مرثیہ کا فن:سید مجاور حسین رضوی
مسرس، مرثیے کی انتہائی ترقی یافتہ شکل ہے۔ ابتداء میں مرثیہ دو بیتی، مثلث، مربع اور مخمس میں بھی لکھا گیا۔ سودا نے مرثیہ کو مسدس کی شکل میں روشناس کروایا۔ سودا سے قبل بھی مسدس کے فارم میں مرثیے لکھے گئے۔ میر تقی میر، سکندر پنجابی، احمد اور حیدر دکھنی نے کچھ مرثیے مسدس ہی میں لکھے تھے۔ سودا کے بعد بھی مرثیے کے لئے دیگر ہیتیں استعمال کی گئیں ۔ مثلاً غالب نے عارف کے مرثیے میں غزل کا فارم اختیار کیا۔ حالی نے غالب کا مرثیہ لکھا تو ترکیب بند میں اور اقبال نے والدہ کا مرثیہ مثنوی کی شکل میں لکھا۔ محمد علی جوہر، سیماب اکبر آبادی اور حفیظ جالندھری نے مرثیے کے لئے غزل، قطعات اور مخمس کی ہیئتیں اختیار کیں ۔ ان مثالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرثیے کے لئے کوئی ہیئت مخصوص نہیں ، لیکن انیس اور دبیر کے مرثیوں کی مقبولیت کی وجہ سے مسدس کے فارام کو مرثیہ سے مخصوص سمجھا جانے لگا ہے۔
مرثیے کے اجزائے ترکیبی
مرثیہ چونکہ واقعات کربلا پر مبنی ہے اس لئے اس میں واقعات کربلا کی تفصیل بیان ہوتی ہے ۔ مثلاً جاں نثار ان حسین اور خانوہ حسین کی سیر و شخصیت، کردار، جذبات، احساسات، اعزہ سے رخصتی، میدان کار زار میں ان بے سر و ساماں فدائیاں حسین کی آمد، آلات حرب، جنگ کا منظر، گھوڑوں کی تیزی، تلواروں و نیزوں کی چمک دمک، فرات کے کناروں پر یزیدیوں کے پہرے، پیاسوں کی شہادت اور پھر ان کی زخم خوردہ لاشوں پر بین و بکا وغیرہ۔ ان واقعات و بیانات میں ایک منطقی ربط و تسلسل قائم رکھنے کی خاطر مرثیے کے لئے آٹھ اجزائے ترکیبی وضع کئے گئے :
چہرہ (2) ماجرا (3) سراپا (4) رخصت (5) آمد (6) رجز (7) شہادت (8) بین (1)
مرثیے میں اجزائے ترکیبی کا یہ تعین استاد دبیر میر ضمیر نے کیا۔ لیکن اس کی پابندی پوری طرح نہیں ہوسکی۔ خود ضمیر اور بعد میں انیس و دبیر کے یہاں بھی اس کی پابندی نہیں ہوسکی۔ مثلاً مرزا سلامت علی دبیر کا ایک مشہور مرثیہ ہے ’’کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے‘۔ یہ مرثیہ ’’آمد‘ سے شروع ہوتاہے۔
چہرہ
مرثیے میں چہرہ، قصیدہ کی تشبیب کی طرح ہوتا ہے جس میں شاعر حمد، نعت، منقبت حضرت علی ؑ و امام حسین ؑ کے علاوہ مکہ سے سفر، سفر کے پرخطر حالات، گرمی کا موسم، صبح کا موسم بیان کرتا یا پھر اپنی شاعرانہ عظمت، قادر الکلامی، ثنا خوان حسین ہونے پر فخر کا اظہار کرتا ہے۔ کبھی پیاس کی کیفیت کی بیان کرتا ہے۔ عموماً موسم کے بیان میں گرمی کی شدت، صبح کا منظر، چڑیوں کی چہچہاہٹ، شبنم کا پھولوں پر گہرا آبدار بن کر چمکنا وغیرہ قسم کے مناظر تشبیہہ و استعارے اور صنائع بدائع کی زرتابی کے ساتھ قلم بند کرتے ہیں ۔ انیس کے ایک مشہور مرثیے میں صبح کا منظر اس طرح بیان کیا گیا ہے :
وہ دشت، وہ نسیم کے جھونکے، وہ سبزہ زار ۔ ۔ ۔ پھولوں پہ جا بہ جا وہ گہر ہائے آبدار
