1857کئی فسانے ۔ ۔ ۔ ایک حقیقت
مولانا ابو الکلام آزاد
(ایس این سین کی کتاب اٹھارہ سو ستاون (1857)پہلی جنگ آزادی کی صد سالہ برسی کے موقع پر شائع ہوئی تھی۔ یہ کتاب حکومتِ ہند کی ایما پر لکھی گئی تھی۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے جو اس وقت وزیر تعلیم تھے اس کتاب کا مقدمہ تحریر کیا تھا۔ یہ مقدمہ (1857) کی جد و جہد کا ایک اہم جز ہے)
آج سے تقریباً پانچ سال قبل انڈین ہسٹار یکل ریکار ڈس کمیشن (Indian Historical Records commission) کے سالانہ اجلاس میں، میں نے 1857 کی جسے عام طور پر سپاہیوں کی بغاوت کا نام دیا جاتا ہے، کی ازسرِ نو تاریخ لکھے جانے پر زور دیا تھا۔ اگر ہم ان میں سے صرف مشہور تاریخ دانوں کی کتابوں کو ہی لیں تو ان کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔ اس کے باوجود مجھے محسوس ہوا کہ ابھی تک اس عظیم جد و جہد کی کوئی معروضی تاریخ نہیں لکھی گئی ہے۔ جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہیں وہ سب انگریزوں کے نقطہ نگاہ کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔
ایک عرصے تک اس عظیم جد و جہد کی مقصدیت کو لے کر پورے ہندوستان میں اور باہر بھی عجیب طرح کا تنازعہ بنا رہا۔ اس موضوع پر جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہیں ان سب میں اسے قانون کے مطابق ہی اس وقت کی حکومت کے خلاف ہندوستانی فوج کی بغاوت کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ تو مانا کہ کچھ ہندوستانی رجواڑوں نے بھی بغاوت کا ساتھ دیا لیکن یہ ایسی حکومتیں تھیں جنہیں لارڈڈلہوزی کے ذریعہ قبضہ کیے جانے کی وجہ سے شکایتیں پیدا ہو گئی تھیں۔ ایسے مورخین کا کہنا ہے کہ برٹش حکومت جو اس وقت ملکہ کی قانونی اور جائز حکومت تھی، اس نے بغاوت کو فرو کر دیا اور دوبارہ قانون کی حکومت قائم کر دی۔
اس موضوع پر جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہیں ان سب میں 1857 کے واقعات کو اسی طریقے سے بیان کیا گیا ہے اور اسے کسی دوسرے نقطہ نگاہ سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ تاہم یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا جائز حق صرف اتنا ہی تھا کہ وہ مغل شہنشاہ کے دیوان یا ایجنٹ کی حیثیت سے بنگال،بہادر اور اڑیسہ کی مال گزاری وصول کر ے۔ اس کے بعد سے کمپنی نے جن علاقوں کو حاصل کیا وہ فوج کی فتح کی وجہ سے، لیکن کہیں بھی کمپنی نے شہنشاہ کی ملکیت اور علاقائیت کے اختیار کو چیلنج نہیں کیا اور جب فوج نے کمپنی کے ان حقوق کو ماننے سے انکار کر دیا تو اس نے شہنشاہ سے اس بات کے لیے اپیل کی۔ اس لیے یہ بحث کا موضوع بن سکتا ہے کہ کیا ہندوستانی افواج کی بغاوت کو ملک کی مستحکم حکومت کے خلاف بغاوت یا غداری کا نام دیا جا سکتا ہے ؟ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ جہاں زیادہ تر مصنفین نے ہندوستانی عوام اور خواص کے ذریعہ یوروپین مرد عورت اور بچوں پر کئے گئے مظالم کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے، وہاں بہت کم لوگوں نے اتنی ہی تفصیل سے ہندوستانیوں پر کیے گئے انگریزوں کے مظالم کو بیان کیا ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ بیسویں صدی کی ابتداء میں اس بغاوت کے سلسلہ میں تین جلدوں پر مشتمل جو تاریخ لکھی گئی،اس کا ذکر ضروری ہے۔ یہ تاریخ بھی مکمل طور پر انہیں دستاویزوں پر مشتمل ہے جو امپیریل ریکارڈس ڈیپارٹمنٹ کے آرکائیوز میں موجود تھی اور جسے اب نیشنل آرکائیوز آف انڈیا کا نام دیا گیا ہے اور یہ ایک عام بات ہو گئی ہے کہ پچاس سال کے بعد سبھی سرکاری دستاویزوں کو ریسر چ اسکالر کو دکھایا جاتا ہے۔ یہ بات بھی یونائٹیڈ برٹین کے اس فیصلے کے بعد رائج ہوئی جو نپولین سے جنگ کے بعد برٹش حکومت نے کیا تھا اور یورپ کے دوسرے ممالک نے بھی یہی رویہ اختیار کیا۔ 1907 میں ہندوستانی بغاوت کے پچاس سال پورے ہوئے اور شاید اس وقت کی حکومت نے محسوس کیا کہ 1857 کی تاریخ سرکاری دستاویزوں کو لے کر لکھی جائے جوا ب ریسرچ کے لیے سبھی کو حاصل ہونے والی تھی۔
یہ تاریخ بھی اگر چہ آفیشیل ریکارڈ پر مبنی ہے اور اسی طرح سے ا س جد و جہد کو بیان کر تی ہے جس طرح انگریزی مصنفین کی لکھی ہوئی کتابیں۔ اس کتاب کی اشاعت میں صرف ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے۔ مصنف نے واضح طور پر اظہار کیا ہے کہ جہاں تک اودھ کا تعلق تھا یہاں کی جنگ میں قومی سطح پر بغاوت کے آثار پائے جاتے تھے۔ حال ہی میں کمپنی نے ایک ہندوستانی بادشاہ سے بہت کچھ چھینا تھا اور عوام اس حملے کے زبردست مخالف ہو گئے تھے۔ اور اس لیے وہ کمپنی کے خلاف بغاوت کرنے کو اپنا جائز حق سمجھتے تھے کیوں کہ کمپنی نے اودھ کے ساتھ نا انصافی کی تھی۔ تاہم اودھ کی بغاوت میں قومی پیمانے پر بغاوت کی چنگاری کا پایا جانا کوئی نیا انکشاف نہیں تھا کیوں کہ لارڈ کیننگ نے بھی اپنے سرکاری مراسلوں میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اودھ کی جدو جہد ایک طرح سے قومی پیمانے کی مزاحمت تھی۔ اس لیے کتاب ہٰذا کے مصنف کو ان باتوں کو دہرانے میں کوئی قباحت نہیں ہوئی،جس کا اعتراف خود لارڈکیننگ پہلے کر چکا تھا۔ مصنف نے یہ بھی کہا ہے کہ شاید اودھ کے تعلق داروں کے ساتھ اودھ پر قبضے کے بعد جو رحم دلی دکھائی گئی تھی غالباً وہ اسی حقیقت کے اعتراف میں تھی۔ جیسا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں میں نے محسوس کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ 1857کی تحریک کی ایک نئی اور معروضی تاریخ لکھی جائے۔ 1954 کے موسم خزاں میں میرا ذہن اس موضوع کی طرف دوبارہ متوجہ ہوا اور میں نے محسوس کیا کہ بغاوت کے صد سالہ جشن کے دوران ہی وہ مناسب موقع ہو گا جب اس کی نئی اور عالمانہ تاریخ لکھی جائے۔ بغاوت کی پہلی چنگاری 10مئی 1857 وہ نیک ساعت ہو گی جب اس جدو جہد کی مکمل اور جامع تاریخ شائع کی جائے۔
