش سے ایک زبان جسے ہم آج اردو زبان کہتے ہیں،تیار ہورہی تھی ،امیر خسرو نے فارسی کے ساتھ ساتھ اس زبان میں بھی اپنی شاعری کو لوگوں تک پہنچایا۔ان کی یہی ہندی یا ہندوی شاعری نے بعد میں اردو زبان کے فروغ میں نمایاں کردار اداکیا۔صوفیوں اور واعظین نے اس زبان میں اپنے ملفوظات کہے اور لکھے،خانقاہوں میں یہی زبان ورد مشائخ بھی رہی۔امیر خسرو کا ہندوی اور فارسی آمیز یہ شعر دیکھیے۔
زحال مسکیں مکن تغافل درائے نیناں بنائے بتیاں کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں،نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
یکایک ازدل دوچشم جادو،بصد قریبم ببرد تسکیں کسے پڑی ہے جو جاسناوے پیارے پی ہماری بتیاں
وہ گئے بالم وہ گئے ندیوکنار آپ پار اتر گئے ہم تو رہے اردار
میرا جو من تم نے لیاتم نے اٹھاغم کوں دیا تم نے مجھ ایسا کیاجیسا پتنگا آگ پر
حضرت خسرو کے ان اشعار سے اس بات کا اندازہ ہوتاہے کہ عوامی سطح پر بولی جانے والی زبان عام طور پر سے لوگوں کے درمیان زیر استعمال تھیں۔اہل علم وادب اور امراء اس زبان میں اپنی شاعری اور تخلیقات کو معیوب سمجھتے تھے،لیکن امیر خسرو نے اس عوامی زبان میں بھی اپنی شاعری کی ۔حالانکہ امیر خسرو کی فارسی شاعری ہندوی شاعری سے بہت اعلیٰ،دلچسپ،علمی اورمعرکۃ الآراہے اور فارسی دنیامیں ان کا کلام بہت مشہور ہے۔لیکن ہندوی شاعری پر انھوں نے بہت کم توجہ دی ،اس کے باوجود انھیں بہت مقبولیت ملی،حضرت خسروکی خود نوشت سوانح کے مطابق انھوں نے ہندوی میں جو کچھ بھی لکھا،اس کو دوستوں ے درمیان تقسیم کردیا۔اس طرح عوامی سطح پر ان کی شاعری ہمہ جہت اور مقبول عام ہوگئی۔
حضرت امیر خسرو کھڑی بولی اور برج بھاشا جو اس زمانے میں ہندوی کے طور پر مشہور تھی،اس زبان میں بہت زیادہ شعر کہے ہیں۔حضرت خسرو کی حیات میں ہی ان کی ہندی شاعری کو اتنی مقبولیت مل گئی تھی کہ پورے ملک میں لوگوں کی زبانوں پر ان کے اشعار گنگنانے لگے تھے۔
خسرو کی پہیلیاں بھی بہت مقبول ہوئی ہیں۔بچوں کے لیے انھوں نے پہلیوں کا موضوع نہایت عام فہم اور روز مرہ کے استعمال میں آنے والی چیزوں کو بنایاہے تاکہ بچے معمولی غور وفکر کے بعد اس سمجھ سکیں اور اس میں دلچسپی بھی پیداہو۔
ایک تھا موتیوں بھرا سب کے سر پر اوندھا دھرا
چاروں اوروہ تھال پھرے موتی اس سے ایک نہ گرے
اس کا جواب ’آسمان ‘ہے۔خسرو نے آسمان کو تھال اور ستاروں کو موتیوں سے تعبیر کیاہے۔بچوں کو جب یہ بتایاجائے کہ موتیوں سے بھرا تھال اوندھا ہونے کے باوجود اس سے ایک بھی موتی نہ گرے تو بچہ کے لیے یہ بہت دلچسپی کا باعث بن جاتاہے۔
ایک انوکھاگرہ بنایا اوپر نہیں نیچے گھر چھایا بانس نہ بلی،بندھن گھنے کہو خسرو گھر کیسے بنے