اٹھنا وہ جھوم جھوم کے شاخوں کا بار بار ۔ ۔ ۔ بالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزار
خواہاں تھے زیب گلشن زہرا جو آب کے
شبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے
سراپا
عموماً یہ ایک طرح سے انصار حسینی کا تعارف ہوتا ہے۔ کبھی کبھی لشکر یزید کے ساتھیوں کا بھی سراپا لکھا گیا ہے۔ سراپا لکھنے میں شاعر اپنا زور قلم صرف کر دیتا ہے، جس سے شاعر کی اپنی محبت و عقیدت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے تو دوسری طرف باطل یعنی یزیدیوں سے تنفر کا احساس ہوتا ہے۔ سراپا بیان کرتے وقت تشبیہات و استعارات سے مدد لی جاتی ہے۔ صنائع بدائع کے خزانے لٹا دئیے جاتے ہیں ۔ دبیر نے ایک مرثیے میں بالکلیہ ہی علحدہ انداز میں تصویرکشی کی ہے۔ ان کہا کہنا ہے کہ وہ تشبیہہ کہاں سے لاوں جو حسن حسینی کی تابش کو سہار سکے۔ کہتے ہیں کہ رخ کو آئینہ کہوں تو سمجھو کہ میں نے کچھ بھی ثنا نہیں کی، آنکھ کو نرگس کہوں تو ان آنکھوں کے لئے کسر شان ہے کیونکہ نرگس میں نہ پلکیں ہیں نہ پتلی نہ بصارت۔
آئینہ کہا رخ کو تو، کچھ بھی نہ ثنا کی ۔ ۔ ۔ صنعت وہ سکندر کی، یہ صنعت ہے خدا کی
گر آنکھ کو نرگس کہوں ، ہے عین حقارت ۔ ۔ ۔ نرگس میں نہ پلکیں ہیں ، نہ پتلی، نہ بصارت
رخصت
میدان جنگ میں جانے کے لئے خیمہ حسین سے ایک بعد دیگرے جانباز، سر پر کفن باندھ کر نکلتے ہیں تو خیمے میں مکیں ، متعلقین اور مستورات انہیں بہ دل بریاں ، بہ چشم گریاں ، بہ لب لرزاں مگر بھرپور قوت ایمانی کے ساتھ رخصت کرتے ہیں ۔ اہل خیمہ کو یقین ہے کہ یہ اب زندہ واپس نہیں آئیں گے۔ اس موقع پر وداع کرنے والے عزیزوں اور پیاروں کے جذبات محبت اور قوت ایمانی کے جو مرقعے مرثیوں میں کھینچے گئے ہیں وہ پڑھنے کے لائق ہیں ۔
آمد میدان جنگ میں آمد کا منظر زیادہ طویل نہیں ہوتا۔ یہ بند رخصت اور رجز سے جڑا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی آمد کے موقع پر گھوڑے کی تعریف بھی کی جاتی ہے۔
رجز
عربوں میں رواج تھا کہ دو حریف جب میدان جنگ میں آمنے سامنے ہوتے تو جنگ شروع ہونے سے قبل ایک دوسرے کو للکارتے، اپنی اور اپنے آبا و اجداد کی شجاعت، طاقت اور خاندانی عظمت، دینداری و قوت ایمانی وغیرہ کا ذکر کرتے تھے، جس میں جوش، غضب اور ولولہ ہوتا تھا۔ اس اظہار کو جو فصاحت و بلاغت کا مرقع ہوتا ہے اصطلاحاً ’ ’رجز‘ کہتے ہیں ۔ سبھی مرثیہ نگاروں نے اس حصے میں بلاغت و فصاحت کے دریا بہادئیے ہیں ۔ انیس کے ایک مرثیے سے رجز کا ایک بند ملاحظہ ہو۔ یہ رجز حضرت امام حسین ؑ کی زبانی ہے۔
دنیا ہو اک طرف تو لڑائی کو سر کروں ۔ ۔ ۔ آئے غضب خدا کا ادھر، رخ جدھر کروں
بے جبرئیل کار قضا و قدر کروں ۔ ۔ ۔ انگلی کے اک اشارے میں شق القمر کروں
طاقت اگر دکھاؤں ، رسالت مآبؐ کی
رکھ دوں زمین پہ چیر کے ڈھال آفتاب کی
رجز