یہ سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ اس بغاوت کے لیے کون لوگ ذمہ دار تھے۔ اس طرح کا مشورہ دیا گیا ہے کہ کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے مل کر منصوبہ بنایا اور ایسی اسکیم وضع کی جس کے تحت اس تحریک کی ابتدا ہونی تھی۔ میں ا س بات کا اعتراف ضروری سمجھتا ہوں کہ اس پہلو پر مجھے شک ہے کیوں کہ غدر کے زمانے میں اور اس کے بعد بھی برٹش حکومت نے اس بات کی بہت زیادہ تفتیش کی تھی کہ اس بغاوت کے اسباب کیا تھے۔ لارڈ سیلس بری نے ہاؤس آف کا منس میں یہ بیان دیا تھا کہ اس بات کو قبول کرنے کے لیے قطعی تیار نہیں کہ اتنے وسیع پیمانے پر پھیلی اتنی طاقت ور تحریک صرف چربی ملی گولی کو لے کر پیدا ہوئی تھی۔ انہیں یقین تھا کہ جو کچھ سطح پر نظر آتا ہے اس کے پس پشت کچھ اور بھی باتیں تھیں۔ حکومت ہند اور پنجاب کی حکومت نے بھی اس سوال کا مطالعہ کرنے کے لیے بہت سے کمیشن بنائے۔ اس زمانے میں پھیلی سبھی افواہوں کا بغور مطالعہ کیا گیا۔ ایک کہانی یہ بھی مشہور ہوئی تھی کہ چپاتیوں کے اندر رکھ کر اطلاعات بھیجی گئیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک پیشن گوئی تھی کہ ہندوستان میں برٹش حکومت کا خاتمہ جون 1875 میں پلاسی کی جنگ کے سو سال پورا ہونے پر ہو جائے گا۔ بہت زیادہ تفتیش اور جانچ پڑتال کے بعد بھی اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ بغاوت پہلے سے منصوبہ بند تھی اور یہ کہ فوج اور ہندوستانی عوام اس سازش میں مشترکہ طور پر شامل تھے کہ وہ کمپنی کی حکومت کو اکھاڑ پھینکیں۔ میرا یہی خیال ایک زمانے سے تھا اور بعد میں اس سلسلہ میں جو بھی ریسرچ کی گئی اس سے کوئی نئی حقیقت ایسی سامنے نہیں آئی جس سے میرے خیالات میں کوئی تبدیلی ہو سکے۔
بہادر شاہ ظفر مقدمے میں اس بات کی کوشش کی گئی کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ پہلے سے سوچی سمجھی سازش میں شامل تھے۔ جو بھی گواہیاں پیش کی گئیں،ان سے وہ برٹش حکمراں بھی مطمئن نہیں ہو سکے جو مقدمہ چلا رہے تھے اور اس طرح کی افواہوں کو ہر ذی شعور آدمی صرف افواہ سمجھنے پر مجبور ہے،بلکہ مقدمے کے دوران بھی سرف یہی بات سامنے آئی کہ تحریک سے نہ صرف خود بہادر شاہ بلکہ انگریز بھی حیرت میں پڑ گئے تھے۔ اس صدی کے ابتدائی سالوں میں کچھ ہندوستانیوں نے بھی اس جدو جہد کے بارے میں لکھا ہے۔ لیکن اگر سچ بات کہنی ہو تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ جو بھی کتابیں انہوں نے لکھی ہیں، وہ تاریخ نہیں ہیں بلکہ سیاسی پروپیگنڈہ ہیں۔ ان کے مصنفین نے اس جدو جہد کو ہندوستان کی آزادی کی منصوبہ بند جنگ کا نام دیا ہے جسے ہندوستانی امراء نے برٹش حکومت کے خلاف چلایا تھا۔ انہوں نے چند افراد کو اس بغاوت کو منظم کرنے کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یہ کہا گیا کہ نانا صاحب جو پیشوا باجی راؤ کا جانشین تھا، اس نے تمام ہندوستانی فوجی تنظیموں سے تعلقات استوار کر کے اس کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے ثبوت میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ نانا صاحب لکھنؤ اور انبالہ مارچ اور اپریل 1857 میں گئے تھے اور اس کے بعد مئی 1857 میں اس جدو جہد کا آغاز ہوا۔ صرف اتنی سی بات کو اس با ت کے لیے وافر ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔
اس طرح کے خیالات کس قدر بے بنیاد اور افواہ پر مبنی ہیں، یہ ا س وقت واضح ہو جاتا ہے جب اس طرح کے مورخین اودھ کے وزیر علی نقوی خان کو اس جنگ کے لیے خاص سازش کرنے والا بتاتے ہیں۔ جس کسی نے بھی اودھ کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے وہ اسے حد سے زیادہ مضحکہ خیز سمجھے گا کیوں کہ علی نقوی خاں ایسٹ انڈیا کمپنی کے پٹھو تھے۔ یہ وہی شخص تھا جس پر انگریزوں نے اعتماد کر کے انہیں واجد علی شاہ کو اس بات کے لیے تیار کرنے کو کہا تھا کہ وہ اپنی حکومت کو اپنی مرضی سے انگریزوں کے سپر د کر دیں۔ بلکہ برٹش ریزیڈنٹ جنرل آوٹ رام نے علی نقی خاں سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے تو انہیں بہت زیادہ انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔ علی نقی خان اپنے اس منصوبے کے لیے اس طرح سے جی توڑ کر کوشش کر رہے تھے کہ واجد علی شاہ کی ماں کو خوف پیدا ہوا کہ اس طرح کسی بہانے سے وہ تخت حاصل کر لے گا۔ ا سلیے انہوں نے حکومت کی مہر کو فوری طور پر اپنے قبضے میں کر لیا اور زنان خانہ میں اسے رکھا اور یہ حکم جاری کر دیا کہ ان کی اجازت کے بغیر یہ کہیں نہیں جا سکتی۔ یہ ساری باتیں لکھنؤ کے عوام کو معلوم تھیں اور اسی لیے وہ علی نقوی خاں کو غدار کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ اس لیے یہ کہنا کہ ایسا شخص بغاوت کے پس پردہ سب سے بڑا سازشی تھا، بالکل ہی غلط ہو جاتا ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ منشی عظیم اللہ خان اور رنگو باپوجی دونوں نے مل کر اس بغاوت کا منصوبہ بنایا تھا۔ عظیم اللہ خان،نانا صاحب کا ایجنٹ تھا اور نانا صاحب نے اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے انہیں لندن بھیجا تھا تاکہ وہ ان کے لیے وہ پنشن حاصل کر سکے جو باجی راؤ کو دی جا رہی تھی۔ ہندوستان واپس آنے سے پہلے وہ ترکی گئے جہاں کریمیا کی جنگ میں ان کی ملاقات عمر پاشا سے ہوئی۔ اسی طرح رنگو باپوجی بھی ڈلہوزی کے فیصلے کے خلاف، جس کے مطابق ستارہ کو برٹش حکومت میں شامل کر لیا گیا تھا،اپیل کرنے کے لیے گئے ہوئے تھے۔
صرف اتنی سی بات کو، کہ وہ الگ الگ مقاصد کے تحت لندن گئے تھے،یہ مان لیا گیا ہے کہ ان د ونوں نے مل کر وہاں اس طرح کی سازش رچی۔ یہاں یہ بات بالکل صاف ہونی چاہیے کہ اس طرح کی قیاس آرائیوں کو شہادت نہیں مانا جا سکتا۔ اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ان باتوں پر انہوں نے لندن میں کوئی بات بھی کی تو اس سے نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ اس بغاوت کے وہی محرک تھے، جب تک کہ ہندوستان میں بعد میں ہونے والے واقعات کا سلسلہ ان سے نہ مل جائے۔ ایسے رشتوں کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ کسی ریکارڈ یا گواہی کی عدم موجودگی میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس بغاوت کے لیے انہوں نے کوئی سازش رچی تھی۔ کانپور کے نزدیک بٹھور پر قبضہ ہونے کے بعد انگریزوں نے نانا صاحب کے سبھی کاغذات اپنے قبضہ میں کر لیے تھے، ان کاغذات میں ایک خط عمر پاشا کے نام بھی تھا جو انہیں کبھی نہیں بھیجا گیا۔ اس خط میں انہیں اطلاع دی گئی تھی کہ ہندوستانی فوجیوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔ نہ تو اس خط میں اور نہ عظیم اللہ خان کے دوسرے کاغذات میں ایسا کوئی اشارہ ملتا ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ انہوں نے اس بغاوت کے لیے کوئی ساز ش کی تھی۔
جو بھی ثبوت موجو دہیں ان سے ہم اس نتیجہ پر پہنچنے کے لیے مجبور ہیں کہ 1857 کی بغاوت نہ تو کسی منصوبہ بند سازش کا نتیجہ تھی اور نہ ہی اس کے پیچھے کوئی سازشی دماغ کا م کر رہا تھا۔ جو کچھ بھی ہو ا وہ صرف اتنا کہ کمپنی کی سو سالہ حکومت کے دوران ہندوستانی عوام اس سے ناراض ہو چکے تھے کیوں کہ کمپنی نے شروع میں یہ عمل دخل نواب یا شہنشاہ کے نا م پر دینا شروع کیا اور بہت دنوں تک ہندوستانیوں کو یہ محسوس ہی نہیں ہو سکا کہ غیر ملکی لوگوں نے یہاں کا اقتدار حاصل کر لیا ہے۔ اور جب انہیں یہ احساس ہوا کہ خود اپنے ملک میں انہیں غلام بنا لیا گیا ہے تو ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ وہ اسکے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ اگر یہ پوچھا جائے کہ اس بغاوت کے پھیلنے میں سو سال کی مد ت کیوں لگی ؟تو اس کا جواب مندرجہ ذیل حقائق میں مل جائے گا۔ ہندوستان میں برٹش طاقت کے فروغ جیسی کوئی دوسری مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ یہ کسی ایک ملک کے ذریعہ کسی دوسرے ملک پر فوری طور پر فتح پاکر قابض ہونے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ کسی ملک میں دھیرے دھیرے داخل ہونے کی کہانی ہے جس میں خود ملک کے عوام نے حملہ آوروں کی مدد کی۔ یہ حقیقت بھی کہ انگریزوں نے فتح برٹش تاج کے نام پر نہیں حاصل کی اور اس وجہ سے وہ اپنے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے۔ اگر برطانیہ کی حکومت نے شروع سے ہی ہندوستانی معاملات میں دخل اندازی کی ہوتی تو ہندوستانیوں کو یہ احساس ہو جاتا کہ ایک غیر ملکی طاقت مل میں داخل ہو رہی ہے۔ چونکہ یہ ایک تجارتی کمپنی تھی، اس لیے لو گوں نے اسے اصل حکمراں نہیں سمجھا۔ اسی لیے کمپنی ایجنٹس نے اپنا معاملہ اس طرح طے کیا جس طرح کوئی اور غیر ملکی حکمراں کے ایجنٹس نہیں کر سکتے تھے۔ برٹش تخت کا کوئی بھی ایجنٹ مغل دربار کے شہزادوں اور بٍا اثر لوگوں کے اشارے پر کام کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا۔ کمپنی کے ایجنٹ کو اس طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے اہلِ کاروں کے سامنے بھی اسی طرح جھک جاتے جیسے ہندوستانی تجارت پیشہ لوگوں کے سامنے۔ انہوں نے رشوت بھی دی اور بہت سی بدعنوانیاں بھی کیں۔ اور انہیں کبھی یہ خوف نہیں ہوا کہ ان کا بادشاہ انہیں اس کام کے لیے سزا دے گا۔