اس کا جواب ’گھونسلا ‘ہے۔حضرت خسرو نے بچوں کی نفسیات کے اعتبار سے الفاظ کی ترتیب اور تشکیل کی ہے۔بچے کو نہیں معلوم ہوتاکہ پرندے اپنا گھونسلا کیسے بناتے ہیں۔اس لیے انھوں نے اس پہیلی کے ذریعے نہ صرف بچوں کی دماغی ورزش کرائی ہے بلکہ بچے کو یہ بھی بتادیاہے کہ گھونسلا مختلف باریک چیزوں کا ایک گرہ ہوتاہے۔گھونسلا بنانے کے لیے بانس،بلی،اور بندھن وغیرہ کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ بہت آسانی کے ساتھ درخت کی شاخوں اور تنوں میں یہ پرندے اپنا گھونسلہ بنالیتے ہیں۔ اسی طرح خربوزہ کی پہیلی بھی دیکھیے:
دس ناری کا ایک ہی نر بستی باہر وا کا گھر
پیٹھ سخت اور پیٹ نرم ف منہ میٹھا تاثیر گرم
اس پہیلی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں جہاں خربوزہ کی ساخت اور کاشت کے بارے میں بتایاگیاہے وہیں حضرت خسرو نے اس کی طبی فوائد ونقصانات کو بھی اجاگر کردیاہے۔چونکہ عام طور پر ہم رطب چیزوں کو ٹھنڈا سمجھ لیتے ہیں،حالانکہ ایسانہیں ہے۔اس لیے خسرو نے پہلے ہی اس کی تاثیر بیان کردی ۔یہی وجہ ہے کہ آج ہر بچہ جانتا ہے کہ خربوزہ کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔
ایک کہانی میں کہوں سن لے میرے پوت
بن پنکھوں وہ اڑ گیاباندھ گلے میں سوت
اس کا جواب ’پتنگ ‘ہے۔حضرت خسرو کی زبان اتنی سادہ،سلیس اور شستہ ہے کہ ہر بہ بآسانی اس کو اداکرسکتاہے اور سمجھ سکتاہے۔ موسم بہار میں لڑکیاں بہت تفریح کرتی ہیں،درختوں پر ،کھیتوں میں اور ندیوں کے کنارے خوب کھیلتی اورانجوائے کرتی ہیں۔ہندوستانی تہذیب وثقافت میں شادی کے بعد لڑکیاں سسرال کی ریت رواج کی پابندہوجاتی ہیں ،اس لیے وہ سسرال میں کھل کر نہیں کھیل سکتی تو اپنی ماں کو بلاوا بھیجتی ہے۔حضرت خسرو نے اس گیت کو کس انوکھے اور دل پذیر انداز میں پیش کیاہے۔
امامیرے بابا کو بھیجو جی ۔۔۔۔کہ ساون آیا
بیٹی ترا بابا تو بوڑھا ری۔۔۔۔کہ ساون آیا
یعنی تیرے بابا تو اب بوڑھے ہوگئے ،تجھے کیسے لینے کے لیے جائیں گے۔
امامیرے بھیا کو بھیجو جی ۔۔۔کہ ساون آیا
بیٹھی تیرا بھیا تو بالاری ۔۔۔۔کہ ساون آیا
یعنی وہ بہت چھوٹا ہے ،وہ تمھارے یہاں کیسے جاسکتاہے۔
اماں مرے ماموں کو بھیجو جی ۔۔۔کہ ساون آیا
بیٹی ترا ماموں تو بانکاری۔۔۔۔کہ ساون آیا
یعنی ماموں تمھاراگھر نہیں دیکھے ہیں،وہ کیسے جاسکتے ہیں۔۔
ساون کے مہینے میں ندیوں کے کنارے اور درختوں کے سائے میں بچیاں اور لڑکیاں جھولے ڈال کر یہ گیت خوب لہک لہک کر گاتی تھیں اور اپنی سہلیوں کے ساتھ کھیلتی تھیں۔ اب ناؤ پر خسرو کی یہ دلچسپ پہیلی بھی ملاحظہ کیجیے۔
جل جل چلتا بستا گاؤں
بستی میں تاراکا ٹھاؤں
خسرو نے دیا واکا ناؤں
بوجھ ارتھ نہیں چھوڑوگاؤں
حضرت امیر خسرو کہہ مکرنیوں کے بھی موجد کہے جاتے ہیں۔آم پر ان کا یہ شعر دیکھیے۔
برسا برس وہ دیس میں آوے
کرے سنگار تب چوما پاوے