یہ مرثیے کا نہایت ہی اہم حصہ ہوتا ہے جس میں شاعر میدان جنگ کی تیاری، فوجوں کے ساز و سامان، گھوڑوں کی تعرے، ان کا غیض و غضب، براق کی سی تیز رفتاری، تلواروں کی چمک، نیزوں کی کڑک، سپاہیوں کی پھرتی، بے جگری سے لڑائی، جاں توڑ مقابلہ وغیرہ، ان تمام حالتوں اور کیفیتوں کو بڑی خوبی سے بیان کرتا ہے، جس سے اس کی بلندی خیال اور قوت اظہار کا پتہ چلتا ہے۔ یہ اشعار دیکھئے جن میں میدان جنگ کی تصویر ہو بہو سامنے آجاتی ہے۔
نیزے ہلے، وہ چل گئیں چوٹیں کہ الاماں ۔ ۔ ۔ ہر طعن قہر کی تھی، قیامت کی ہر تکاں
چنگاریاں ، اڑیں جو سناں سے لڑیں سناں ۔ ۔ ۔ وہ اژدہے گتھے تھے، نکالے ہوئے زباں
پھیلے شرر پرندوں کی جانیں ہوا ہویں
شمعوں کی تھیں لویں کہ ملیں اور جدا ہویں
شہادت
مرثیوں میں یہ حصہ بھی بڑا جاندار ہوتا ہے کیونکہ اسی بیان پر بین کی شدت کا انحصار ہوتا ہے۔ اس حصے میں فوج حسینی کے شہید کی میدان میں جرأت، بہادری اور فن سپاہ گری کے کمالات بیان کرتے ہوئے زخموں سے چور چور نڈھال ہوکر گرجانے اور شہادت پانے کا ذکر آتا ہے۔ یہ مرثیہ کا بڑا دلدوز حصہ ہوتا ہے۔ حضرت علی اکبر کی شہادت پر امام حسین ؑ کا حال زار اور کیفیت انیس اس طرح بیان کرتے ہیں : ح۔ضرت یہ کہتے تھے کہ چلا خلق سے پسر ۔ ۔ ۔ اتنی زباں ہلی کہ خدا حافظ اے پسر ہچکی جو آئی، تھام لیا ہایتھ سے جگر ۔ ۔ ۔ انگڑائی لے کے رکھ دیا شہ کے قدم پہ سر آباد گھر لٹا شہ والا کے سامنے بیٹے کا دم نکل گیا بابا کے سامنے مرثیہ کا آخری جزو بین ہوتا ہے، جس میں مجاہد کی شہادت اور لاش کو خیمے میں لانے، خواتین کے رنج و الم اور بین و بکا کے جذبات کی عکاسی کی جاتی ہے۔ یہی دراصل مرثیے کا مقصد و منشاء ہوتا ہے۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ اس حصے کو اتنا پراثر اور جاندار بنادے کہ مجلس برپا ہوجائے۔ کہین کو مرثیہ شہدائے کربلا اور واقعات کربلا کے حالات بیان کرنے لکھا جاتا ہے، لیکن مرثیہ گو کی شان تخلیق اور قوت اظہار سے مرثیہ ایک ادبی شہکار بن جاتا ہے۔ اس ادبی شہکار میں وحدت میں کثرت کے جلوے نظر آتے ہیں ۔ اس میں قصیدے کی شان و شکوہ، جلالت و بلاغت ہوتی ہے۔ مثنوی کی سادگی و سلاست اور قصہ پن، منظر نگاری، جذبات نگاری، کردار نگاری، مکالمہ نگاری، محاکات کے جاندار وسیع و ہمہ گیر مرقعے نظر آتے ہیں ۔ کردار نگاری میں عموماً انیس نے اس بات کا لحاظ رکھا ہے کہ مکالمے کردار سے مطابقت رکھتے ہوں ۔ صغریٰ، سکینہ، عون و محمد بچے ہیں تو وہ بچوں کی سی باتیں کرتے ہیں ۔ حضرت عباس غصہ ور جوان ہیں تو وہ جوشیلی گفتگو کرتے ہیں ، عوتیں اپنے لب و لہجے روز مرہ و محاوروں کا استعمال کرتی ہیں ۔ مرثیوں سے تشبیہ و استعارے کے خزانے میں بیش بہا اضافہ ہوا ہے۔ زندگی میں بعض مواقع آتے ہیں کہ آدمی کی قوت گویائی ساتھ نہیں دیتی۔ مرثیہ گویوں نے ایسے نازک موقعوں پر الفاظ کے موتی لٹا دئیے ہیں ۔ حسن تعلیل کی ایک خوبصورت مثال دیکھئے :
پیاسی جو تھی سپاہ خدا تین رات کی
ساحل سے سر پٹکتی تیں موجیں فرات کی
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.