یہ بھی نوٹ کرنے کی بات ہے کہ کمپنی نے کبھی کوئی مداخلت اپنے نام سے نہیں کی۔ اس نے ہمیشہ اپنے مفاد کو آگے رکھنے کے لیے کسی مقامی سردار کا سہار ا لیا۔ اس طرح کمپنی نے جنوب میں کرناٹک کے نواب کے دعوے کی حمایت کرتے ہوئے اپنی طاقت بڑھائی۔ اسی طرح بنگال میں اس نے مرشدآباد کے نواب ناظم کے نام اور حکم کے تحت اپنے اختیارات وسیع کیے ۔ حد تو یہ ہے کہ جب بنگال کی اصل حکمرانی اس کے ہاتھ آئی تو بھی اس نے اپنے کو خود مختار حکمراں نہیں سمجھا۔ لارڈ کلائیو نے شہنشاہ سے درخواست کی کہ اسے دیوانی کے اختیارات دے دیئے جائیں اور کئی دہائیوں تک کمپنی نے شہنشاہ کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کیا۔ یہی نہیں بلکہ کمپنی نے دوسرے صوبے کے گورنروں اور صوبے داروں کے قوانین کی بھی اتباع کی۔ صوبوں میں گورنروں کی اپنی مہر ہوا کرتی تھی لیکن انہوں نے خود کو ہمیشہ مغل شہنشاہ کا خادم ہی بتایا۔ گورنر اور صوبے دار دلی میں شہنشاہ کی آمد کے منتظر رہتے اور جب وہ لوگوں کے سامنے آتا تو جھک کر ان کی تعظیم کرتے، اسے ہدیہ اور تحائف پیش کرتے اور پھر بعد میں شہنشاہ سے خلعت حاصل کرتے۔ گورنر جنرل نے بھی اسی طرح شہنشاہ کی تعظیم کی اور 101 اشرفیوں کی نذر پیش کی۔ اس کے جواب میں شہنشاہ نے انہیں خلعت اور خطاب سے نوازا اور یہ خطاب گورنر جنرل ہمیشہ سارے دستاویزوں میں استعمال کرتا۔ اس طرح ملک میں شہنشاہ کی بادشاہت کا بھرم قائم رکھا گیا۔ لوگوں کو بہت بعد میں یہ احساس ہوا کہ خود کمپنی دھیرے دھیرے اس ملک پر بٍا اختیار حکمراں ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ 19ویں صدی کی دوہائیوں تک چلتا رہا۔ اس وقت تک کمپنی کی حکومت دریائے ستلج تک وسیع ہو چکی تھی۔ تب اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ہٹٹنگز کو یہ خیال ہو ا کہ اب وقت آگیا ہے کہوہ خود اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے اور دھیرے دھیرے شہنشاہ سے اپنا رشتہ منقطع کر لے۔ اس سلسلہ میں اس نے پہلی چال یہ چلی کہ جب کبھی وہ شہنشاہ کے سامنے آئے تو اسے بیٹھنے کی اجازت ملے اور اس کو نذرانے کی روایت سے مستثنیٰ کیا جائے۔ شہنشاہ نے اس کی ا ن دونوں درخواستوں کو مسترد کر دیا اور کچھ وقتوں تک گورنر جنرل نے کوئی اصرار بھی نہیں کیا۔
پھر کمپنی نے شہنشاہ کی طاقت گھٹانے کے لیے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دلی سے آزاد ہونے کے لیے اکسایا۔ اس سلسلہ میں حیدرآباد کے نظام سے پہل کی گئی۔ اس سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنی خود مختار بادشاہت کا اعلان کر دے۔ نظام اس سے متفق نہیں ہوئے۔ لیکن انگریزوں کو ایسا ایک سہار ا اودھ کے نواب وزیر سے مل گیا۔ اودھ نے فوری طور پر بادشاہ کے زیر اثر صوبے سے آزاد ہونے کا اعلان کر دیا اور پھر شہنشاہ سے ساری وفاداری منقطع کر لی۔ 1835 تک کمپنی نے اپنے کو خود اتنا مضبوط کر لیا کہ اس نے پہلی بار اپنے سکے ڈھالے جس میں بادشاہ کا نام نہیں دیا گیا۔ بہت سے لوگوں کو اس سے صدمہ ہوا۔ تب انہیں احساس ہوا کہ شہنشاہ کے ایجنٹ یا تجارت سے نکل کر کمپنی خود ہندوستان کے ایک وسیع علاقے کی مالک بن بیٹھی ہے۔ 1835 میں ہی ایک فیصلہ اور ہوا کہ عدالتوں کی زبان فارسی کے بجائے انگریزی کر دی جائے۔ ان سب عوامل سے لوگوں میں یہ احساس ہوا کہ اب کمپنی کے رتبے میں تبدیلی آ گئی ہے۔ اس احساس سے لوگوں کے دماغ پریشان ہو گئے۔ اور پریشانی صرف عوام کو ہی نہیں بلکہ مسلح افواج کے لوگوں کو بھی لاحق ہو گئی۔
انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں حالات کا اندازہ ہمیں اس مطالعے سے ہو سکتا ہے جسے ایک معروف برٹش شہری نے اس زمانے میں پیش کیا تھا۔ عزت مآب فریڈرک جان شور، سر جان شور کے لڑکے تھے اور مختلف حیثیتوں سے بنگال پریزیڈنسی کے شمال مغربی خطے میں پولیس مال گزاری اور عدلیہ میں کام کر چکے تھے۔ اس نے انڈین گزٹ میں گمنام طریقے سے بہت سے مضامین لکھے۔ یہ انڈین گزٹ کلکتہ سے نکلنے والا ایک روزنامہ تھا اور اس نے 1837 میں ان مضامین کو جمع کر کے، انڈین افیرز، پر نوٹس کے نام سے ایک کتاب شائع کی۔ اس کتاب کے پڑھنے سے اس زمانے میں ہندوستانیوں کے ذہن کی مکمل عکاسی ہو جاتی ہے۔ اس نے بار بار اس بات کو دہرایا کہ گرچہ ظاہری طور پر ہر طرف امن وامان قائم ہے لیکن یہ حالات اس ڈائنا مائٹ کی طرح ہیں جن میں ذرا سی چنگاری سے ہر طرف آگ کے شعلے نظر آنے لگیں گے۔ یہ وہی بڑھتی ہوئی بے چینی تھی جو 1837 کی بغاوت کی شکل میں تبدیل ہوئی۔
اس بے چینی کو دو عوامل کی وجہ سے بغاوت میں تبدیل ہونے میں کوئی وقت نہیں لگا۔ ایک تو وہ نئی پالیسی تھی جسے مسٹر تھامسن شمالی مغربی صوبے کے لیفٹینٹ گورنر (بعد میں آگرہ اور اودھ) نے وضع کیا تھا۔ شروع میں کمپنی نے اس پالیسی کی حمایت کی تھی کہ زمین داروں کا ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جائے جو ہمیشہ سرکار کا حمایتی رہے۔ تھامسن کا خیال اس سے جدا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ بڑے بڑے امراء اور زمینداروں کا وجود کمپنی کے لیے کبھی بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ ا س کا خیال تھا کہ اس لیے ایک طبقے کی حیثیت سے زمینداروں کو ختم کیا جانا چاہیے اور سرکار کو چاہیے کہ وہ رعایا سے خود اپنا تعلق قائم کرے۔ اس نئی پالیسی کے نتیجہ میں کمپنی نے ہر حیلہ اور بہانے سے کام لیا کہ کسی طرح امراء اور زمینداروں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر دیا جائے،خاص طور سے یہ کہہ کر کہ وہ خود سرکار کے تحت کا شکار ہیں۔ سب سے زیادہ فیصلہ کن وہ دوسری پالیسی تھی جسے ڈلہوزی نے وضع کیا تھا اور جس میں رفتہ رفتہ ایک کے بعد ایک ہندو ستانی ریاستوں کو برٹش علاقے میں شامل کیا جا رہا تھا۔ اس میں ہندوستان، امراء کے آخری دور سے گزر رہا تھا۔ امراء اور زمینداروں کے تحت لوگوں کی وفاداری صرف اپنے امیر یا زمینداروں سے ہوتی۔ اس وقت ملک یا قوم سے وفاداری کا کوئی تصور نہیں تھا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ ایک کے بعد ایک ہندوستانی ریاستوں کو انگریزوں کا باجت گزار بنایا جا رہا ہے اور رفتہ رفتہ زمینداری کے نظام کو ختم کیا جا رہا ہے تو اس سے بھی انہیں بہت دھکا لگا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اب کمپنی اپنے اصل رنگ میں سامنے آ رہی ہے اور وہ دھیرے دھیرے ہندوستانی سماجی اور سیاسی نظام کو تبدیل کرتی جا رہی ہے۔ یہ بے چینی اپنے عروج کو اس وقت پہنچی جب اودھ کمپنی نے قبضہ کر لیا۔ اودھ ایک ایسا صوبہ تھا جو ستر سالوں سے کمپنی کا حلیف تھا۔ اس پورے عرصے میں اودھ نے کبھی بھی برٹش مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ اس کے باوجود جب کمپنی نے بادشاہ کو تخت چھوڑنیکے لیے مجبور کیا اور سلطنت پر اپنا قبضہ کر لیا تو لوگوں کو بہت زیادہ صدمہ پہنچا۔
اودھ کی شکست کا سب سے بڑا اثر آبادی کے اسی علاقے پر پڑا کیوں کہ بنگال آرمی کے زیادہ تر فوجی اسی علاقے سے بھرتی کیے جاتے تھے۔ انہوں نے کمپنی کی ہر طرح سے وفاداری کے ساتھ خدمت کی تھی اور ملک کے وسیع علاقے میں اس کی حکومت قائم کرنے میں معاون رہے تھے۔ انہیں بھی اچانک احساس ہوا کہ ان کی خدمات کی بدولت کمپنی کو جو اختیار حاصل ہوا ہے اس کا استعمال انہوں نے خود ان کے بادشاہ کو ختم کر نے میں کیا ہے۔ میرے دل میں ذرا بھی اس بات کے لیے شک نہیں ہے کہ 1856 میں جب اودھ پر قبضہ کیا گیا اسی وقت سے فوجیوں میں اور خصوصاً بنگال آرمی میں بغاوت کا موڈ پیدا ہو گیا تھا اور یہیں سے لوگوں نے سوچنا شروع کیا کہ اب کمپنی کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔ بغاوت کے دوران لارنس اور دوسروں نے عام سپاہی کے خیالات کو جاننے کی کوشش کی اور اس نظریے کی حمایت میں بہت سے شواہد موجود ہیں۔ چربی ملی گولیوں کی فراہمی سے فوج میں کوئی نئی بے چینی نہیں پیدا ہوئی لیکن اس نے یہ موقع ضرور فراہم کر دیا کہ دبی ہوئی چنگاری شعلہ بن کر سامنے آ گئی۔
ابتدا میں ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستانیوں کے جذبات کا بہت لحاظ کرتی تھی۔ اس نے ہندوستانی احساسات کا پورا لحاظ رکھا اور اونچی ذات کے لوگوں کے ساتھ بہت اچھا رویہ روا رکھا۔ گورنر جنرل کونسل کے ممبران کی ایک روایت یہ رہی کہ وہ امراء کا اپنے دروازے تک آ کر استقبال کرتے، واپسی میں انہیں رخصت کرنے بھی جاتے اور ایسا ہر اس شخص کے ساتھ کیا جاتا جس کا سماج میں کوئی مرتبہ ہوتا۔ جیسے جیسے وہ طاقت ور ہوتی گئی، اس نے ہندوستانی جذبات کا خیال رکھنا چھوڑ دیا۔ نئے نئے قوانین وضع کیے گئے اور اس بات کا کوئی خیال نہیں کیا گیا کہ اس پر ہندوستانیوں کا تاثر کیا ہو گا۔ تاہم اس بات کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ اس نے اس طرح کی حرکت اپنی لاعلمی کی وجہ سے کی نہ کہ کسی تحقیر آمیز جذبے سے۔ سارے معاملات کا نظم گورنر جنرل ایک کونسل کی مدد سے کرتے جس کے سبھی ممبران صرف انگریز ہوتے۔ شاید کونسل میں کسی ہندوستانی کو شامل کیے جانے کا خیال ہی خود کونسل کے لیے بہت حیرت انگیز ہوتا اور کوئی ایسا نمائندہ ادارہ بھی نہیں تھا جس سے حکمراں رعایا کے تاثرات کو سمجھ سکتے۔ اس طرح لوگوں کے خیالات سے واقف ہونے کا ا س کے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ کمپنی اور اس کی رعایا کے درمیان خلیج بڑھتی ہی گئی۔
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.