من بگڑے نت راکھت مان
اے سکھی ساجن نا سکھی آم
’ساجن‘اور ’آم‘کی آمد کو محبوب کی آمد سے تشبیہ دی ہے ،پھر اچانک ساجن کی نفی کرکے آم کا اثبات کیاہے۔
اسی طرح دوسخنے بھی حضرت امیر خسرو کی جانب منسوب ہے اور اس کی بھی زبان کے فروغ میں خاص طور سے بچوں کے بے حد اہمیت ہے۔
گوشت کیوں نہ کھایا،ڈوم کیوں نہ گایا۔۔۔۔گلانہ تھا۔
ظاہر سی بات ہے کہ گوشت وہی انسان کھا سکتاہے جس کا گلایعنی گردن ہو،اور وہی انسان گانا گاسکتاہے جس کا گلا ہواور جس کی آواز بھی سریلی ہو۔اسی طرح یہ بھی دیکھیے۔
جوتا کیوں نہ پہنا، سنبوسہ کیوں نہ کھایا۔۔۔۔تلا نہ تھا۔
جوتے کا تلا ہوگا تبھی وہ لائق استعمال ہوسکتاہے اور اسی طرح جب تک سموسہ تلا نہ ہو ،اس کو کھایابھی نہیں جاسکتا۔اس لیے لفظ’تلانہ تھا‘دونوں کا جواب بن گیا۔
حضرت امیر خسرو کی پہیلیوں اور گیتوں نے ہندوستان میں اردو زبان کی موجودہ ترقی کا راستہ ہموار کیااور بادشاہوں وامراء کو ہندوستانی عوام سے قریب تر کردیا۔کیوں کہ دربار کی زبان فارسی تھی اور یہاں عوامی سطح پرزیادہ تر کھڑی اور برج بولی جاتی تھی جس کی وجہ سے عوام الناس کے مسائل عام طور سے بہت جلد دربار تک نہیں پہنچ پاتے تھے۔حضرت امیر خسرو نے اس کھائی کو پاٹ دیا۔امیر خسرو نے اس زبان کو اس پیرائے میں پیش کیاکہ درباری حضرات بھی اس زبان میں دلچسپی لینے لگے۔۔انھوں نے ایرانی موسیقی کے ذریعے ہندوستان کی پژمردہ موسیقی میں روح پھونکی،اس عوامی لچسپیوں کے ذریعے انھوں نے ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کی جڑوں کو بہت مضبوط کیا جس کا اثر آج تک دیکھنے کو ملتاہے۔وہ ایک متبحر صوفی عالم تھے ۔حضرت خسرو کو محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید خاص تھے۔ان کے لیے صوفیانہ کلام لکھتے تھے،اور بارگاہ میں ان کو پڑھ کر سناتے تھے۔خواجہ نظام الدین اولیاء بھی حضرت امیر خسرو سے بہت پیار کرتے تھے۔امیر خسروآخری بار جب غیاث الدین تغلق کے ساتھ اودھ کے مہم پر گئے ،تو اندرونی طور پر انھیں بے حد بے چینی تھی،بادل ناخواستہ چلے تو گئے لیکن اوھ میں ان کا دل بالکل نہیں لگا،اندرونی اضطرابی کیفیت کی وجہ سے وہ مہم کے دوران ہی دہلی کے لیے کوچ کرگئے۔دہلی واپسی پر جب انھیں حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے وصال پرملال کی خبر ملی تو بے ساختہ دھاڑے مار مار کر رونے لگے اور مزار سے لپٹ کر یہ شعر کہا۔
گوری سوئے سیج پر مکھ پر ڈاروکیس
چل خسرو گھر اپنے سانجھ بھئی چودیس
حضرت خواجہ کے انتقال کے صرف 6؍مہینہ بعد ہی 27؍ستمبر1325ء کو حضرت امیر خسرو بھی اپنے محبوب سے جاملے اور احاطہ مزاکے اندر محبوب الٰہی کے پائنتی میں تدفین ہوئے ۔ (مژگان نیوز نیٹ)
Copyright © 2017 www.misgan.org. All Rights Reserved.